اسلام آباد میں دو بار گفتگو کا آغاز ؟۔ - سید فاروق احمد قادری۔
اسلام آباد میں دو بار گفتگو کا آغاز ؟۔ -
سید فاروق احمد قادری۔
حالیہ بیان میں ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اشارہ دیا ہے کہ یونائیٹڈ اسٹیٹ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ اگرچہ کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن یہ بیان خود ایک بڑی سفارتی چال کی علامت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف “گفتگو” کی بات نہیں، بلکہ طاقت کے توازن کا کھیل ہے۔ ایک طرف امریکہ دباؤ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے—اقتصادی پابندیاں، فوجی نقل و حرکت، اور بحری نگرانی—تو دوسری طرف ایران بھی خاموشی سے اپنے اتحادیوں اور دفاعی حکمتِ عملی کو مضبوط کر رہا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے خطے میں اپنی موجودگی اس حد تک بڑھا دی ہے کہ ایران کے لیے فضائی اور بحری راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی اثر و رسوخ اس قدر ہے کہ وہ ایران کی نقل و حرکت پر براہِ راست نہیں تو بالواسطہ کنٹرول ضرور رکھتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں اس کے اتحادی ممالک موجود ہیں۔
دوسری جانب انڈیا ، چین اور پاکستان جیسے ممالک اس بدلتی ہوئی صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ چین جہاں ایران کے قریب سمجھا جاتا ہے، وہیں بھارت اپنی معاشی اور سفارتی توازن کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان خطے میں اپنی اسٹریٹجک اہمیت کو برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔
یہ ساری صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں “مذاکرات” صرف الفاظ نہیں ہوں گے بلکہ ایک بڑی سیاسی بساط کا حصہ ہوں گے—جہاں ہر چال سوچ سمجھ کر چلی جائے گی۔ سوال یہ نہیں کہ بات چیت ہوگی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کس کی شرائط پر ہوگی؟
Comments
Post a Comment