نواۓ امت و تقدیر جہاں۔ - ازقلم : صوفی حضرت عثمان جوہری، جلگاؤں۔


نواۓ امت و تقدیر جہاں۔ - 
ازقلم : صوفی حضرت عثمان جوہری، جلگاؤں۔

 قدرت کی بھی اس آب رواں پر ہے حکومت
صدیوں سے ہوئی دجلہ و قلزم پہ جہالت 
پابندیء موسم بھی یہ آلات فسوں کیوں 
زرطشت کی آنکھوں میں ہے ایراں کی خضالت

یہ باغ یمن کیا ہے چمن دل کا سکوں بھی
یہ خطہ ایران عرب اصل وطن بھی
پایا ہے شہیدوں نے یہ کلمات کی حد میں
ظلمات کی آتش میں جھلستے ہیں بدن بھی

منظر ہے قیامت کا فلسطین کے اندر
ظلمات کی گردش میں ہوا غرق سمندر
اوصاف کہیں بنتے ہیں عظمت کے لہو سے
تفسیرِ کے اوراق میں لکھا ہے مقدر

اک نور بصد شام نظر قبلہء اول
ترمیم قیادت بہ عمل ہود کا ہیکل
کیا مذہب و ملت کا تقاضا بھی یہی ہے
کیا روح رواں جان ہدف رہتی ہے بیکل

کیا حال زمانہ بھی ہے تقدیر کی قد میں 
الفت بھی کہاں رہتی ہے زنجیر کی حد میں 
وہ خوئے انا جس کا تقدس ہے تفکر 
غازی کا یقیں نور ہے جنت ہے لحد میں

کس درجہ زمیں دوز یہ فتنہ ہے جہاں پر
یہ کیسے بڑی بات یہاں قوم نشاں پر
گلشنِ میں گل و خار نظر آتے ہیں یکجا
 توحید کی منزل میں تو کلمہ ہے زباں پر 

سقراط سے بقرات ارسطو سے فلاطوں
کیا رمز خدا داد ہے اظہار کا موزوں 
نکتہ میں وہ تقدیر ہے عثمان نظر بند 
تعلیم سے بنتا ہے کسی قوم کا مضموں۔

صوفی حکیم حضرت۔
عثمان جوہری۔ 
ہیپی ہوم کالونی ، ممبئ ناگپور قومی شاہراہ نمبر ٦  
آٹو نگر جلگاؤں مہاراشٹر

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔