شاعر، صحافی اور سیاست دان قیصر رحمن۔ ایک دہائی اُن کے بغیر۔۔ ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
شاعر، صحافی اور سیاست دان قیصر رحمن۔ ایک دہائی اُن کے بغیر۔
ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
موبائل : 9845628595
زندگی اور بھی بہت کچھ ہے
زندگی صرف بے وفا ہی نہیں
اس پراثر شعر کے خالق جناب قیصر رحمن کے بارے میں بیدر کے ممتاز اورباخبر مؤرخ جناب عبدالصمدبھارتی بتاتے ہیں کہ قیصرر حمن نے ایم پی ایچ ایس سرکاری اسکول بیدر(موقوعہ احاطہ گرلز ہائی اسکول بیدر) سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس لئے کہ پولیس ایکشن میں ان کے آبائی گاؤں مہکر (بھالکی تعلقہ، ضلع بیدر)میں قتل وغارت گری کاطوفان مچاہواتھا، ہرایک جانب مسلمانوں کی جان پر بن آئی تھی۔ لہٰذا بیدرآکر قیام پذیر ہوئے۔ بعدمیں مہکر کی جائیدادوں پر ان کی واپسی عمل میں آئی“
جناب قیصرر حمن کی یاد اس لئے آگئی کہ 8/اپریل 2016ء کوان کاانتقال ہوا۔ اس لحاظ سے 8/اپریل 2026ء کو ان کی 10/ویں برسی ہے۔ ایک دہائی کے دوران بیدر پر جو کچھ گزری وہ وہی داستان ہے جواہل ِ بھارت پر گزری ہے۔ چاہے وہ ڈی مونٹائزیشن(مستردکرنسی) ہو،این آرسی کا نفاذاور اس کے خلاف احتجاج ہو، کوروناکاقہر ہوجس میں ہزاروں ہندوستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ بیدر کے دوشعراء باسط خان صوفی ؔاور ریحانہ بیگم ریحانہ ؔبھی اللہ کے حضور پہنچ گئے۔ یا پھراسرائیل امریکہ کے ایران پرحملے کے باعث لگنے والی گیس سلنڈر کی موجودہ قطاریں ہوں۔ ان تمام عوامی مسائل سے بچاکر قیصر رحمن صاحب کواللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلالیا۔ یہ سبھی کچھ ان کے اِس دنیا سے جانے کے بعدواقع ہوا۔اگر وہ دنیا میں ہوتے تو ضرور بہ ضرور مذکورہ مسائل پربولتے،حکومتوں سے نمائندگی ضرور کرتے۔
قیصر رحمن بنیادی طورپر عوامی مسائل کوحل کرنے کے جویا تھے۔ عبدالصمدبھارتی کے مطابق ”قیصر رحمن صاحب نے کچھ رکشاء کرائے پر دے رکھے تھے۔اسی حوالے سے دیکھتے ہی دیکھتے وہ رکشاپولر یونین کے صدر بنے۔ جب بیدر میں آٹو رکشا چلنے لگے تو ان کے صدر بن گئے۔ میونسپلٹی کے انتخاب میں حصہ لیا، کامیاب ہوئے۔ بیدر میونسپلٹی کے نائب صدربھی بنے لیکن وہ چوں کہ ہمارے کلاس میٹ تھے اور شاعر تھے، اس لئے بنیادی طورپر وہ شاعر پہلے تھے بعد میں سیاست دان اور پھر صحافی بنے۔ وہ ایک سلیقہ مند صحافی تھے“
خاکسار کے خیال میں جناب قیصر رحمن نے شاعری کی طرف خاطرخواہ توجہ نہیں دی، ایسابھی نہیں کہاجاسکتا۔ان کاکلام روزنامہ ”گاوان“ بیدر میں شائع ہواکرتاتھا۔میراخیال ہے کہ ہفت روزہ ”ہیروازم“، روزنامہ ”ادبی عکاس“ بیدر اور ہفت روزہ ”آفتابِ بیدر‘‘کی فائلوں میں بھی ان کاکلام مل جاتاہے۔ جناب بھارتی کہتے ہیں کہ ”حاجی محمد سلطان میموریل اردو ہائی اسکول (عوام میں معروف نام میموریل اسکول) کے سالانہ ترجمان میں بھی قیصر رحمن کا کلام شائع ہواہے۔ میں جب صدر مدرس تھاتب کے ترجمان میں ان کاکلام میں نے شائع کیاتھا“بہرحال ہم یہاں ان کے تمام کلام میں سے تقدیسی اورادبی کلام کا کچھ نمونہ پیش کررہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں ؎
سارے نبیوں سے پیارا ہمارا نبی ؐ
بیکسوں کا سہارا ہمارا نبیؐ
نورِ خدا ہیں، نور کا دریا حضور ﷺ ہیں
بے شک خدا سے ملنے ذریعہ حضورﷺ ہیں
اس نسبتِ عظیم پہ نازاں ہیں سارے لوگ
میں ہوں غلام اور مرے آقا حضور ﷺ ہیں
نعت ِ رسول پاک ہے میری زبان پر
میرایقین، میرا عقیدہ حضور ﷺ ہیں
منقبت کے یہ اشعار بھی ملاحظہ فرمائیں ؎
ہونٹوں پہ صبح وشام ہے مدحت حسین ؓ کی
سینوں میں ہے فروزاں،محبت حسین ؓ کی
مہتاب ومہر حضرت ِ قیصرؔ ہیں گردِ راہ
پھرتے ہیں ساتھ لے کے جو عظمت حسین ؓ کی
بھیجتاہوں صبح وشام اے خواجہ ء بندہ نواز ؒ
آپ پر لاکھوں سلام اے خواجہ ء بندہ نواز ؒ
شہیدوطن حوالدار عبدالحمید پران کاایک شاندار قطعہ ملاحظہ فرمائیں ؎
دشمن ِ قوم و وطن یار نہیں ہوسکتا
اک مسلماں کبھی غدّار نہیں ہوسکتا
اے مجاہد! جو دکھائی ہے شجاعت تو نے
اس سے اونچا کوئی معیار نہیں ہوسکتا
قیصر رحمن کی غزلوں کے چنندہ اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
چلیے گلشن کو حضرت ِ قیصر ؔ
دشت سے راستے نکلتے ہیں
شب ِ غم، صبح کے لمحات سے آگے نہ بڑھی
زندگی، گردشِ حالات سے آگے نہ بڑھی
کہیں کیا کھٹملوں کی کس قدر اے یار بیٹھے ہیں
کہیں چھ سات بیٹھے ہیں کہیں دوچار بیٹھے ہیں
ذکرِ زاہد رہنے دو، اب آؤ کچھ
قیصرؔ ِ مے خوار کی باتیں کریں
دن کھرچتا ہے دِل کے زخموں کو
اور رگِ جاں کو رات ڈستی ہے
مرنے والے کاساتھ کس نے دِیا
سب ہی آتے ہیں قبرتک جاکر
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ غلط فہمی کی بناپرمیرے عزیز دوست سید منورحسین مرحوم کو اچانک ہی پولیس والوں نے اُٹھالیاتھا۔ پتہ نہیں چل رہاتھاکہ وہ کون سے پولیس اسٹیشن میں لے جائے گئے ہیں۔ سید منورحسین کی والدہ جناب قیصر رحمن کے مکان پہنچیں اور اپنے بچے سے متعلق انھیں بتایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لینڈ لائن فون ہواکرتے تھے۔ موصوف نے اپنے فون سے مختلف پولیس اسٹیشن کوفون کیا اور آخر کار پتہ چلاکر دم لیاکہ منورحسین کہاں ہیں؟۔اس قدر سرعت کے ساتھ کام کرنا قیصر رحمن کا عوامی مزاج تھا۔ آج کل کی نوجوان قیادت کو قیصر رحمن مرحوم کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے عوامی مسائل کواسی طرح پس وپیش کے بغیر حل کرنا چاہیے۔ خیرہم آتے ہیں ان کی شاعر ی، صحافت اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کی جانب۔ قیصر رحمن اپنے سے زیادہ اپنے شاعردوستوں کونوازنے میں لگے رہتے تھے۔ بیدر کے ہر بڑے مشاعرے میں ان کے دوست شعراء کی شرکت لازمی ہواکرتی تھی۔ چاہے صحن ِ مسیحا کا مشاعرہ ہو۔ خانقاہ ابوالفیض ؒ کا مشاعرہ ہویا ضلع انتظامیہ کی جانب سے ترتیب دیا جانے والے بیدر اُتسو کاکل ہند مشاعر ہ ہو۔وہ کوشش کرتے تھے کہ ان کے حیدرآباد اور گلبرگہ کے شعراء ان مشاعروں میں شرکت کریں اور ان کے دوست شعراء کو مشاہرہ (اعزازیہ) بھی خوب خوب ملے۔ اس عمل کومنتظمین مشاعرہ کبھی کبھی پسند نہیں کرتے تھے لیکن قیصر رحمن صاحب بازنہ آتے۔ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ قیصر رحمن صاحب دوسرے شعراء کے لئے نمائندگی کرتے ہیں اور خود کو بھول جاتے تھے۔ ان کے ہم عمردوستوں کاخیال ہے کہ انھوں نے کبھی بیدر سے باہر نکل کر مشاعرے نہیں پڑھے اور نہ اس کے لئے کوشش کی۔غالباً سیاست اور عوامی خدمت نے انہیں اس بات کاموقع نہیں دیا۔
قیصر رحمن کی مجموعی سرگرمیاں:۔ 18/اگست 1943ء کو پیداہونے والے قیصر رحمن صاحب کا اصلی نام عبدالرحمن تھا۔ قلمی نام قیصر رحمن سے مشہور ہوئے۔ والد کانام شیخ ابراھیم اور والدہ کانام مالن بی تھا۔آبائی گاؤں مہکر، تعلقہ بھالکی، ضلع بیدر سے تاعمر تعلق رہا۔ مولانا آزاد سے بی اے کی تکمیل کی۔ اہلیہ کانام انیس فاطمہ ہے۔ جن سے 3لڑکے اور 2لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ جناب محسن کمال کی ادارت میں بیدر سے نکلنے والے ہفت روزہ اور روزنامہ ”گاوان“ میں جناب قیصر رحمن) اخبار کے بند ہونے تک (معاون مدیر رہے۔ہفت روزہ ہیروازم بیدر سے وابستگی رہی۔حیدرآباد کے روزنامہ”سیاست“ کے بیدر سے ضلعی نامہ نگار تادمِ آخررہے۔ چوں کہ سماجی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے لہٰذا آٹورکشایونین بیدرکے صدر، عیدگاہ محمد آباد بیدر شریف کے جنرل سکریڑی، مسجد الٰہی بیدر کے سکریٹری کے علاوہ بید رکی مختلف مساجد اور ضلع بید رکی دیگرمساجد اور اداروں میں کوئی نہ کوئی مثبت رول اداکرتے رہے۔ ادبی ادارہ ”عوامی ادارہ بیدر،“ا ردو کے لئے کام کرنے والی ایک زمانہ کی معروف تحریک ”اردو بچاؤ تحریک بیدر‘‘ میں فعال رہے۔ جمیعت العلماء ہند بیدر /کرناٹک کے بھی سکریڑی رہے۔ ضلع انتظامیہ بیدر کی مختلف کمیٹیوں میں رہ کرکام کیا۔ وہ تقریباً تمام ڈپٹی کمشنر بیدر کے قریبی تصو رکئے جاتے تھے۔محکمہ ء پولیس سے بھی قربت تھی۔ دراصل وہ کانگریس پارٹی کے وفادار لیڈر تھے۔ سابق وزیر بھیمنا کھنڈرے اوران کے خاندان سے قربت حاصل تھی۔بلدیہ بیدر کے وائس چیرمین بھی رہے۔ سال 2003ء کو انہیں کرناٹک راجیوتسوایوارڈسے نوازا گیا۔ سال 2008ء کو کرناٹک اردو اکادمی ایوارڈسے نوازے گئے۔ عمر کے آخری ایام میں ڈائلیسس پرآچکے تھے۔ دورانِ علالت 8/اپریل 2016ء کو سرکاری دواخانہ بیدر میں انتقال کرگئے۔انتقال کے وقت ان کی عمر 73سال تھی۔ بیدر کے چدری روڈ پر واقع درگاہ حضرت مخدوجی قادریؒ کے احاطہ میں تدفین عمل میں آئی۔چند ہی سال بعد ان کے بڑے فرزند اختررحمن اور ان کی ایک دختر بھی انتقال کرگئیں۔ دولڑکے اور ایک لڑکی اپنے اپنے فرزندان اور دختران کے ساتھ ان کے پسماندگان میں شامل ہیں۔ دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور جو کچھ غلطیاں صادر ہوئی ہیں اپنے فضل وکرم سے معاف فرمائے۔ آمین۔ میموریل اسکول کے مؤظف صدر مدرس (پرنسپل) جناب محمد کمال الدین شمیم ؔ نے بتایاکہ”جناب قیصر رحمن ہمارے اسکول کی گاوان ایجوکیشن سوسائٹی کے پہلے رکن تھے بعدازاں نائب صدر بھی بنے۔ان کامہکر سے بیدر آنا ہوا۔ جناب محسن کمال کے ساتھ مل کر صحافت کی۔ بڑے ہی بولڈ تھے۔ یہاں وہاں نمائندگی کیاکرتے تھے۔ مزاج میں نرگیسیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی“ جناب محمد کمال الدین شمیم ؔنے ان کی حیات میں ان کے لئے ”تہنیت“ لکھی تھی۔ انتقال کے بعد مرثیہ بھی لکھا۔ تہنیت کے دوشعر ملاحظہ فرمائیں ؎
ہراک زباں پہ آج جو قیصر کا نام ہے
اس کا سبب کچھ اور نہیں ان کا کام ہے
وابستہ ایک عرصے سے صحافت سے ہیں جناب
مصروفیات ان کی ہیں بے حد و حساب
(بحوالہ ”تحسین وتہنیت“محمد کمال الدین شمیم ؔ، ص۔ 113)
محمد کمال الدین شمیم نے جو مرثیہ کہا، اس کے بھی دوشعرآپ تمام کی نذر ہیں ؎
قوم کا بے باک تھا اک رہنما جو چل بسا
قوم کی خدمت میں جو مصروف رہتا تھاسدا
آنکھ میں آنسو ہیں میرے، لب پہ ہے ایسی دعا
ہو ترا لطف وکرم قیصر ؔ پر ہر دم اے خدا
(بحوالہ ”تحسین وتہنیت“محمد کمال الدین شمیم ؔ، ص۔ 168-169)
٭٭٭
Comments
Post a Comment