آشا بھوسلے کی سریلی آواز کا جادو ہمارے کانوں میں گونجتا رہے گا - سید فاروق احمد قادری۔
آشا بھوسلے کی سریلی آواز کا جادو ہمارے کانوں میں گونجتا رہے گا -
سید فاروق احمد قادری۔
انسان دنیا میں ایا ہے تو اس کو ایک دن چلا جانا ہے لیکن اس کی یادیں ہمیشہ عوام کی دل میں بسی رہتی ہے قبل از محمد رفیع صاحب اور۔ لتا منگیشکر اور کہیں پلے سنگر اپنے مالک حقیقی جا ملے
آج Asha Bhosle کا ذکر ایک بار پھر اداسی کے سائے میں کیا جا رہا ہے۔11 اپریل 2026 کو بمبئی کے کینڈی ہاسپٹل میں ان کو شریک کیا گیا ہارٹ اٹیک کی وجہ سے وہ اس دنیا سے چل بسی ان کی اخری رسومات 13 تاریخ کو شیوا جی پارک میدان میں چار بجے رکھی گئی Mumbai کی فضا جیسے ٹھہر سی گئی ہو، ہر طرف ایک خاموشی ہے—مگر اس خاموشی کے اندر بھی ان کی آواز کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
وہ صرف ایک گلوکارہ نہیں تھیں، بلکہ ایک احساس تھیں—جو کبھی شوخی میں ڈھل جاتی، کبھی محبت بن جاتی، اور کبھی درد کی گہرائیوں میں اتر جاتی۔ ان کی زندگی میں جتنے اتار چڑھاؤ آئے، وہ سب ان کی آواز میں جھلکتے رہے۔
ان کا رشتہ اپنی بڑی بہن Lata Mangeshkar کے ساتھ بھی ایک خوبصورت مگر پیچیدہ کہانی تھا۔ مقابلہ بھی تھا، فاصلہ بھی… مگر دل کے کسی کونے میں ایک خاموش اپنائیت ہمیشہ موجود رہی۔ یہی رشتہ دونوں کی آوازوں میں بھی محسوس ہوتا تھا—جیسے دو الگ دریا، مگر ایک ہی سمندر کی طرف بہتے ہوئے۔
Asha Bhosle نے اپنی محنت اور فن سے بے شمار اعزازات حاصل کیے—دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، پدم وبھوشن اور کئی فلم فیئر ایوارڈز۔ مگر اصل ایوارڈ تو وہ محبت تھی جو انہیں عوام کے دلوں سے ملی۔
جب "پیا تو اب تو آجا" کی شوخی گونجتی ہے یا "دل چیز کیا ہے" کی نرمی دل کو چھوتی ہے، تو یوں لگتا ہے جیسے وہ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ اور جب “ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں” جیسی کیفیت فضا میں بکھرتی ہے، تو وقت جیسے تھم سا جاتا ہے۔
آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر سچ یہی ہے کہ Asha Bhosle کی سریلی آواز ہوا میں گونجتی رہے گی…
اور ہمیشہ ہمارے کانوں میں رس گھولتی رہے گی۔
کیونکہ کچھ آوازیں کبھی خاموش نہیں ہوتیں… وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
Comments
Post a Comment