ڈاکٹر زاہد حسین عرفان تماپوری: اردو تحقیق کا روشن ستارہ۔۔ از قلم: رہبرتماپوری۔


ڈاکٹر زاہد حسین عرفان تماپوری: اردو تحقیق کا روشن ستارہ۔
از قلم: رہبرتماپوری۔

برصغیر کی علمی اور ادبی دنیا میں چند شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عزم، محنت اور بصیرت سے علم کے نئے راستے روشن کرتی ہیں۔ ڈاکٹر زاہد حسین عرفان تماپوری بھی ایسی ہی ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ ان کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے، جہاں انہوں نے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر تماپوری نے اردو تحقیق اور ادب میں اہم خدمات انجام دیں، خاص طور پر قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کی حیات پر اپنے تحقیقی مقالے کے ذریعے۔
ڈاکٹر تماپوری نے گلبرگہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی، جہاں انہوں نے اردو تحقیق کے مسائل اور جامعات میں تحقیق کی سمت پر کام کیا۔ ان کے مقالے نے ثابت کیا کہ کسی شخصیت کی زندگی اور کارناموں کا مطالعہ ایک لازمی علمی ضرورت ہے۔ ان کی تحریروں میں تاریخی، سیاسی اور ادبی پہلوؤں کا توازن نمایاں ہے۔
ڈاکٹر زاہد تماپوری کا انداز فکر متوازن، سنجیدہ اور گہرا ہے۔ وہ تحقیق میں خلوص اور مستقل مزاجی کے حامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف معلومات کی گہرائی ہے بلکہ ایک سادہ اور دلکش انداز بھی، جو قاری کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے خطابت اور انشائیہ نگاری میں بھی اپنا ایک الگ مقام بنایا۔
ان کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے۔ انہوں نے کئی کتابیں، تحقیقی مضامین اور مقدمات تحریر کیے۔ اردو تحقیق کے مسائل پر ان کا کام جامعات میں معیاری تحقیق کا ایک نیا پیمانہ بنا۔ ان کا فن خطابت بھی ایک مثال ہے، جس سے سامعین کو ایک گہرا اثر ملتا ہے۔ ڈاکٹر تماپوری کی شخصیت ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک استاد، محقق اور ادیب علم کی روشنی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک رہنمائی کا باعث بنیں گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ