واجد اختر صدیقی کی نقش تحریر:گلبرگہ کی ادبی روایت کا معتبر دستاویز۔ از قلم : حفصہ بیگ، (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو مطالعہ و تحقیق جامعہ کویمپو شیموگہ)
واجد اختر صدیقی کی نقش تحریر:گلبرگہ کی ادبی روایت کا معتبر دستاویز۔
از قلم : حفصہ بیگ،
(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو مطالعہ و تحقیق جامعہ کویمپو شیموگہ)
اردو ادب کی دنیا میں بعض اہلِ قلم ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی سے مگر پوری دیانت کے ساتھ اپنے عہد کے ادبی سرمائے کو محفوظ اور منظم کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ واجد اختر صدیقی بھی انہی سنجیدہ مزاج قلمکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی کتاب نقش تحریر دراصل گلبرگہ کے ادبی منظرنامے کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اس خطے کی نثری اور شعری روایت اپنی پوری معنویت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
نقش تحریر ان کی تنقیدی کتاب ہے جس کتاب کے متن کے سایہ میں وہ ایک عظیم ناقد کے طور پر نظر آتے ہیں، ان کا شمار متوازن نثر نگاروں میں ہوتا ہے جن کے یہاں تنقید محض رسمی اظہار نہیں بلکہ فکری دیانت کا مظہر ہے۔ ان کی تحریروں میں نہ تو بے جا طوالت ملتی ہے اور نہ ہی اظہار کی کمزوری۔ وہ موضوع کے ساتھ انصاف کرنے کا ہنر جانتے ہیں اور یہی وصف انہیں معاصر ناقدین میں ممتاز کرتا ہے۔
واجد اختر صدیقی کی تنقید کا سب سے نمایاں وصف اُن کی خلاقانہ تنقیدی زبان ہے۔ وہ محض رائے دینے والے ناقد نہیں بلکہ زبان کے معمار ہیں۔ ان کے یہاں تنقید خشک اور سپاٹ بیانیہ نہیں بنتی بلکہ ایک زندہ، متحرک اور معنی آفرین اظہار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی نثر عام تنقیدی اسلوب سے الگ ہو کر اپنی شناخت قائم کرتی ہے۔
ان کی تنقیدی زبان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ موضوع کے ساتھ فکری ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ شاعر یا ادیب جس فضا میں سانس لیتا ہے، واجد اختر صدیقی اپنی زبان کو اسی فضا کے مطابق ڈھال دیتے ہیں۔ اگر زیرِ بحث شاعر علامتی لہجہ رکھتا ہے تو تنقید بھی علامتی اشاروں سے مزین ہو جاتی ہے، اور اگر موضوع سادہ اور بیانیہ نوعیت کا ہو تو زبان میں بھی سلاست اور شفافیت نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہ لچک اور مناسبت اُن کی تخلیقی بصیرت کا ثبوت ہے۔
واجد اختر صدیقی کی تنقیدی زبان انہیں محض مبصر یا ناقد کے درجے تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ انہیں ایک ایسے صاحبِ اسلوب قلمکار کے طور پر سامنے لاتی ہے جو تنقید کو بھی تخلیقی عمل بنا دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب تنقید میں زبان کا شعور شامل ہو جائے تو وہ محض فیصلہ نہیں سناتی، بلکہ ادب کے نئے دریچے وا کرتی ہے۔ اور ان کی تنقید واقعی خلاقانہ تنقید کہے جانے کے قابل ہے، اور یہ کتاب ان کے فن کا مظہر ہے
پروفیسر مجید بیدار اس کتاب کے متعلق لکھتے ہیں
جہاں تک نثر کو اظہار کے سانچے میں ڈھالنے کا معاملہ ہے یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ تحریر کے توسط سے کوئی بھی انسان تشریح اور تجزیے کا کارنامہ انجام دیتا ہے ۔ واجد اختر صدیقی کے لکھے ہوئے مضامین میں جہاں تنوع موجود ہے اور زبان کی چاشنی دکھائی دیتی ہے، وہیں موضوع سے انصاف کرنے کا سلیقہ بھی دکھائی دیتا ہے ۔ وہ موضوع کو طوالت سے بچانے کے لیے بیجا جملے اور فقرے استعمال نہیں کرتے ، بلکہ پوری دیانتداری کے ساتھ الفاظ کی بندش پر توجہ دیتے ہیں اور ساتھ ہی تفہیم کے حق کو ادا کرنے کے لیے اظہار کو بے یار و مددگار ہونے نہیں دیتے ، یہی وجہ ہے کہ اُن کے مضامین ، تبصرے اور تجزیے کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئے دور کی روشنی میں شعر و ادب کو جانچنا اور اُن کی معنویت کو ترسیل کا وسیلہ بناناہی ایسی خصوصیت ہے کہ جس کی وجہ سے وہ کرنا تک کے متوازن نثر نگاروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔
(حوالہ: نقش تحریر، ص 9)
یہ رائے محض تعریفی جملہ نہیں بلکہ واجد اختر صدیقی کے اسلوبِ نقد کی حقیقی عکاسی کرتی ہے۔
نقش تحریر محض مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ گلبرگہ کی ادبی تاریخ کا ایک منظم اور سنجیدہ دستاویز ہے۔ اس میں تنقید، تحقیق، تبصرہ، خاکہ نگاری اور تجزیے کے متنوع نمونے شامل ہیں۔
ڈاکٹر شفیع ایوب نے اسے کرکٹ کی اصطلاح میں ایک "آل راؤنڈر" کی کارکردگی سے تعبیر کیا ہے:
> "واجد اختر صدیقی ایک ایسے آل راؤنڈر ہیں جو بیٹنگ، بالنگ اور فیلڈنگ میں یکساں کمال رکھتے ہیں... ایسے آل راؤنڈر اردو تحقیق اور تنقید کے میدان میں ذرا کم ہی ہیں۔"
(حوالہ: نقش تحریر، ص 12)
یہ تشبہ دراصل کتاب کے تنوع اور مصنف کی ہمہ جہتی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔
ابواب کی ترتیب اور معنویت
کتاب کے ابواب کو نہایت دلکش اور معنی خیز عنوانات سے مزین کیا گیا ہے:
باب روشن، باب زماں، باب سخن، باب ایوان، باب فن، باب جہان، باب چمن، باب میزان اور باب گمان۔
یہ عنوانات محض رسمی تقسیم نہیں بلکہ ذوقِ ترتیب اور فکری شعور کی نمائندگی کرتے ہیں۔
بابِ زماں
"گلبرگہ کی نثری تصانیف: ایک جائزہ"
یہ مضمون کتاب کا نہایت اہم اور تاریخی حیثیت کا حامل حصہ ہے۔ دکنی زبان و ادب کے آغاز سے لے کر عصرِ حاضر تک گلبرگہ کی نثری روایت کا جو جامع مگر مختصر احاطہ اس مضمون میں کیا گیا ہے، وہ مصنف کی تحقیقی بصیرت کا ثبوت ہے۔
اختصار کے باوجود تاریخی تسلسل اور شخصیات کا احاطہ قابلِ تحسین ہے۔ یہ مضمون بلاشبہ آئندہ محققین کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
بابِ سخن شعری شخصیات کے تنقیدی جائزوں پر مشتمل ہے۔
پروفیسر حمید سہروردی پر لکھا گیا مضمون ان کی اظہاریت اور فکری جہات کو واضح کرتا ہے۔
"جدید غزل کا معتبر شاعر: نصیر احمد نصیر" میں ان کی لفظیات اور جمالیاتی شعور کو نہایت سلیقے سے اجاگر کیا گیا ہے۔
حامد اکمل، اکرم نقاش، رزاق اثر، جوہر تماپوری، سعید عارف، عبدالستار خاطر اور عتیق اجمل پر مضامین ان کے فکری اور فنی محاسن کا بھرپور تعارف کراتے ہیں۔
واجد اختر صدیقی کی خوبی یہ ہے کہ وہ شاعر کی شخصیت سے زیادہ اس کے متن پر گفتگو کرتے ہیں، اور اسی میں اپنی تنقیدی دیانت کا ثبوت دیتے ہیں۔
بابِ ایوان میں افسانہ نگاروں کی افسانوی خصوصیات کا تجزیہ شامل ہے، جب کہ بابِ فن مختلف شخصیات کی شخصیت نگاری پر مشتمل ہے۔ یہاں مصنف کا اسلوب نہ تو مدحیہ ہے اور نہ معاندانہ؛ بلکہ ایک معتدل اور متوازن تنقیدی انداز نمایاں ہے۔
باب جہان میں مختلف کتب پر تبصرے شامل ہیں۔ تبصروں میں نہایت اختصار کے ساتھ کتاب کی روح تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو ایک کامیاب مبصر کی علامت ہے۔
بابِ چمن میں مزاح نگاروں پر مشتمل یہ باب اگرچہ مختصر ہے، مگر اس میں مزاح کی تہذیبی اور فکری جہتوں کو نشان زد کیا گیا ہے۔
بابِ میزان تبصرے و تجزیے خاصی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ یہاں زبان و بیان پر مصنف کی گرفت واضح نظر آتی ہے۔ یہ مضامین سنجیدہ مطالعہ رکھنے والوں کے لیے بیش بہا سرمایہ ہیں۔
بابِ گمان میں شاہد فریدی اور حسن محمود کے افسانوں کا باریک بین تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ یہاں واجد اختر صدیقی محض راوی نہیں بلکہ ایک حساس قاری اور نقاد کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
نقش تحریر کی سب سے بڑی خوبی اس کا توازن ہے۔ نہ تو بے جا طوالت ہے، نہ غیر ضروری عبارت آرائی۔ زبان میں سلاست ہے، مگر علمی وقار بھی برقرار ہے۔
عزیز بلگامی کا یہ قول بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے:
> "وہ لکھتے اچھا ہیں اور ان کے مضمون اور شعر پڑھنے کا انداز سامعین کی توجہ کھنچتا ہے… ان کی گفتگو میں فنا کا تصور گہرا ہے۔"
(حوالہ: نقش تحریر، ص 20)
البتہ اگر تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بعض مقامات پر مزید تجزیاتی گہرائی کی گنجائش محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر جہاں تاریخی مواد کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مگر یہ کمی کتاب کی مجموعی اہمیت کو متاثر نہیں کرتی۔
نقش تحریر گلبرگہ کی ادبی روایت کا ایک معتبر دستاویز ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اس خطے کے ادبی سرمایہ کو محفوظ کرتی ہے بلکہ اردو تنقید میں علاقائی ادب کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ واجد اختر صدیقی نے اس کتاب کے ذریعے اپنے عہد کے ادبی نقوش کو تحریر میں محفوظ کر کے آنے والی نسلوں پر ایک احسان کیا ہے۔
Comments
Post a Comment