آئینہ عصر پر آشوب۔۔ ازقلم : صوفی حضرت عثمان جوہری۔
آئینہ عصر پر آشوب۔
ازقلم : صوفی حضرت عثمان جوہری۔
ہوئی فطرت بروئے نذرِ آتش
مگر تقلید کی زندہ ہے خواہش
قیادت پر بڑا نفسِ ستم ہے
تکبر کی یہاں ہرگام بارش
ہین کیوں دیر و حرم ان کی نظر میں
ہے فتنہ برسرِ عالم زبر میں
بٹی ٹکڑوں میں کیسے نسلِ آدم
فسوں آمیز ہے دنیا اثر میں
عطارد مشتری قہرِ جلالی
مدارِ آسماں ہے کیوں سوالی
درخشاں ہیں فلک پر وہ ستارے
قطب دامِ الم ہے ضربِ عالی
تپش خورشید کی خرمن زدہ ہے
بشکلِ رعد پوشیدہ صدا ہے
قمر کا ہے تغیر آج مبہم
کہ عکسِ زندگی کیوں کر جدا ہے
مگر خاموش ہیں نغمے وفا کے
کہ رخ بدلے ہوئے ہیں اب ہوا کے
خریف فصل گندم جو کی روٹی
طعام و نظم بگڑے ہیں غذا کی
فسادِ خون رقصِ زندگانی
ہے سم آمیز اب دریا کا پانی
نکل کر آ ذرا گوہر صدف سے
تلاطم میں ہے سیمابی روانی
ابھی یہ دور ہے کن کرگسوں کا
کہ ناحق خوں بہے ان بے کسوں کا
قفس میں قید ہے کیوں عزمِ شاہیں
اے عثمان! کھیل جیسے سرکسوں کا
صوفی حضرت، عثمان جوہری۔
ہیپی ہوم کالونی قومی شاہ راہ نمبر ٦ آٹو نگر جلگاؤں مہاراشٹر ۔
Comments
Post a Comment