آشا بھوسلے: وہ آواز جو ہمیشہ جوان رہی۔۔۔۔! (درویش صفت گلوکارہ: جس نے دکھوں کو سُروں میں ڈھال لیا)۔ ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
آشا بھوسلے: وہ آواز جو ہمیشہ جوان رہی۔۔۔۔!
(درویش صفت گلوکارہ: جس نے دکھوں کو سُروں میں ڈھال لیا)
ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
جب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کسی آواز کو موسیقی کی تاریخ کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ فنکارہ قرار دیتا ہے، تو سوال یہ نہیں اٹھتا کہ یہ گلوکارہ عظیم تھی یا نہیں، سوال صرف یہ اٹھتا ہے کہ ہم نے اسے واقعی سمجھا، یا بس سنتے رہے۔
12 اپریل 2026ء کی صبح، ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں جہاں آشا بھوسلے کو 11 اپریل کی رات انتہائی تھکاوٹ اور پھیپھڑوں کی تکلیف کی وجہ سے داخل کیا گیا تھا ڈاکٹر پرتیت سامدانی نے اعضائے رئیسہ کی ناکامی کو وجہِ وفات قرار دیا۔ یہ خبر اسپتال سے نکلی اور چند ہی لمحوں میں لندن سے لاس اینجلس تک ہر اسکرین پر چھا گئی۔ یہ خاموشی کسی مشہور ہستی کے جانے کا رسمی غم نہیں تھی، یہ اس گونج کا خاموش ہو جانا تھا جو آٹھ دہائیوں تک انسانی کانوں میں شہد گھولتی رہی۔ بھارت کی موسیقی کی تاریخ میں جب بھی سنہرے دور کا تذکرہ ہوگا، اس آواز کے بغیر وہ صفحہ ہمیشہ ادھورا رہے گا۔
آشا بھوسلے 8 ستمبر 1933ء کو مہاراشٹر کے سانگلی میں پنڈت دیناناتھ منگیشکر کے گھر پیدا ہوئیں وہ دیناناتھ جو مراٹھی اسٹیج سے جڑے گلوکار اور موسیقار تھے۔ 1942ء میں جب آشا کی عمر صرف نو سال تھی، والد کا انتقال ہو گیا اور پورا خاندان معاشی بحران میں آ گیا۔ اگلے سال، 1943ء میں، صرف دس سال کی عمر میں آشا نے مراٹھی فلم "مجھا بال" کے لیے اپنا پہلا گیت "چلا چلا نو بھلا" ریکارڈ کیا، اور اس طرح وہ سفر شروع ہوا جو آٹھ دہائیوں تک جاری رہا۔ یہ آغاز بتاتا ہے کہ آشا بھوسلے کی آواز کبھی سہولت اور آرام کی پیداوار نہیں رہی، یہ آواز ضرورت اور ہمت کی بھٹی میں تپ کر نکلی تھی۔
سولہ سال کی عمر میں انہوں نے 31 سالہ گنپت راؤ بھوسلے سے شادی کی جو گھر والوں کی مرضی کے خلاف تھی۔ یہ شادی خوشیوں کی نوید نہیں بنی، بدسلوکی اور بالآخر علیحدگی نے آشا کو دو بچوں کے ساتھ، تیسرے حمل میں گھر سے نکال دیا۔ اس المیے نے جہاں ایک عورت کو توڑنے کی کوشش کی، وہاں آشا نے اسے اپنی آواز کی گہرائی میں ڈھال لیا۔ جو گھر انہیں نہ رکھ سکا، اس کا جواب انہوں نے التجاؤں سے نہیں، بلکہ ایسے گیتوں سے دیا جو آج بھی لاکھوں گھروں میں گونجتے ہیں۔
1940ء اور 50ء کی دہائی میں بھارتی فلمی صنعت کی گلوکاری پر لتا منگیشکر، گیتا دت اور شمشاد بیگم کی حکومت تھی۔ آشا کو ابتدا میں کم بجٹ کی فلمیں ملتی تھیں، اور موقع اس وقت آیا جب 1954ء میں راج کپور نے انہیں فلم "بوٹ پالش" کے گیت "ننھے منے بچے" کے لیے محمد رفیع کے ساتھ منتخب کیا اس گیت نے انہیں شہرت کی سیڑھی کا پہلا قدم دکھایا۔ پھر 1957ء میں بی آر چوپڑہ کی فلم "نیا دور" میں موسیقار او پی نیر کے ساتھ شراکت نے آشا کو اپنی الگ اور مضبوط پہچان دلائی وہ پہچان جو کسی کے سائے سے نہیں، اپنی آواز کی روشنی سے بنی تھی۔
آشا بھوسلے کی فنی زندگی کا سب سے یادگار اور تاریخ ساز باب موسیقار راہل دیو برمن یعنی "پنچم" کے ساتھ وابستہ ہے۔ 1966ء کی فلم "تیسری منزل" کا گیت "آجا آجا میں ہوں پیار تیرا" جو آر ڈی برمن کی مغربی انداز کی دھن پر مبنی تھا بھارتی فلمی تاریخ میں ایک نئے دور کا اعلان تھا۔ "دم مارو دم" (1971ء)، "پیا تو اب تو آجا" (1971ء)، "چرا لیا ہے تم نے جو دل کو" (1973ء) یہ گیت محض فلمی دھنیں نہیں تھیں، یہ اس ثقافتی انقلاب کے صفحات تھے جو 1970ء کی دہائی میں بھارت کی نوجوان نسل کی سوچ کو بدل رہا تھا۔ 1980ء میں آشا نے آر ڈی برمن سے شادی کی اور پھر 1981ء میں فلم "امراؤ جان" کی غزلوں "دل چیز کیا ہے" اور "ان آنکھوں کی مستی کے" نے ثابت کیا کہ آشا کی آواز میں محض جوش اور بے باکی نہیں، درد کی وہ گہرائی بھی ہے جو موسیقی کو ادب بنا دیتی ہے۔ اسی فلم نے انہیں پہلا قومی فلمی اعزاز دلایا، اور 1986ء میں فلم "اجازت" کے گیت "میرا کچھ سامان" نے دوسرا۔
مگر آشا بھوسلے کی زندگی میں روشنی کے ساتھ بہت گہرا اندھیرا بھی تھا جسے وہ زیادہ تر اپنے سینے میں چھپائے رہیں۔ ان کی بیٹی ورشا جو ذہنی دباؤ کا شکار تھیں اور نفسیاتی علاج لے رہی تھیں انہوں نے 2012ء میں خودکشی کر لی۔ تین سال بعد، ان کا بیٹا ہیمنت بھوسلے، جو خود ایک موسیقار تھا، ستمبر 2015ء میں سکاٹ لینڈ میں سرطان کی بیماری سے 66 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔ وہ آواز جو کروڑوں لوگوں کو سکون دیتی تھی، اپنے گھر کے اندر کتنا درد سہتی رہی یہ سوال انسانی فن اور انسانی کمزوری کے درمیان ایک عجیب اور گہرا رشتہ قائم کرتا ہے۔
اکتوبر 2011ء میں لندن میں ایشین ایوارڈز کی تقریب میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے انہیں "موسیقی کی تاریخ کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ فنکارہ" قرار دیا۔ آشا بھوسلے نے اپنے 75 سالہ فنی سفر میں 12 ہزار سے زائد گیت ریکارڈ کیے ہندی، اردو، مراٹھی، بنگالی، گجراتی، پنجابی، تمل، ملیالم سمیت 20 سے زائد زبانوں میں۔ یہ ریکارڈ پہلے ان کی بہن لتا منگیشکر کے نام تھا جو 1974ء سے 1991ء تک اس اعزاز کی حامل رہیں۔ یاد رہے کہ لتا کی گیتوں کی تعداد بھی کئی محققین کے نزدیک بحث طلب رہی ہے، اور محمد رفیع نے بھی اس ریکارڈ پر اعتراض کیا تھا مگر آشا بھوسلے کا اپنا ریکارڈ ان تمام متنازعہ تفاصیل سے بالاتر ہو کر اپنی جگہ پر مستحکم کھڑا ہے۔
اعزازات کی فہرست ان کی فنی وسعت کا آئینہ ہے۔ انہیں بطور بہترین خاتون گلو کارہ آٹھ فلم فیئر اعزازات ملے، دو قومی فلمی اعزازات فلم امراؤ جان (1981ء) اور اجازت (1986ء) کے لیے ملے، اور 2001ء میں بھارت کا سب سے بڑا فلمی اعزاز داداصاحب پھالکے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ 1996ء میں فلم "رنگیلا" کے لیے خصوصی فلم فیئر اعزاز بھی ملا جو 1995ء میں اے آر رحمان کے ساتھ ان کی شراکت کا اعتراف تھا ایک نئی نسل کے سب سے اہم موسیقار نے اپنے اہم ترین منصوبے کے لیے ایک 62 سالہ گلوکارہ کی آواز کو ترجیح دی۔
یہاں ایک سنجیدہ فکری اعتراض کا سامنا کرنا ضروری ہے کہ آشا بھوسلے بنیادی طور پر موسیقاروں کی ترجمان تھیں، آزاد تخلیقی ہستی نہیں۔ یہ دلیل بظاہر دلچسپ لگتی ہے مگر حقائق کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے۔ او پی نیر نے لتا کو چھوڑ کر آشا کو اپنایا۔ خیام نے "امراؤ جان" کے لیے لتا کو نہیں، آشا کو چنا جبکہ اس وقت لتا کے ساتھ کام کرنے کا موقع موجود تھا۔ آر ڈی برمن، اے آر رحمان، اور ڈیمن البارن تینوں مختلف ادوار اور مختلف اصناف کے نمائندے سب نے آشا کی آواز کو اپنے سب سے اہم کام کے لیے منتخب کیا۔ ایک آواز جو مختلف ادوار، مختلف موسیقاروں اور مختلف تہذیبوں میں یکساں کمال دکھائے، وہ محض آلہ نہیں ہوتی وہ خود ایک تخلیقی محور ہوتی ہے۔
آشا بھوسلے کے اثرات برصغیر کی حدود سے کہیں آگے پھیلے ہوئے ہیں، اور یہ کوئی مبالغہ نہیں۔ 1997ء میں برطانوی بینڈ کارنرز شاپ نے ان کے اعزاز میں "برِم فل آف آشا" جاری کی جو برطانوی سنگلز چارٹ پر پہلے نمبر پر رہی۔ 2005ء میں امریکی کرونوس کوارٹیٹ نے آر ڈی برمن کی دھنوں پر آشا کی آواز کو ریکارڈ کرکے جو البم بنایا وہ گریمی ایوارڈز کے لیے نامزد ہوا۔ اور فروری 2026ء میں اپنی زندگی کے آخری مہینوں میں وہ برطانوی بینڈ گوریلاز کے نویں اسٹوڈیو البم "دی ماؤنٹین" کے گیت "دی شیڈوئی لائٹ" میں اپنی آواز کے ساتھ موجود تھیں۔ 92 سال کی عمر میں، عصرِ حاضر کی جدید ترین موسیقی میں ایک گلوکارہ کا شامل ہونا یہ اپنے آپ میں ایک مکمل بیانیہ ہے۔
آج جب لتا منگیشکر کے بعد آشا بھوسلے بھی رخصت ہو گئی ہیں، تو بھارت کی موسیقی کا وہ باب جس میں آواز محض سُر نہیں بلکہ ایک پوری کائنات تھی، مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔ نئی نسل کے گلوکار تکنیک میں آگے ہوں گے، ڈیجیٹل تیاری میں شاید کمال کریں مگر وہ گہرائی، وہ بے ساختگی، وہ زندگی جو آشا بھوسلے کی آواز میں تھی، وہ کسی سافٹ ویئر میں نہیں آتی، کسی استاد سے نہیں سیکھی جا سکتی وہ صرف اس طرح کی زندگی جینے سے ملتی ہے۔
جو آواز 12 ہزار گیتوں میں سما گئی ہو، وہ کبھی خاموش نہیں ہوتی مگر سوال یہ ہے کہ کیا آنے والی نسل اسے سنے گی، یا صرف یاد رکھے گی؟
Comments
Post a Comment