بچے کی تربیت میں والدین کی بے جا طرف داری: ایک خطرناک غلطی۔۔ تحریر : عرشیہ شیرین سید صداقت علی ندوی۔
بچے کی تربیت میں والدین کی بے جا طرف داری: ایک خطرناک غلطی۔
تحریر : عرشیہ شیرین سید صداقت علی ندوی۔
ہمارے معاشرے میں بچوں کی بےجا نازبرداری، ان کی غلط حرکتوں پر ہنس کر ٹال دینا، ان کے جھوٹ کو سن کر سرہلادینا، ان کی بے جا خواہشات کی تکمیل کے لیے کوشاں رہنا، ان کی غلط حرکتوں کو نظر انداز کرکے خاموش ہوجانا۔ جہاں یہ ان بچوں کی تربیت میں بڑا نقص پیداکرتا ہے وہیں انسانی معاشرے کے لیے یہ المناک سانحہ بھی ہے، جس سے بچوں میں بے جا جرأت، شعور کی کمی اور اپنے تئیں احساس ذمہ داری کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔ نیز یہ معاشرے میں ناکارہ انسانوں کےاضافے کا ذریعہ بھی ہے جو انسانی قدروں میں زوال وادبار کا خطرناک حد تک سبب بن کر پوری قوم وملت کو سرنگوں ہونے اور اپنے وجود سے معاشرے میں برائیاں پھیلانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ اپنےوالدین کی حیات ہی میں ان کے لئے عذاب آخرت کا استعارہ اور ان کی زندگی کا وہ غم ناک حصہ بن جاتے ہیں جس کے تصور سے ہی انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ کون سی ایسی برائی نہیں جو وہ انجام نہ دیتے ہوں؟ کونسا ایسا عمل ہے جس سے وہ والدین کو زک نہ پہنچاتے ہوں؟ جبکہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ اولاد اپنے والدین کے لیے ذخیرہ آخرت ہوتی ہے اسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: "جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے، سواۓ تین چیزوں کے کہ ان کا فیض اسے پہنچتاہے۔(۱)صدقۂ جاریہ (۲) وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہو (۳) نیک اولاد جو اس کے لئے دعاۓ خیر کرے۔"
اگر ہم اپنے اطراف میں نظر ڈالیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ موجودہ تربیتی نظام بچے کی خواہشات کی تکمیل کا ایک حصہ بن چکا ہے جو معاشرے میں موجود غیر ذمہ دارانہ روش کا شاخسانہ ہے جس کے ادراک و احساس کی ذمہ داری والدین پر ہے۔ اگر وہی اس نظام تربیت کو سمجھ کر اس کے نقص کو دور نہ کریں تو نسل نو کی اناپرستی و خواہشات کی تکمیل کے جذبے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ کیاہم سمجھتے ہیں کہ بچے جو مختلف قسم کےنشے اور موبائل گیمز کی لت میں مبتلا ہیں کیا وہ ہماری اسی غیر ذمہ دارانہ روش کا شکار نہیں ہیں؟ اگر ہاں تو پھر اس احساس و شعور کا کیاحاصل جو نسل نو کی بربادی کے بعد عقل کے دریچے پر دستک دے۔ ہمارے اطراف میں سینکڑوں ایسے واقعات ہوتے ہیں اور ہورہے ہیں جو ہمیں اس نقص کو دور کرنے کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو انسانی ضمیر کو جگاتے ہیں اور ہماری اس غیر ذمہ دارانہ روش کو تبدیل کرنے میں ہماری معاونت کرتے ہیں لیکن افسوس کہ آج بھی ہم بچوں کی تربیت میں ان کی نفسیات سے کھیل کر ان کی دلچسپیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے فیصلے بدل دیتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ان کے اخلاق وکردار کی تباہی کا ذریعہ بنیں گے ۔ اسی لیے قرآن پاک میں اہل ایمان کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ: "اۓ ایمان والو! بچاواپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو جھنم کی آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں اور جس پر ترش رو اور سخت قسم کے فرشتے متعین ہے۔" (سورۂ تحریم)یہ آیت ہمیں اپنی ذمہ داریوں کے تئیں یہ احساس دلاتی ہے کہ جہاں ہم اپنے ایمان وعمل کی نگرانی کریں وہیں اپنی اولاد کو بھی ان برے اعمال وکردار سے بچانے کی کوشش کریں جو انہیں جہنم کا ایندھن بناتے ہوں گویا یہ ایمان کا بنیادی اور اہم تقاضا ہے جو ہمیں اور ہماری نسلوں کو جہنم سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس لیے ہم بنیادی طور پر ایک ایسے ماحول کو تخلیق کریں جو انسانی معاشرے میں حقوق انسانی کا پاسبان ہو۔جس میں جھوٹ، غیبت، چغل خوری، عداوت اور حسد وبغض جیسی مہلک بیماریوں سے پاک ہو۔ جس کا ہر فرد اعلیٰ کردار واخلاق کا امین ہو۔ جس میں بڑوں اور چھوٹوں کے حقوق کی پاسداری ہو جہاں ظلم ضلالت و گمراہی کے لیے دروازہ بند ہو۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی خانگی ذمہ داری کو اسلامی اقدار کی پاسداری کے ساتھ مکمل طور پر ادا کرنے والے بنیں اور اپنے ایمان کی سلامتی کے ساتھ ساتھ نسل نو کے ایمان کی سلامتی کے خوگر بنیں اور یہی وقت کا اہم تقاضا اور موجودہ زمانے کا چیلینج ہے۔اور اسے قبول کرنا ہر مسلمان والدین پر فرض ہے۔ دعاگو ہوں کہ اللہ ہمیں ان ذمہ داریوں کو کماحقہ ادا کرنے کا اہل بنادے آمین۔
Comments
Post a Comment