حکومت آندھرا پردیش میں اوقاف کی جائدادیں غیر محفوظ۔ڈاکٹر انور ہادی جنیدی۔(صدر ، امیرالنساء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کڈپہ،آندھرا پردیش)
حکومت آندھرا پردیش میں اوقاف کی جائدادیں غیر محفوظ۔
ڈاکٹر انور ہادی جنیدی۔
(صدر ، امیرالنساء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کڈپہ،آندھرا پردیش)
کڈپہ 21 اپریل 2026
مسلمانوں کی اسلامی، سماجی اور تہذیبی زندگی میں مساجد، مدارس، خانقاہیں اور قبرستان نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ ہماری شناخت، تاریخ اور اجتماعی شعور کی علامت بھی ہیں۔ ان اداروں کے قیام اور استحکام کے لیے ہمارے اسلاف نے اپنی قیمتی جائدادیں اللہ کی رضا اور قوم کی بھلائی کے لئے وقف کیں، تاکہ یہ سلسلۂ خیر قیامت تک جاری رہے۔
لیکن اگر موجودہ حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ایک نہایت تشویشناک صورت حال سامنے آتی ہے۔ وقف کے تحت آنے والی بہت سی جائدادیں بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور ذاتی مفادات کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ ہی وقف بورڈ کی کمیٹیاں تبدیل ہو جاتی ہیں، متولی بدل جاتے ہیں، اور اکثر ایسے افراد کو ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں جن کا مقصد خدمت کے بجائے ذاتی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض بااثر عناصر، سیاسی رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے وقف جائدادوں پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جب بھی کسی وقف زمین کو صنعتی یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہوتی ہے، تو بعض اوقات وہی ذمہ داران، جن پر حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا غیر محسوس طریقے سے اس عمل میں سہولت کار بن جاتے ہیں۔ اس طرز عمل سے نہ صرف امانت میں خیانت ہوتی ہے بلکہ پوری قوم کا اجتماعی نقصان بھی ہوتا ہے۔آج صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کئی جگہوں پر وقف کی زمینوں پر ناجائز تعمیرات ہو رہی ہیں۔ قبرستانوں کی زمینوں پر اپارٹمنٹ، شادی ہال، لاڈج اور دیگر تجارتی عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف قانونی خلاف ورزی ہے بلکہ مسلمانوں کے نزدیک دینی اور اخلاقی لحاظ سے بھی انتہائی قابل مذمت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے خلاف آواز اٹھاتا بھی ہے تو اسے دبانے کی بھر پور کوشش کوشش کی جاتی ہے۔
حالیہ مثالوں میں مختلف شہروں میں وقف جائدادوں کے ساتھ ہونے والی مداخلتیں اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہیں، جہاں بڑی بڑی اراضیات کو لیز پر دے کر ان کے اصل مقصد کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے یہ اندیشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں ان دینی و سماجی اثاثوں سے محروم ہو جائیں گی۔
اس تناظر میں آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور کا حالیہ واقعہ ایک چشم کشا مثال ہے۔ شہر کی معروف انجمن اسلامیہ کی تقریباً 71.57 ایکڑ وقف اراضی کو ریاستی مداخلت کے ذریعے براہ راست لیز پر دے دیا گیا۔ اس اقدام کے خلاف مختلف سماجی و ملی تنظیموں اور ذمہ دار افراد نے آواز بلند کی، عرضیاں پیش کی گئیں، مگر نتیجہ بے سود خاطر خواہ نہ نکل سکا۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ کس طرح وقف جائدادیں، جو دراصل قوم و ملت کی امانت ہوتی ہیں، انتظامی اور سیاسی دباؤ کے تحت اپنے اصل مقصد سے ہٹائی جا رہی ہیں۔
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ مسلمان اپنی جائدادوں کو وقف کرنے سے پہلے سنجیدگی سے غور کریں۔ اگر وہ اپنی زمین یا جائداد مسجد، مدرسہ یا خانقاہ کے لیے دینا چاہتے ہیں تو بہتر یہ ہے کہ ایک مضبوط، شفاف اور جوابدہ ٹرسٹ یا سوسائٹی قائم کریں، جس میں دیانتدار اور باصلاحیت افراد شامل ہوں۔ اس کے علاوہ خاندان یا برادری کی سطح پر بھی اس کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جا سکتا ہے تاکہ جائداد کا اصل مقصد برقرار رہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ قوم میں بیداری پیدا کی جائے، قانونی معلومات حاصل کی جائیں، اور وقف جائدادوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششیں کی جائیں۔ علماء، دانشوروں اور سماجی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر کھل کر بات کریں اور عوام کو اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔مگر افسوس یہ احباب بھی اپنے مفاد کے پیش نظرسرنگوں ہیں.
وقف جائدادیں ، جس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج غفلت برتی تو کل ہمیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے فیصلوں میں دور اندیشی، احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ ہماری عبادت گاہیں اور دینی ادارے محفوظ رہیں.
Comments
Post a Comment