آئینہ توحید اور زوال فکر۔ - صوفی حضرت عثمان جوہری۔
آئینہ توحید اور زوال فکر۔ -
صوفی حضرت عثمان جوہری۔
تری وحدانیت مسلک نہیں ہے
تری قدرت میں کوئی شک نہیں ہے
ترے کلمے کی ہے تعلیم واحد
کوئی ثانی بدل اب تک نہیں ہے
جہالت کے قواعد کہہ رہے ہیں
نئی ترتیب میں کیوں رہ رہے ہیں
مگر حجت کا تم عالم نہ پوچھو
کہ علمی فن کے صدمے سہہ رہے ہیں
کہ اللہ الصمد ہے ذات واحد
مجاہد فکر میں ہے لمسِ زاہد
بصد تقدیر کیا تم کو خبر ہے
یہی فقرِ انا بنتی ہے عابد
شیعہ سنی کی بھی صورت جدا ہے
نتیجہ کاف کی منزل ہدی ہے
یہ کیا مسلک ہے آئینے الگ ہیں
تغیر میں کہیں لمسِ خدا ہے؟
کہاں قوم درخشاں کا چمن ہے
وجودِ درد دورِ پر فتن ہے
بہاریں نغمہء زن رہتی ہیں ہر دم
خزاں آمیز ساری انجمن ہے
نظر میں کیوں معمہ ہے امیری
بہ در گفتم گئی روشن ضمیری
لباس فاخرہ تہذیبِ حاضر
جہاں دیکھو فقط پیری فقیری
زہ تنقید کا پہلا قدم کیا
خمیرِ قلب کا دیر و حرم کیا
پس پردہ تجلی رقص پیہم
نظر بر دوز ہے رحم و کرم کیا
پتہ قرآن واحد اسمِ آعظم
وہی ذات گرامی ہے مکرم
ازل سے تا ابد ہے خوئے جاناں
فنا کی ضرب میں باقی معظم.
عثمان جوہری.
ہیپی ہوم کالونی شاہراہ نمبر ٦ آٹو نگر
جلگاؤں مہاراشٹر ۔
Comments
Post a Comment