انٹراور ڈگری کالجز میں سیکنڈ لینگویج عربی کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ کا بیان۔
حیدرآباد 8/ اپریل(نمائندہ) صدر جمعیتہ علماء تلنگانہ مولانا شاہ احسان الدین صاحب قاسمی نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست کے انٹر اور ڈگری کالجز میں زیر تعلیم متعدد طلباء وطالبات کو عربی زبان بطور سیکنڈ لینگویج کے نام سے دھوکہ دیا جارہا ہے
داخلہ (ایڈمیشن) کے وقت انتظامیہ یہ کہتی ہے کہ ہمارے پاس سیکنڈ لینگویج میں عربی زبان کا انتظام ہے۔
یہ بتاکر عربی کے تعلق سے سال بھر کی فیس وصول کی جاتی ہے بعض جگہ یہ کہا جاتا ہے کہ تم خود الگ انتظام کرلو کالج انتظام نہیں کرے گا بعض جگہ سال کے آخر میں دو ماہ پڑھا تے ہیں جس کہ نتیجہ میں طلباء وطالبات کو کافی پریشانی ہوتی ہے نصاب تکمیل نہیں ہو پاتا
اکثر کالج کا انتظامیہ غیر مسلم ہوتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منظم طریقہ سے متحد ہو کر ایک سازش کے تحت سیکنڈ لینگویج عربی زبان کو بند کیا جارہا ہے تاکہ مسلم طلباء سنسکرت پڑھیں جب کہ سنسکرت زبان گلوبل زبان نہیں ہے اس وقت فارن لینگویجز میں کم از کم تین زبانوں پر عبور ضروری ہے دنیا میں انگریزی کے بعد عربی اور چائنیز زبان سیکھنا یہ وقت کا تقاضہ ہے مسلمان ہوں کہ غیر مسلم اپنے بچوں کو تین زبانوں میں ماہر بنانا ضروری ہے
اس سلسلہ میں شہر حیدرآباد اور تمام اضلاع کے آئمہ کرام دانشور حضرات خاص کر مسلم اسکول اور کالجس کے مسلم پرنسپل لیکچرر و ٹیچرز خصوصاً جن کا ایس ایس سی مکمل ہوگیا ہو،
ایسے طلباء وطالبات ان کے سرپرست حضرات سے گزارش ہے کہ اپنا ایڈمشن گورنمنٹ کالج میں لیں یا خانگی اداروں میں لیں سیکنڈ لینگویج عربی زبان ضرور دلوائیں اس سلسلہ میں ذمہ داران فکر فرمائیں۔۔۔۔
Comments
Post a Comment