ٹرمپ کی اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی سفارتی آداب - (ریاستی وقار بمقابلہ سوقیانہ طرزِ بیان)۔ بقلم : اسماء جبین فلک۔


ٹرمپ کی اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی سفارتی آداب - 
 (ریاستی وقار بمقابلہ سوقیانہ طرزِ بیان)
بقلم : اسماء جبین فلک۔

حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر ایران کے بارے میں ایک نہایت سخت، دھمکی آمیز اور غیر شائستہ پیغام نشر کیا جسے متعدد عالمی ذرائع ابلاغ نے غیر معمولی اشتعال انگیز قرار دیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس تحریر میں انہوں نے ایران کے لیے "بجلی گھر کا دن" اور "پل کا دن" جیسی تعبیریں استعمال کیں، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا، اور خلافِ معمول سخت اور سوقیانہ لہجے میں یہ تاثر دیا کہ حکم نہ ماننے کی صورت میں ایران کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ بعض رپورٹوں میں یہ بھی آیا کہ اس پیغام میں ایرانی قیادت کے لیے تحقیر آمیز الفاظ استعمال کیے گئے، جس کے باعث یہ تحریر محض ایک سیاسی انتباہ نہیں رہی بلکہ کھلی تذلیل اور دھونس کا اظہار بن گئی۔
یہیں سے اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ ایک ریاستی سربراہ جب جنگی فضا میں گفتگو کرتا ہے تو اس کے الفاظ صرف ذاتی جذبات کے عکاس نہیں ہوتے، بلکہ وہ پوری ریاست کے سیاسی مزاج، سفارتی ترجیحات اور اخلاقی سطح کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی لیے ٹرمپ کی یہ تحریر صرف ایک غصیلی تحریر نہیں سمجھی جا سکتی؛ یہ اس ذہنیت کی علامت ہے جس میں طاقت کو وقار کے ساتھ نہیں بلکہ شور، تحقیر اور تماشائیت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ سفارت کاری کی دنیا میں سختی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، مگر سختی اور سوقیانہ پن ایک چیز نہیں ہوتے۔ پختہ قیادت دباؤ ڈال سکتی ہے، دھمکی بھی دے سکتی ہے، لیکن وہ اپنے منصب کی نزاکت کو اس حد تک پامال نہیں کرتی کہ ریاستی زبان عامیانہ سطح پر اتر آئے۔
ٹرمپ کے اس پیغام کی سب سے نمایاں خرابی اس کا لہجہ ہے۔ لہجہ کسی بھی سیاسی بیان کی روح ہوتا ہے، اور جب لہجہ توازن کھو دے تو الفاظ اپنی عقلی قوت بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ اس پوسٹ میں اختیار کیا گیا اسلوب یہ بتاتا ہے کہ یہاں دلیل سے زیادہ تحقیر پر زور تھا، حکمت سے زیادہ اشتعال پر، اور ریاستی وقار سے زیادہ شخصی غصے پر۔ ایک ذمہ دار سیاسی قائد اگر واقعی کسی حساس بحری گزرگاہ، جنگی بحران یا علاقائی سلامتی کے مسئلے پر بات کر رہا ہو تو اس کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وہ دنیا کو اطمینان دے، اتحادیوں کو سمت دے، اور مخالف کو مذاکرات کی میز سے مکمل طور پر دور نہ دھکیلے۔ مگر اس پیغام میں جو انداز سامنے آیا، اس نے اس کے برعکس اضطراب، اشتعال اور نفسیاتی دباؤ کی سیاست کو نمایاں کیا۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ "بجلی گھر کا دن" اور "پل کا دن" جیسی زبان کو عالمی ذرائع ابلاغ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ممکنہ کارروائی کے اشارے کے طور پر پڑھا۔ جب ایک صدر ایسی تعبیریں اختیار کرے تو اس کے الفاظ محض بیان نہیں رہتے، وہ دھمکی کے عملی خاکے میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی زبان عالمی منڈیوں، علاقائی حکومتوں، عسکری حلقوں اور سفارتی اداروں میں تشویش پیدا کرتی ہے۔ کسی پل، کسی بجلی گھر، کسی بندرگاہ، یا کسی بحری راستے کا نام صرف عسکری ہدف نہیں ہوتا؛ اس کے پیچھے انسانی زندگی، معیشت، روزگار، رسد، اور خطے کے اجتماعی اعصاب جڑے ہوتے ہیں۔ اس پس منظر میں ٹرمپ کی تحریر محض غیر محتاط نہیں بلکہ خطرناک حد تک غیر ذمہ دار محسوس ہوتی ہے۔
اس رویّے کو صرف ایک شخص کی بداخلاقی کہہ کر نظر انداز کر دینا بھی کافی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ذاتی مزاج ریاستی زبان پر غالب آ جائے تو خارجہ پالیسی ایک منظم فکر کے بجائے مزاجی ردِعمل بننے لگتی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے جدید سیاست کو فوری، تیز، چونکا دینے والا اور اکثر جذباتی بنا دیا ہے، مگر عالمی قیادت کا معیار اسی وقت پہچانا جاتا ہے جب وہ اس شور کے ماحول میں بھی ضبط اور سنجیدگی برقرار رکھے۔ ٹرمپ کا طرزِ بیان اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے، جیسے ریاستی اختیار کو شائستہ سفارتی قوت کے بجائے ذاتی جھنجھلاہٹ کے ہتھیار میں بدل دیا گیا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تنقید ناگزیر ہو جاتی ہے، کیونکہ منصب جتنا بڑا ہو، اس کی زبان پر اتنی ہی زیادہ تہذیبی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک کے سامنے امریکہ کے اس گرتے معیار کی بحث بھی اسی سیاق میں سمجھنی چاہیے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ پورا امریکی معاشرہ یا ہر امریکی ادارہ اسی طرزِ گفتار کا نمائندہ ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب ریاست کے سب سے نمایاں منصب سے اس نوع کی زبان جاری ہو، تو دنیا اسے امریکی قیادت کے عمومی سیاسی مزاج کے طور پر پڑھتی ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے خود کو عالمی نظم، قانون، استحکام اور ذمہ دارانہ قیادت کا داعی پیش کرتا رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اس کی پالیسیوں پر عرصۂ دراز سے ناکامی، تضاد اور بحران کو بڑھانے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ایسے میں جب صدر خود فحش اور تحقیر آمیز انداز اختیار کرے تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ امریکہ اصولی قیادت کے بجائے نمائشی طاقت اور فوری دباؤ کی سیاست پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایسا خطہ نہیں جہاں زبان کے بے قابو استعمال کو معمولی سمجھ لیا جائے۔ یہاں ایک جملہ سرحدوں کے پار پیغام بن جاتا ہے، ایک دھمکی داخلی سیاست کو بدل سکتی ہے، اور ایک تحقیر آمیز بیان سفارتی امکانات کو سکیڑ سکتا ہے۔ ایران جیسے ملک کے لیے، جو اپنے ریاستی بیانیے میں خودمختاری، مزاحمت اور قومی وقار کو مرکزی حیثیت دیتا ہے، اس طرح کی زبان کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے۔ اشتعال انگیز الفاظ اکثر سخت گیر بیانیوں کو تقویت دیتے ہیں، جبکہ تحمل اور شائستگی نسبتاً نرم راستوں کو زندہ رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ نہ صرف امریکی سیاسی وقار کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی منفی اثرات رکھتی ہے۔
اس واقعے میں ایک نفسیاتی پہلو بھی نمایاں ہے۔ پختہ اور پراعتماد قیادت اپنے مخالف کے وجود سے خائف دکھائی نہیں دیتی؛ وہ اپنی طاقت کو مہذب قطعیت میں ظاہر کرتی ہے۔ اس کے برعکس جب کوئی رہنما تحقیر، تمسخر اور بدزبانی کو ہتھیار بنائے تو یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے پاس طاقت تو موجود ہے، مگر اس طاقت کی اخلاقی زبان کمزور پڑ چکی ہے۔ ایسی کیفیت میں نازیبا کلمات اکثر دلیل کی جگہ لینے لگتے ہیں، اور چیخ استدلال کا بدل بن جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے تہذیبی انحطاط کہا جا سکتا ہے جب الفاظ میں شور بڑھ جائے اور معنی سکڑنے لگیں۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم اصولی نکتہ یہ ہے کہ کسی رہنما کی بدزبانی پر تنقید کرنا کسی دوسرے فریق کی تمام پالیسیوں کی توثیق نہیں ہوتا۔ سنجیدہ تنقید ہمیشہ اصول پر کھڑی ہوتی ہے، شخصیت پرستی پر نہیں۔ اگر کوئی ریاست بین الاقوامی ذمہ داری، امن، قانون اور سفارت کاری کا دعویٰ رکھتی ہے تو اس کے سربراہ سے یہ توقع بہرحال قائم رہتی ہے کہ وہ بحران کے لمحے میں لفظوں کو بارود نہیں بنائے گا۔ ٹرمپ کی تحریر نے اسی بنیادی توقع کو مجروح کیا ہے۔ اس نے ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ جب بڑی طاقتیں اپنی زبان کی شائستگی کھو دیتی ہیں تو وہ محض تہذیبی وقار نہیں گنواتیں، بلکہ اپنے اخلاقی جواز کا ایک حصہ بھی کھو بیٹھتی ہیں۔
لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہاں مسئلہ صرف ایک سخت جملہ نہیں، بلکہ ریاستی زبان کے بگاڑ، سفارتی تہذیب کی کمزوری، اور طاقت کے اخلاقی تصور کی فرسودگی کا ہے۔ ٹرمپ نے جو لکھا، اس کا خلاصہ یہی ہے کہ دھمکی کو تضحیک کے ساتھ، اور عسکری اشارے کو بازاری انداز کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اور یہی اس پورے واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو ہے کہ ایک ایسی قیادت، جو دنیا کو استحکام دینے کا دعویٰ رکھتی ہے، خود اپنے الفاظ سے عدم استحکام کا ماحول پیدا کرتی دکھائی دی۔ ایسی زبان وقتی سرخی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن پائیدار احترام کبھی نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ