گرمائی تعطیلات میں (شعراء اور نثرنگار) طلبہ کو، مضمون نگاری، شاعری اور افسانہ نویسی سکھائیں - محمدیوسف رحیم بیدری۔
گرمائی تعطیلات میں (شعراء اور نثرنگار)
طلبہ کو، مضمون نگاری، شاعری اور افسانہ نویسی سکھائیں -
محمدیوسف رحیم بیدری۔
موبائل:9845628595
ادب ایک ایسا وسیع موضوع ہے جس میں دنیا کے تقریباًموضوعات زیر بحث لائے جاسکتے ہیں۔ ان پرعمدہ طریقے سے لکھاجاسکتاہے۔ اگر ہم صرف لکھنے کے عمل ہی کو ادب کہیں تو یہ اوربھی علیحدہ اور مختلف قسم کی بات ہوگی۔ سوچنا، اچھا سوچنا، مثبت سوچنا، اور اس سوچ کو انسانوں کی بھلائی اور انسانی زندگی کے استحکام میں لانا ادیب کافریضہ ہے۔ ادیب سماج کاٹھیکیدارنہیں ہوتا۔ وہ ایک داعی ہوتاہے، اس کی دعوت ہر اچھی چیز کی طرف ہوگی۔ چاہے وہ خدا ہو، انبیاء اور رسول ہوں، آخرت ہو، انسانی بقا ہو۔ یا ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہو۔ آخر کار عدل کی طرف بلانا قلمکار کا کام ہے۔
ہر سال طلبہ کوگرمائی تعطیلات مل جاتی ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ خانگی اسکولوں کی بھرمار اور ان کے من مانی اوقات کار نے گرمائی تعطیلات کا لطف اور گرما کے موسمی نقصانات سے بچ کر طلبہ کے صحت مند رہنے کامزاج اوروہ سماجی ڈھانچہ پوری طرح متاثر ہواہے جس کی نگران کار اور محافظ حکومت ہوتی ہے۔ ہر حکومت نے گرمائی تعطیلات کی محافظت کماحقہ نہیں کی۔ اگرریاستی حکومتیں گرمائی تعطیلات کی محافظت کریں اور جہاں کہیں گرمائی تعطیلات میں طلبہ کونصاب کی طرف بلایایالے جایاجائے اس پر جرمانہ عائد ہوتو ہمارے طلبہ کوگرماسے بچتے ہوئے دیگر علوم سیکھنے کا موقع حاصل رہے گا۔
اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ ہمارا موضوع ”گرمائی تعطیلات میں طلبہ کو، مضمون نگاری، شاعری اور افسانہ نویسی سکھائیں “ ہے۔یہ سب کون سکھائیں؟ اس سوال کاجواب یہ ہے کہ جس بھی شہر یا گاؤں میں قلمکار ہیں وہ آگے بڑھیں اوراپنے گاؤں یاشہر کے طلبہ کو، لڑکے لڑکیوں کومضمون نگاری، شاعری اور افسانہ نویسی سکھائیں۔ قلمکاروں پر یہ ذمہ داری فرض بھی ہے اور ایک قرض بھی ہے جس کوچکایاجانا چاہیے۔
سیکھنے کے لئے عمر:۔ مضمون نگاری، شاعری اور افسانہ نویسی سیکھنے کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ کم سے کم عمر والا اور زیادہ سے زیادہ عمر والا بھی مذکورہ فنون کی طرف توجہ دے سکتاہے۔ ابھی حال ہی میں اخبارات کے ذریعہ پتہ چلاکہ 58سال کی عمر والے ایک صاحب شاعری کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور شعر کہہ رہے ہیں۔
طلبہ کوجمع کیاجائے:۔ کسی اسکول /کالج /یا کمیونٹی ہال میں ہفتہ میں تین دفعہ ایک یا دوگھنٹوں کے لئے جمع کیاجائے (روزانہ بھی کلاسیس لی جاسکتی ہیں)انھیں ادب کی مشق کرانے کے لئے حسب ِذیل طریقہ اختیا رکیجئے گا۔ (۱) منظوم دعا ترنم سے پڑھی جائے۔اجتماعی طورپر پڑھا ئیں تو لطف زیادہ مل سکتاہے(ایک ماہ میں تین دعائیں ترنم سے یاد ہوجائیں، ان دعاؤں میں بڑے شعراء کے علاوہ مقامی شعراء یاسکھانے والے شعرا اور مصنف اپنی دعا بھی ضرورسکھائیں) (۲) حمد کی تعریف سمجھائی جائے۔ اورکئی ایک حمد کے اشعار طلبہ کے سامنے پڑھے جائیں۔(۳) حمد کے ایک دو شعر سہی بورڈ پر ضرورلکھیں اوران اشعار میں موجود چھوٹی بڑی آوازوں کو زبانی سمجھائیں تاکہ آوازیں طلبہ کے ذہن نشیں ہوسکیں۔ (۴) برصغیر کے ہر چھوٹے بڑے فرد کو نعت شریف سے بے حد لگاؤ ہواکرتاہے۔ اس کافائدہ اٹھاتے ہوئے چھوٹی بحروں میں پانچ سات تازہ نعت بورڈ پرخود تخلیق کرکے بتائیں۔اس کے لئے (۱) فعلن فعلن فعلن فع (۲) فعلن فعلن فعلن فعلن (۳) فاعلاتن مفاعلن فعلن (۴) فعولن فعولن
فعولن فعولن (۵) فاعلن فاعلن فاعلن فع جیسے اوزان کااستعمال کیاجاسکتاہے (دوسرے اوزان بھی لے سکتے ہیں)۔ (۵) چھوٹے لڑکے اگر ہوں تو انہیں شعر کی تقطیع کرنا مت سکھائیں۔ ایسے ہی بتادیں تاکہ ان کے ذہن میں شعر کی تخلیقی ترتیب بیٹھ جائے اوراگر طلبہ بڑی عمر کے ہوں تو انہیں شعر کی تقطیع کرنا لازمی طورپر سکھائیں۔ حیرت ہے کہ لیکچررس بھی شعر کی تقطیع کرنا نہیں جانتے اور نہ ہی بحروں سے کماحقہ واقف ہیں الا ماشا ء اللہ۔ اسی کے وجہ سے طلبہ میں شاعری کرنے کی صلاحیتیں ٹھٹھر رہی ہیں۔ انہیں شاعری سیکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ (۶) بچوں کی نظموں پرتوجہ دیں۔ بچوں کی نظموں میں بچوں کی نفسیات کاکافی خیال رکھاجاتاہے۔ نظم کے موضوعات، نظم کامزاج، نظم کی لفظیات، اس کی ہیئت وغیرہ میں بچوں کی پسند کاحددرجہ خیال رکھنا پڑتاہے۔ کہاجاتاہے کہ بچوں کے لئے قلمکاری کرنا ہر کسی کو نہیں آتا۔ بلکہ یہ وہ ہنرہے جس کو قادر الکلام شعراء ہی نے بخوبی نبھایاہے۔ لہٰذا بچوں کوسکھایاجائے کہ وہ نظم کس طرح لکھ سکتے ہیں۔ بچوں سے پہلے پوچھا جائے کہ وہ کس موضوع پر نظم لکھنا پسند کریں گے۔ ان کی زبانی سن کر دس بارہ موضوعات کی فہرست بنالیجئے۔ پھر اس کے بعد روزانہ کی بنیادپر ایک ایک نظم لکھی جاسکتی ہے۔ بچوں کی نظم میں سامنے کاخیال ہواورنظم شوخ ہو۔ بچکانہ بھی ہونا چاہیے۔ سنجیدگی سے پرہیز کرتے ہوئے بچوں کی ادبی ضرورت کو پورا کیاجائے۔ (۷)اگر طلبہ بڑی عمر کے ہوں تو انھیں عزم وہمت سے کام لے کر آگے بڑھتے رہنے والے ”ترانے“ لکھنا سکھایاجائے۔ وہ ترانے اخلاقیات، عزم، مقصدزندگی، ایمانی جدوجہد، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے پر مبنی ہوں۔(۸) بڑی عمر کے طلبہ کیلئے ادب کے میدان کی سب سے محبوب چیز ”غزل“ہے۔ نظم سے زیادہ غزل کی طرف طلبہ توجہ دیتے ہیں۔ سنجیدہ عمر کے افراد نظم کو پسند کرتے ہیں جب کہ طلبہ وطالبات کی پہلی پسند غزل ہی ہوتی ہے۔ غزل میں موضوعات کاتنوع ہوتاہے،رومانس ہوتاہے، سوچنے کی لامحدود آزادی ہوتی ہے، مسائل کوبیان کرنے اور خود کو مظلوم بتلانے میں لطف آتاہے اس لئے بڑی عمر (یعنی ہائی اسکول اور کالج کے طلبہ)غزل کو جلدی سے سیکھ سکتے ہیں۔اب ہم نثر کی طرف آتے ہیں۔
نثرکی اہمیت:۔ نثر کی بڑی اہمیت ہے۔ انسان اپنی بات چیت نثر میں کرتاہے نہ کہ منظوم۔ اسلئے نثر کی اہمیت پہلے ہی مرحلہ پر واضح ہوجاتی ہے۔ جو لوگ باتونی ہوتے ہیں وہ نثر میں کمال دکھاتے ہیں۔مثال کے طورپر خواتین ہی کو لیں۔ خواتین کی پہلی پسند نثر اور طویل دورانیہ والے ٹی وی سیرئیل یا ناول ہوتے ہیں۔ اگر ہم کسی تعلیم یافتہ یا مطالعہ کی عادی خاتون یاطالبہ کی ٹیبل پر شعری مجموعہ اور افسانوی مجموعہ رکھ دیں تو ہمیں پتہ چلے گاکہ وہ شعری مجموعہ کے بجائے افسانوی مجموعہ پڑھ رہی ہیں الا ماشاء اللہ۔نثر ی اصناف میں مضمون، انشائیہ، افسانہ، کہانی، ناول، افسانچہ، خاکہ نگاری،سفر نامہ،رودادنویسی، رپورتاژ، نقدونظر وغیرہ شامل کئے جاسکتے ہیں۔چوں کہ طلبہ کوسکھانا ہے اور وہ بھی گرمائی تعطیلات میں، اس کے لئے کئی طرح سے کام لے سکتے ہیں۔ مگر ہمارا خیال ہے کہ کہانی وافسانچہ اور مضمون نویسی کو گرمائی تعطیلات میں سکھانا کافی رہے گا۔(۱) چھوٹے بچوں کوفطرت سے بڑا لگاؤہوتاہے، وہ زمین، آسمان، پرندے،اور جانور سے فطری لگاؤ رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنی شمولیت کو پسند کرتے ہیں۔ لہٰذا انھیں زمین، آسمان، پرندے اور جانور، وسمند روغیرہ پر ابتداء میں 5جملوں پر مشتمل مضمون لکھاناسکھانا چاہیے۔ پھر وہ مضمون 15جملوں تک وسیع کیاجاسکتا ہے۔ (۲) ابا امی، بھائی بہن، خالہ خالو، پھوپھا پھوپھی، جیسے رشتوں پر بھی بچوں سے کم سے کم جملوں والا مضمون لکھایاجائے۔ اچھے مضمون پر چاکلیٹ /یا کوئی اور انعام دینے سے طالب علم کی دلچسپی مضامین لکھنے میں عود کرآئے گی۔ (۳) کہانیاں سننا انسانی مزاج کا حصہ ہے۔ لاشعور سے لے کرشعور تک، یہاں تک کہ صحافت میں بھی انسان کہانی تلاش کرتاہے۔ وہ خبریں جن میں کہانیاں رچی بسی ہوتی ہیں، وہ بیان کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ کہنے کامطلب یہ ہے کہ کہانی لکھنے کافن ہر کسی کونہیں آتاحالانکہ کہانی لکھنا انسانی مزاج سے قریب تر اس لئے ہے کہ ہر ”انسانی شکویٰ“کسی نہ کسی کہانی کی بنیاد پر کھڑا ہوتاہے۔ ان گرمائی تعطیلات میں ہمارے مایہ ناز قلمکار اپنے اپنے محلہ اور کالونی کے طلبہ وطالبات کو کہانی لکھنا سکھائیں گے تو اس عمل سے اُردو الوں میں کہانی کار(اور شعرائے کرام)کااضافہ عین ممکن ہے۔(۴)افسانچہ، کہانی ہی کی ایک قسم ہے۔ جس میں کردار، ڈائیلاگ،اختصار اور کلائمکس ہواکرتا ہے۔افسانچہ تین جملوں سے لے کر بارہ پندرہ جملوں تک افسانچہ ہی کہلائے گا۔ اگر اس سے آگے ہوجائے تو اس کوکہانی اور افسانہ کہہ سکتے ہیں۔ (۵) ایک سطری، دوسطری، تین سطری یادس سطری شائع شدہ جتنے بھی افسانچے ہیں، ان کو بچوں تک پہنچا کر بتایاجائے کہ کس طرح سے افسانچہ کی بنت ہوتی ہے۔ اس کواثر انگیز کیوں کر بنایاجاسکتاہے۔ اِمسال(2026ء)ہم نے اگر بچوں کو شاعری اور نثر لکھنا سکھادیا تو سمجھیں کہ ادب آئندہ بھی زندہ اور پائندہ رہے گا۔ نئے خون کی آمد سے ہی زندگی میں تخیلات کی کارفرمائی زائد اور زندہ ر ہے گی اورپورا معاشرہ متحر ک رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہم تمام لکھنے والوں کو توفیق دے کہ وہ نئے لکھنے والوں کو لکھنے کافن سکھاکر اردو ادب کے قافلے کو آگے بڑھانے میں اپنا مثبت رول اداکریں۔ آمین
Comments
Post a Comment