افسانہ: پہلی بارش - از قلم : رہبر تماپوری۔
افسانہ: پہلی بارش -
از قلم: رہبر تماپوری۔
زمین مدتوں سے بے حس کھڑی تھی۔ سورج کی بے رحم کرنیں ہر شے کو جھلسا رہی تھیں۔ ایک کسان کی زندگی، جو پوری طرح زمین سے وابستہ تھی، آج اپنی امیدوں کے سوکھنے کا درد محسوس کر رہی تھی۔ وہ صبح سے شام تک محنت کرتا، مگر جب زمین نے پانی کا منہ نہ دیکھا، تو وہ خود بھی اندر سے خشک ہونے لگا۔
وہ ایک پرانے درخت کی چھاؤں میں بیٹھا، جس کی شاخیں صدیوں سے زمین کو سایہ دے رہی تھیں۔ وہ سوچتا تھا کہ شاید اس نے اپنی کوششوں میں کچھ کمی کی ہے۔ دل ہی دل میں وہ کہتا، "شاید میں نے اپنے قریب لوگوں سے دوری اختیار کر لی ہے۔"
تب اس نے اپنی ذمہ داریوں کا حساب کیا۔ باپ کا علاج ضروری تھا، آنکھوں کے مسائل کا حل تھا، بچوں کی تعلیم کا بوجھ تھا۔ ہر بوجھ اسے اندر سے کھوکھلا کر رہا تھا۔ ایک دن جب وہ مکمل تھکن سے بیٹھا، تو ایک آنسو اس کی آنکھ سے بہہ نکلا۔ وہ آنسو، جس میں سارے بوجھ تھے، اسی لمحے آسمان نے اپنا دل نرم کیا۔ پہلی بارش کا قطرہ، جیسے کسی دعا کا جواب تھا، زمین پر ٹپکا۔ اس نے سر اٹھایا، شکر کیا، اور پہلی بارش میں اسے امید کا ایک نیا چراغ نظر آیا۔ زمین بھی شاداب ہو گئی، ہر طرف ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔
Comments
Post a Comment