گلبرگہ کے مسلم قائدین کا اگلا سیاسی اقدام کیا ہوگا ؟ - عزیز اللہ سرمست۔

گلبرگہ کے مسلم قائدین کا اگلا سیاسی اقدام کیا ہوگا ؟ -  
عزیز اللہ سرمست۔

داونگیرہ ضمنی انتخاب کے بعد کانگریس نے مسلم قائدین کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا ہے اس سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ کانگریس میں مسلم قائدین کی کوئی اہمیت نہیں ہے کانگریس کے مسلم قائدین نے کانگریس اعلی کمان کو خوش کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی اس کے باوجود کانگریس اعلی کمان نے اپنی پارٹی کے مسلم قائدین پر کبھی اعتماد نہیں کیا دوسری جانب کانگریس کے مسلم قائدین نے پارٹی کو کبھی اس بات کا احساس ہی نہیں دلایا کہ اگر ان پر ہاتھ ڈالا گیا تو کانگریس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے عہدہ  اور پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے برطرف کرنے کے بعد عبدالجبار ایم ایل سی نے ردعمل میں جس طرح کی زبان کا استعمال کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ پارٹی کے رحم و کرم پر سیاست میں زندہ ہیں اگر عبدالجبار ، ایم ایل سی شپ سے استعفیٰ دے دیتے تو پارٹی ان کی ناراضگی پر خود ہی متوجہ ہوتی کانگریس کے مسلم قائدین اور ایم ایل ایز کے نزدیک مسلمانوں سے بڑھ کر پارٹی سے وفاداری اہمیت رکھتی ہے اور یہ وفاداری میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وفاداری دکھا رہے ہیں یا غلامی کر رہے ہیں ؟ اگر مسلم قائدین اور ایم ایل ایز مسلمانوں سے وفاداری دکھائیں تو پارٹی ان کو نظر انداز کرنے کی ہمت نہیں دکھا سکتی
      سیٹ بچانے کے نام پر مسلمان ایم ایل اے کو منتخب کرتے ہیں لیکن منتخب ہونے کے بعد کانگریس کے مسلم ایم ایل ایز مسلمانوں کو یا پھر ان کے مسائل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ایسے میں پارٹی انہیں کیوں اہمیت دے گی ؟ جب وہ مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہی نہیں ہوتے تو پارٹی انہیں کیوں اہمیت دے ؟ کانگریس کے ایم ایل ایز مفاد پرستی کے اس قدر زیر ہوجاتے ہیں کہ وہ پارٹی سے ناراض یا نظر انداز کئے گئے قائدین یا ایم ایل ایز کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ان کی قبر کھودنے کا کام کرتے ہیں کانگریس کی ہمیشہ یہ روش رہی ہے کہ وہ خود کسی مسلم قائد کو نشانہ نہیں بناتی بلکہ ایک مسلم قائد کو دوسرے مسلم قائد کے مقابل کھڑا کر دیتی ہے موجودہ حالات میں سلیم احمد اور رضوان ارشد جس طرح کا رول ادا کر رہے ہیں وہ دن دور نہیں کہ ان کیخلاف بھی اسی طرح کا رول ادا کرنے کے لیے کسی نا کسی کو کھڑا کیا جائے گا عزیز سیٹھ ، جعفر شریف ، روشن بیگ اور قمر الاسلام کیخلاف یہی حربہ استعمال کیا گیا ان حالات میں گلبرگہ میں کانگریس کے مسلم قائدین کو فیصلہ لینا ہوگا کہ ان کا اگلا سیاسی موقف کیا ہوگا ؟    کانگریس میں مسلم کارکنان اور قائدین کا کوئی مستقبل نہیں ہے ہم ان کی بات نہیں کر رہے ہیں پیروی ، گتہ داری کرنا جن کے سیاست میں رہنے کا مقصد ہے بلکہ ایڈوکیٹ وہاج بابا جنیدی جیسے باشعور مسلم قائدین کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ اپنے وجود کو منوائیں اسمبلی لوک سبھا اور مہا نگر پالیکے گلبرگہ کے انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کیلئے ایڈوکیٹ وہاج بابا جنیدی کو کانگریس نے مسلم چہرہ کے طور پر استعمال کیا لیکن 3 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں کوئی سیاسی پہچان نہیں دی گئی اور آئندہ ایسی کوئی امید بھی نہیں ہے آنے والے انتخابات میں ایڈوکیٹ وہاج بابا جنیدی کو پھر سے مسلم چہرہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا کانگریس نے
 مسلمانوں کے بارے میں جو منافقانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے اس کے بارے میں ایڈوکیٹ وہاج بابا جنیدی سے باز پرس کی گئی تو ان سے کیا جواب بن پڑے گا ؟ کانگریس اور اس کی حکومت نے بی جے پی اور اس کی حلیف تنظیموں کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں پر روک لگانے کیلئے کیا اقدامات کئے ؟حجاب گئو کشی اور مسلم ریزرویشن پر پابندی کو واپس لینے کے انتخابی وعدے کیوں برفدان میں رکھے ہوئے ہیں ؟ ان سوالات کے پیش نظر کیا کانگریس کی تائید میں ایڈو کیٹ وہاج بابا جنیدی مسلمانوں کا سامنا کرسکیں گے ؟ پچھلے انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے کانگریس کی تائید کی گئی تھی  لیکن اب کانگریس کو دوبارہ اقتدار کیوں سونپا جائے ؟ اس سوال کا ایڈوکیٹ وہاج بابا جنیدی اور دیگر مسلم قائدین کے پاس کیا جواب ہو سکتا ہے ؟ محض ایک خاندان کی خوشنودی کیلئے کانگریس پوری ریاست کے مسلمانوں کو ناراض کر سکتی ہے تو کیا مسلمانوں کو کانگرس کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کرنا چاہیئے ؟ مسلمانوں کے ووٹوں سے کانگریس حکومت بناتی ہے اور اس حکومت  میں مسلمانوں کو نمائشی عہدے دیئے جائیں اور حکومت پر لنگایتوں کا قبضہ ہو جائے تو مسلمانوں کو ایسی حکومت لانے کی ضرورت کیا ہے ؟ مسلمانوں کو لنگایتوں کی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت چاہے کسی پارٹی کی ہو غلبہ مسلمانوں کو حاصل ہونا چاہیئے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔