خواجہ عمادالدین محمود گاواں۔(وزیرِاعظم بہمنی سلطنت بیدر) پروفیسر مقبول احمد مقبول، چِٹگوپہ،ضلع بیدر (کرناٹک)
خواجہ عمادالدین محمود گاواں۔
(وزیرِاعظم بہمنی سلطنت بیدر)
پروفیسر مقبول احمد مقبول، چِٹگوپہ،ضلع بیدر (کرناٹک)
9028598414
عالم وفاضل ،مدبر، تاجرو شاعر، ادیب
منتہِی و ماہرِ تعلیم وسیَّاس و لبیب
نکتہ دان و نکتہ سنج ونکتہ رس، نکتہ، شناس
حاملِ ذہنِ رسا و صاحبِ قلبِ لہیب
حق پسندو حق فروغ وحق شناس و حق نِگر
بے شک ایسا تھا وہ انساں جس کو کہتے ہیں مُنیب
پاک باطنپاک طینت،پاک سیرت ،پاکباز
قدرداں تھا اہلِ حق کا اور خود حق کا طلیب
بامروت،باوفا و باصفا و با وقار
مظہرِ شائستگی تھا اور تھا نسلاً نجیب
خود شناس و خود نِگر تھا اور خدا آگاہ تھا
آپ اپنا محتسِب تھا،آپ اپناتھا حسیب
ایسے قابل شخص کا محمود گاواں نامہے
حق تعالیٰ نے اسے بخشی تھی دانائی عجیب
اس کی آمد،بہمنیوںکے لیے تھی فالِنیک
سلطنت کے حق میںوہ ثابت ہوا حاذِق طبیب
وہ حکومت کیوںنہ پھولے گی پھلے گیدمبدم؟
جس کا ہو رکنِ رکیں محمود گاواں سا اریب
بہمنیہ سلطنت کو اس نے مستحکمکیا
خیر خواہِ سلطنت تھا اور تھا مخلص حبیب
جنگ کے میدانکاماہر سپہ سالار تھا
انصرامِسلطنت کی مد میں تھا سچا حسیب
تھا رئیسِ وقت ،لیکن اصل میں صوفی تھاوہ
سچ کہیں تو صوفی کیا، وہ صوفیوں کا تھا نقیب
علم کا جُویا تھا ایسا، تشنۂ فن ایسا تھا
جو بھی اہلِ علموفنہیں ان کو رکھتا تھا قریب
علم کی نشر واشاعت کا کیا ساماں بہم
اجر ہے محفوظ اس کا، حق تعالیٰ ہے مُثیب
علمکی ترویج سے رغبت اُسے کچھ ایسی تھی
خود پڑھایا کرتا تھا یہ بات ہے کتنی عجیب
پیکرِ حسنِ عمل اور مصلحِ نظم ونسق
سلطنت کا سچا خادم ،ناظرو نگراں، رقیب
انتظامِ سلطنت میں دخل تھا اس کا بہت
حسنِ خدمت کے سبب تھا شاہ کے بے حد قریب
جس قدر بڑھتی گئی مقبولیت دربار میں
اُس قدر پیدا ہوئے تھے اس کے حاسد اور رقیب
بارہا، یہ سانحہ دیکھا ہے چشمِ وقت نے
قابلیت ہی کسی کی بنگئی اُس کا رقیب
اس وزیرِ قابل و دانا پہ بھی گزرا یہی
حکمِ شہ سے قتل ہو جانا ہی تھا اس کا نصیب
حاسدوں کی تیغِ سازش کا ہواآخر شکار
نیک بندہ،بے گنہ، محمود گاوانِ غریب
قتل سے اس کے حکومت پر نحوست چھا گئی
دیکھتے ہی دیکھتے وہ ڈھے گئی مثلِ کثیب
پروفیسر مقبول احمد مقبول۔
چِٹگوپہ،ضلع بیدر (کرناٹک)
9028598414
Comments
Post a Comment