غزل - ازقلم : یوسف شیخ۔
غزل -
ازقلم : یوسف شیخ۔
بار غم کا مرے سر پے کبھی سایہ آۓ
سر تلے کاش لپک کر کوئی شانہ آۓ
فاقہ مستی میں بھی سرشار رہے دل جیسے
میری قسمت میں بھی ایسا کوئی لمحہ آۓ
ہے اسی شوق طلب میں نہاں آبِ حیات
آبشاروں کی طرف دوڑ کہ پیاسا آۓ
جب بھی چھوتا ہے تصوّر کومرے تیرا خیال
یوں لگے جیسے مہکتا کوئی جھونکا آۓ
نا خدا کوئی نہیں کشتیِ یوسفؔ تنہا
موج در موج سمندر ہے کنارہ آۓ
Comments
Post a Comment