لوک ساہتیہ منچ نے ادب کے قیمتی موتیوں کو پروکر قومی یکجہتی کا خوبصورت ہار بنایا ہے - روح پرور و ادب نواز سر زمین پر منچ کا قیام اور ادبی مصروفیات لائقِ تحسین و قابلِ تقلید - صدر سمیتی ادبی، سماجی ،تہذیبی اور تاریخی سرگرمیوں کی ایک فعال و متحرک شخصیت - ڈاکٹر ماجد داغی ، سی این بابل گاؤنکر و اشوک گروجی کا خطاب۔


کلبرگی 28 / اپریل. (راست) لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ مختلف زبانوں ، مذاہب ، مختلف الخیال، مختلف عقائد و علاقوں سے تعلق رکھنے والے شعراء ادباء ، صحافی اور ممتاز دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہوئے قومی یکجہتی کیلئے ایک بے مثال اور ناقابل فراموش خدمات انجام دے رہا ہے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ماجد داغی صدر لوک ساہتیہ منچ نے کرناٹک ہندی پرچار سبھا کے ادبی اجلاس ہال میں منعقدہ ہمہ لسانی ادبی اجلاس سے اپنے صدارت خطاب میں کیا انہوں نے کہا کہ گلبرگہ کی بنیاد ہی قومی یک جہتی پر مبنی ہے کہ اس شہر کا اولین حکمران حسن گنگو بہمنی نے جب گلبرگہ کو اپنا یایہ تخت بنایا تو اپنے برہمن استاد کو مالیہ کا اہم قلمدان عطا کیا اور اپنے نام کے ساتھ استاد کے نام کو جوڑ لیا ۔ انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوک ساہتیہ منچ میں شامل تمام قلمکار اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ریاستی و قومی سطح پر اپنی پہچان رکھنے والے ہیں ۔ گویا منچ نے ادب کے قیمتی موتیوں کو پروکر قومی یکجہتی کا ایک خوبصورت ہار بنایا ہے ۔ اس طرح لوک ساہتیہ منچ کی ادبی سرگرمیاں دراصل باہمی میل جول ، قومی یکجہتی اور اخوت کو فروغ دینے والی ہیں. لوک ساہتیہ منچ کو قومی یکجہتی کی علامت قرار دیتے ہوئے ، پروفیسر خلیق انجم جنرل سیکریٹری انجمن ترقی اردو ہند نئی دہلی و مدیر اعلیٰ ہفت روزہ ”ہماری زبان“ نئی دہلی کے حوالے سے بتایا کہ لوک ساہتیہ منچ کے تحت مختلف زبانوں کے قلم کار ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں جس سے قلم کاروں کو ان کی اپنی زبانوں کے ادب میں ایک بامعنی اضافہ کا موقع ملے گا، ڈاکٹر ماجد داغی نے کہا کہ گلبرگہ کی سرزمینِ پاک حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کے فیوض و برکات سے ہردور میں سرسبز و شاداب رہی ہے۔ گلبرگہ میں علمی وادبی تقاریب پوری توانائیوں کے ساتھ جاری ہیں۔ ایسے روح پرور ادب نواز سر زمین پر لوک ساہتیہ منچ کا قیام اور اس کی مصروفیات لائقِ صد ہزار تحسین و آفرین اور قابلِ تقلید ہیں۔ شری اشوک گروجی نے کہا کہ آج کے دور میں لوک ساہتیہ منچ جیسے علمی و ادبی ادارے جو لسانی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے ماحول کو باقی رکھے ہوئے ہیں ان کی بقاء ان کا تحفظ اور ان کی سرپرستی بے حد ضروری ہے اور یہ کام لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ کے ذریعہ نہایت خوش اسلوبی سے انجام پارہا ہے۔ مہمانِ خصوصی شری سی این بابل گاؤنکر موظف ڈائریکٹر آف فیزیکل ایجوکیشن و صدر ورلڈ ہیلتھ اسپورٹس فونڈیشن کلبرگی نے کہا کہ لوک ساہتیہ منچ گزشتہ تین دہائیوں سے ہمہ لسانی ادبی و تہذیبی خدمات انجام دے رہی ہے جو قومی یکجہتی کے استحکام و فروغ میں لائقِ تحسین ایسا کام ہے جو ملک بھر میں اپنی پہچان آپ رکھتا ہے ، صدر سمیتی ڈاکٹر ماجد داغی ادبی، سماجی ،تہذیبی اور تاریخی سرگرمیوں کی ایک انتہائی فعال و متحرک شخصیت ہے انہوں نے کہا کہ شری ودیادھر گروجی ، سید مجیب الرحمن اور ڈاکٹر ماجد داغی جیسے دانشوروں نے ملک کی سالمیت، یکتا اور اکھنڈتا کے لیے لوک ساہتیہ منچ کے نام سے ایک لاجواب تنظیم کی بنیاد رکھی جو موجودہ حالات کے پس منظر میں ایک اہم ترین ضرورت ہے اجلاس کا آغاز کماری وائشناوی ہیرے مٹھ اور کماری میگھنا ہیرے مٹھی کی پرارتھنا گیت سے ہوا اور بعدازاں جناب سید معزالدین، شری مانک راؤ، شری امر پریہ ہیرے مٹھ و دیگر نے اپنا کلام سنایا، 
شری امر پریہ ہیرے مٹھی نے لوک ساہتیہ منچ کا متاثر کن ٹائٹل سانگ ، ساز و آواز کے ساتھ پیش کرتے ہوئے داد و تحسین حاصل کی ۔ شری اشوک گروجی کے شکریہ پر اجلاس اختتام پذیر ہوا ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ