کم عقل انسان : معاشرے کا ایک سنجیدہ مسئلہ۔۔ مضمون نگار: حکیم محمد اسماعیل سعید۔
کم عقل انسان : معاشرے کا ایک سنجیدہ مسئلہ۔
مضمون نگار: حکیم محمد اسماعیل سعید۔
انسان کو دیگر مخلوقات پر برتری عقل کی بنیاد پر حاصل ہے، لیکن جب یہی عقل کمزور یا ناقص ہو جائے تو انسان اپنی اصل صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ کم عقل سے مراد وہ شخص ہے جو معاملات کو سمجھنے، صحیح فیصلہ کرنے اور حالات کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت میں کمزور ہو۔
کم عقلی صرف فہم کی کمی کا نام نہیں بلکہ اس کا تعلق سوچنے کے انداز، تجربے اور سیکھنے کی صلاحیت سے بھی ہوتا ہے۔ ایسے افراد اکثر جلد بازی میں فیصلے کرتے ہیں، بغیر سوچے سمجھے بات کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی سمجھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف خود نقصان اٹھاتے ہیں بلکہ بعض اوقات دوسروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔
معاشرے میں کم عقلی کی ایک بڑی وجہ تعلیم کی کمی، ناقص تربیت اور غیر سنجیدہ ماحول ہے، اگر انسان کو بچپن سے ہی اچھی تعلیم، رہنمائی اور مثبت ماحول فراہم نہ کیا جائے تو اس کی سوچ محدود رہ جاتی ہے، اسی طرح تجربے کی کمی بھی انسان کی فہم کو متاثر کرتی ہے۔
تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ کم عقل افراد کے ساتھ سختی یا تمسخر کا رویہ اختیار کرنا درست نہیں بلکہ ان کی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور بہتر تربیت کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے، ہر انسان میں سیکھنے اور بہتر ہونے کی گنجائش موجود ہوتی ہے، ضرورت صرف صحیح سمت دینے کی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عقل اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے اور اس کا درست استعمال انسان کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرتا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی عقل کو علم، تجربے اور مثبت سوچ کے ذریعے بہتر بنائیں اور ایک باشعور معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔
Comments
Post a Comment