سیرت رسول کا ایک اہم پہلو - بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری(استاد جامعہ اکل کواں)


سیرت رسول کا ایک اہم پہلو - 
بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری
(استاد جامعہ اکل کواں)

سرکار نامدار۔ ہادی اکمل صاحب قاب قوسین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا ایک ایک پہلو نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ دنیا کے ہر اس انسان کے لیے ہیں جو دونوں جہاں کی کامیابی کا خواہش مند ہے حضور سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا یہ اہم پہلو موجودہ دور میں بہت اہمیت کا حامل ہے سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دائم الفکر تھے یعنی اپ ہمیشہ اس طرح رہتے تھے جیسے کوئی غمگین ادمی اپنے اوقات بسر کرتا ہے جس کے چہرے بشرے سے تفکر احساس فکر مندی اور پریشانی ظاہر ہوتی ہے بقول مورخین۔ یہی صفت اپ کے ظاہری و باطنی حسن کو بھی دوبالا کر دیتی تھی قران کریم جس کے توسط سے لوگوں کو ہدایت مل رہی ہے اس کا پیغام بھی اپ دیکھیں تو وہ طرب انگیز اور عیش و نشاط کا نہیں بلکہ فکر انگیز ہے یعنی قران مجید کا اثر جس پر ہوتا ہے وہ خوشی میں رقص نہیں کرتا اس پر عیش و نشاط کا ماحول طاری نہیں ہوتا وہ بے فکرا اور غافل نہیں ہوتا بلکہ اس کی گردن جھک جاتی ہے پیشانی پشیمانی سے شرابور ہو جاتی ہے اور جبین نیاز مولا کریم کے سامنے نہیں اٹھتی قران کریم کی تاثیر بھی فکر انگیز ہے طرب انگیز نہیں دنیا کی محفلوں اور مجلسوں میں بلکہ گانے بجانے رقص و سرود اور موسیقی کے پروگراموں میں انسان کے اندر جو جذبات پیدا ہوتے ہیں وہ عیش و عشرت شراب و شباب اور مستی بھرے جذبات ہوتے ہیں جب اپ کسی پر قران کریم کے اثرات کا اثر ہونا ملاحظہ فرمائے تو یقینا اپ دیکھیں گے کہ جیسے ایک ہنستا ہوا ادمی غمزدہ ہو جاتا ہے بس یہی کیفیت اس شخص کی ہوتی ہے جس پر قران کریم کا اثر ہو فطرت انسانی بھی غالبا ایسی ہی ہے اور یہ یقینی ہے کہ صحیح الفطرت انسان وہی ہے جس کی یہ کیفیت ہو کہ اس کو ہمہ وقت اپنی فکر اپنے ماتحتوں کی فکر اپنے اہل خانہ اور اعزاء و اقرباء بلکہ حضور ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونے کے واسطے سے ساری انسانیت کی فکر کا وہ حامل ہوتا ہے جب یہ فکر دامنگیر نہ ہو اور قلب اضطراب محسوس نہ کرے تو سمجھ لیجئے کہ پھر یہ مر چکا ہے قلب و ذہن اس کا مضمحل ہو چکا ہے۔اقبال کی زبان میں کہوں تو کہہ سکتا ہوں 
دل مردہ دل نہیں زندہ کر دوبارہ 
یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ 
بے فکری انسان کو لے ڈوبتی ہے ایک طالب علم بے فکر ہو جائے تو نتیجہ کیا نکلے گا سب سمجھ سکتے ہیں گھر کا ذمہ دار بے فکر ہو جائے تو پھر نہ کاروبار میں ترقی کی امید کی جا سکتی ہے نہ ہی کامیابی کی ! حدیث میں اتا ہے کہ
کہ حضور صاحب کوثر صلی اللہ علیہ وسلم جب ہنستے تھے تو تبسم فرماتے صرف مسکرا دیتے یہ بھی لکھا ہے تمام عمر کبھی اپ نے قہقہہ نہیں لگایا۔ یہ کس بات کا غماز ہے؟سیرت نگاروں نے حضور کی شان اقدس اس طرح بیان فرمائی. " كان متواصل الاحزان ودائم الفكره " (شمائل ترمذى)
متواصل کے معنی لگاتار مسلسل پے در پے کے ہیں اور حزن کے معنی غم کے ہیں یعنی ایک کے بعد دوسرا دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا غم جس طرح سے اتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح اپ پر غموں کی بوچھار ہو رہی ہو اور دائم الفکرۃ کہ ہمیشہ اپ فکر بند رہتے 
 شاہ عبدالعزیز محقق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ جب اللہ تعالی نے حضرت ادم کا پتلا مٹی سے تیار کیا تو 39 دنوں تک اس پتلے کے اوپر غموں کی بارش ہوتی رہی اور صرف ایک دن خوشی کی بارش ہوئی یہی وجہ ہے کہ انسان کی زندگی کا بیشتر حصہ اہ اہ کرتے ہوئے گزر جاتا ہے اور ہنسنے کا موقع دنیا میں بہت تھوڑا حاصل ہوتا ہے تو بیدار رہنا فکر مند رہنا یہ بڑی اعلی صفت ہے
قوت فکر جس کے متعلق اقبال کہتے ہیں 
قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے 
تب کسی قوم کی شوکت پر زوال اتا ہے 
تاریخ میں اس کی مثالیں بھری پڑی ہیں
فاعتبروا يا اولي الابصار

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔