انسان سے محبت گویا خدا سے محبت کرنا ہے۔تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
انسان سے محبت گویا خدا سے محبت کرنا ہے۔
تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
9881836729
اللہ نے انسان کو حیوان ناطق بناکر اس روے زمین پر تمام مخلوقات سے ممتاز کیا ہے۔اور انس سے انسان بنا ہے۔ یعنی انسان محبت انسیت کا پیکر ہے۔اللہ کا ارشاد ہے ان خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ کہ ہم نے انسان کی تخلیق اچھے ڈھانچے سے کی ہے۔ اور اس کو ساری مخلوقات سے ممیز اور اعلی و ارفع پیدا کیا ہے۔ کیونکہ اوروں کے تئیں انسانیت محبت اخوت بھائ چارہ سے پیش آیں۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ اللہ کی تخلیق کردہ مخلوق سے انسانیت اور محبت سے پیش آیں۔کیونکہ انسان سے محبت و انسیت اور اسکی خدمت ہی رب کائنات کی خدمت ہے جس سے اللہ خوش اور راضی ہوتا ہے۔ جو انسان کے ذریعہ اچھے کام سے خوش اور اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ اللہ نے انسان کو دوسروں کے نفع رسانی کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور منکرات سے روکنے اور اچھے کاموں کی تر غیب اور رجوع الی اللہ کی طرف دعوت سخن کے لیے پیدا فرمایا۔ اور کبھی کبھی انسانوں سے ہمدردی اور اس سے غمخواری عبادت سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ چونکہ اللہ اپنے بندے سے ستر درجہ محبت کرتا ہے۔ اور ہمیں بھی اللہ کی مخلوق سے محبت و انسیت سے پیش آنے کا حکم فرماتا ہے۔ روے زمین پر اللہ کی مخلوق پر رحم و کرم کا معاملہ کریں۔ یقینا جو آسمانوں میں اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں اور ہمارے شہ رگ سے بھی قریب رب کائنات آپ پر رحم و کرم کا معاملہ فرماے گا۔ کیونکہ اللہ کا ارشاد ہے۔ جو زمین پر ہنگامہ آرائ اور فساد بپا کرتا ہے اللہ اس کو پسند نہیں فرماتے۔ جو بلا عذر کسی کو ہلاک کرتا ہے تو وہ یقینا ساری انسانیت کے قتل کرنے کے مترادف ہے۔ اور کسی کے عزت نفس اور اسکی آبرو کا تحفظ کرتا ہے۔ وہ ساری دنیا کے عزت کا تحفظ کرتا ہے۔اللہ نے اپنی عبادت کے لیے ان گنت فرشتوں کو متعین کیا ہے جو ایک مدت سے اسکی عبادت میں مصروف ہیں اور قیامت تک مصروف عمل رہینگے۔ لیکن انسان کی تخلیق اللہ اور رسول کے اطاعت کے ساتھ انسانی خدمت اور اس سے محبت و انسیت کو لازم قرار دیا ہے۔جس کے بغیر ہماری نجات و فلا ح ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن آج ہر انسان کو انسان سے شکایات اور اعتراضات ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں ایک دوسرے سے فاصلے بڑھے ہیں دوریاں اور آپس میں نا اتفاقی کا شکار ہوتے رہے ہیں اور ہورہے ہیں۔ ہم اگر ایک دوسرے کے تٸیں محبت و اخوت اور اتحاد و اتفاق سے رہیں تو ہم بہت بڑی الجھن سے آزاد ہوسکتےہیں۔ جو ہمار معاشرہ کے استحکام اور ترقی کا زینہ ہے۔ اسی نسبت سے شاعر مشرق نے قوم و ملت کے استحکام اور اتحاد میں بیباک اور بہت ہی اہم شعر کہا تھا۔ ایک ہوجاٸیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبین۔ ورنہ ان بکھرے ہوے تاروں سے کیا کام بنے۔ انسان کو اللہ نے پوری دنیا میں اعلی و ارفع و عظیم المرتبت بنایا۔ اور اللہ نے انسان کی حیثیت کو بھی اس آیت کے ذریعہ اجا گر کیا۔ کہ انسان کو ہم نے ایک ناپاک نطفہ سے تخلیق کیا۔ تو اس پر اللہ نے انسان کو غور و خوض کرنے کو کہا ہے۔ اور پھر اس روے زمین پر انسان کو بادشاہت عطا کی۔ اور پھر فرمایا کہ زمین پر فساد بپا نہ کریں۔ مساوات انسیت محبت اخوت کو ہی اخلاقی اقدار کا زیور قرادیا۔ چونکہ انسان سے محبت اور اس سے حسن سلوک ہی اللہ سے محبت اور اسکے احکامات کو عمل میں لانے کا اہم رکن ہے۔ کیونکہ جو بندوں کا شکر اور اس سے محبت نہیں کرتا ۔ وہ اللہ سے بھی زیادہ محبت اور اطاعت کا جذبہ نہیں رکھتا۔ چونکہ اسلام ایک نیچرل اور آفاقی مذہب ہے۔ اس نے وہ سب عیاں کردیا جو قیامت تک باقی جاری و ساری رہیگا۔ اور اسلام کا معنی بھی سلامتی اور تحفظ کا نام ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جس کے ذات سے اوروں کو نفع رسانی ہو کینکہ اللہ نے امت محمدیہ کو اور جتنے انبیاء کرام مبعوث ہوے ان تمام کو لوگوں اور اپنی اپنی امت کے افراد کی رشدو ہدایت کا بہت بڑاذریعہ بنایا تھا جنہوں نے اپنے اپنے فریضہ کو بحس خوبی انجام دیے۔ اللہ نے مسلمان قوم کو ایک زندہ اور تابندہ قوم بنایا۔ جس کے اندر ازل سے اچھے اوصاف موجود ہیں ۔ ایمان داری اخوت مساوات عدل وانصاف رواداری اخلاقی اقدار حقوق العباد حسن سلوک انسانیت نوازی تمام تر خوبیاں اسلام کا طرہ امتیاز ہے۔ لیکن یہ فطری اوصاف جو مسلمانوں کا اور حامل ایمان کا طرہ امتیاز اب ہم سے متروک اور فقدان پایا جاتا ہے۔ اور فطری اوصاف آہستہ آہستہ ختم ہونے کے کا گار پر ہے۔ فطری اوصاف سے مراداصول پسندی دیانت داری خود کا محاسبہ جب قوم و ملت پر زوال آتا ہے تو اولین یہی اوصاف سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور حق و باطل کو پرکھنے کی بھی سمجھ سے نا آشنا ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے پیغمبر اسلام نے سب سے پہلے اخلاق کی درستگی کو فوقیت دی ہے۔ اور فرمایا ۔ میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اوربفرمایا تم میں بہترین انسان وہ ہے جس کے اخلاق بہتر ہو۔ لہذا ہمیں ویسا ہی رہنا ہوگا جس طرح اسلام نے درس دیا ہے۔ جس میں ہمارے عاٸیلی نظام اور زندگی میں درپیش مساٸل کا حل ہے۔
Comments
Post a Comment