فون کی غلامی سے نجات: دارالعلوم دیوبند کا خاموش انقلاب(دیوبند سے دنیا تک تعلیمی زوال کے خلاف ایک روشن مشعلِ راہ)۔ بقلم: اسماء جبین فلک۔


فون کی غلامی سے نجات: دارالعلوم دیوبند کا خاموش انقلاب
(دیوبند سے دنیا تک تعلیمی زوال کے خلاف ایک روشن مشعلِ راہ)
بقلم: اسماء جبین فلک۔ 

رات گئے دارالعلوم دیوبند کی جامع مسجد کا صحن ہے۔ صدیوں پرانی دیواروں سے تلاوت کی روح پرور آوازیں گونج رہی ہیں اور ہوا میں عود کی بھینی خوشبو اور مٹی کی سوندھی مہک رچی بسی ہے۔ 18 سالہ عبدالرحمٰن، جو ایک لمبا اور نحیف لڑکا ہے، سفید ٹوپی اوڑھے ضخیم قرآن مجید پر جھکا بیٹھا ہے۔ اس کی انگلیاں سورۃ النور کے اوراق پر پھسل رہی ہیں اور وہ حدیث نمبر 43 پر غور کرنے میں منہمک ہے۔ مگر جیب میں فون کی ہلکی سی لرزش اور بہن کا یہ پیغام کہ یہ ویڈیو دیکھیں ہنسی چھوٹ جائے گی، اس کی تمام تر یکسوئی چھین لیتی ہے۔ وہ سر اٹھاتا ہے، اس کی آنکھوں میں بے چینی جھلکتی ہے، اور ایک لمحے کے بعد وہ دوبارہ اوراق کی جانب لوٹ آتا ہے۔ یہ لمحہ محض ایک طالب علم کی کشمکش نہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کی وہ خاموش جنگ ہے جو وہ کتاب اور بے مقصد تفریح کے درمیان لڑ رہے ہیں۔
اگلے دن 17 اپریل 2026 کو دارالاقامہ کا وسیع ہال ہے۔ ہزاروں طلبہ خاموشی سے بیٹھے ہیں اور فضا میں تناؤ کی ایک لہر دوڑ رہی ہے۔ مائیک پر انتظامیہ کے ترجمان مولانا اسحاق گورا کی آواز گونجتی ہے کہ قیام گاہ میں موبائل فون قطعی ممنوع ہیں۔ نئے طلبہ ہوں یا پرانے کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں اخراج تک کی سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ عبدالرحمٰن کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ فون جو راتوں کی نیندیں چھینتا، قوتِ حفظ کو کمزور کرتا اور استاذ کی نصائح کو ذہن سے محو کر دیتا تھا، اب قصہ پارینہ بن جائے گا۔ ہال میں موجود کئی چہروں پر طمانیت اور کئی پر اضطراب عیاں تھا مگر یہ ایک خاموش انقلاب کا آغاز تھا، ایک ایسا انقلاب جو محض دیوبند تک محدود نہیں بلکہ تعلیم کی حقیقی روح کو بحال کرنے کی ایک عظیم مساعی ہے۔
دارالعلوم دیوبند محض ایک مدرسہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تعلیمی روایت کا زندہ و جاوید نشان ہے۔ 1866 میں قائم ہونے والا یہ عظیم ادارہ برطانوی نوآبادیاتی دور میں مسلمانوں کی فکری اور اخلاقی نشاۃ الثانیہ کا مرکز بنا۔ آج بھی اس کا مقصدِ اولین وہی ہے، یعنی کردار سازی، روحانی تربیت، اور ایک ایسی تعلیم جو انسان کو پاکیزہ بنائے نہ کہ بے مقصد تفریح کا اسیر کرے۔ مولانا اسحاق گورا کا بیان اسی شاندار روایت کی عکاسی کرتا ہے کہ طلبہ کا تعلق کتابوں سے استوار کرنا ہے، فون کی بے معنی دنیا سے نہیں۔ یہ الفاظ محض کسی ضابطے کی تشریح نہیں بلکہ تعلیم کے بنیادی فلسفے کا برملا اعلان ہیں۔ اس جدید دور میں جب ہر ہاتھ میں فون، ہر آنکھ سماجی رابطوں کی دلدل میں اور ہر دماغ بے مقصد تفریح میں غرقاب ہے، تب دیوبند کا یہ فیصلہ تعلیم کے تحفظ کے لیے ایک اعلانِ جنگ ہے۔
ذرا دارالاقامہ کے کمرہ نمبر 304 کا تصور کیجیے جہاں 4 طالب علم مقیم ہیں۔ پہلے یہ کمرہ راتوں کو ویڈیوز، کھیلوں اور لاحاصل گفتگو کی آوازوں سے گونجتا رہتا تھا۔ آج یہاں صرف کتابوں کے اوراق پلٹنے کی مدھم آواز اور ایک پرنور خاموشی طاری ہے۔ عبدالرحمٰن کا ہم کمرہ 20 سالہ عمیر، جو پہلے رات بھر تفریح میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرتا تھا، اب مسکراتے ہوئے اقرار کرتا ہے کہ استاد محمود صاحب بالکل بجا فرماتے ہیں، یہ شیطان ہی تو تھا جو ہم سے تلاوت کی سعادت چھین لیتا تھا۔ پابندی کے ابتدائی 3 دنوں میں ہی عمیر نے 5 حدیثیں حفظ کر لیں جو پہلے ایک مہینے میں بھی ممکن نہ ہو پاتا تھا۔ یہ مثبت تبدیلی محض ایک طالب علم کی نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کی شاندار فکری بحالی کی نوید ہے۔
50 سالہ استاد محمود احمد، جو 1975 میں اسی درسگاہ سے عالم بنے، مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما مسکرا رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں فخر اور کامل یقین جھلک رہا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب ہم طالب علم تھے تو نہ فون تھا اور نہ ہی اس کی بے معنی دنیا کا وجود تھا۔ اس دور میں صرف کتابیں، اساتذہ کا ادب، اور خوفِ خدا دلوں میں موجزن رہتا تھا۔ ایک صفحہ یاد کرنے میں اگرچہ 4 گھنٹے صرف ہوتے مگر وہ ہمیشہ کے لیے ذہن نشین ہو جاتا تھا جبکہ آج یہ شیطانی آلہ محض چند سیکنڈوں میں صدیوں کی تلاوت کا نور چھین لیتا ہے۔ محمود صاحب اپنے ہاتھ سے دارالاقامہ کی جانب اشارہ کرتے ہیں جہاں پہلے ہر دوسرے طالب علم کی جیب میں فون کی لرزش محسوس ہوتی تھی۔ ان کے بقول دیوبند کی اصل طاقت اس کی وہی پروقار خاموشی ہے جو آج دوبارہ لوٹ رہی ہے، اور اسی خاموشی نے صدیوں تک لاکھوں جید علماء پیدا کیے ہیں۔
یہ دانشمندانہ فیصلہ سائنسی تحقیق سے بھی مکمل ہم آہنگ ہے، اگرچہ دیوبند نے اسے خالصتاً مذہبی حکمت کے تحت نافذ کیا ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والے مطالعات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ فون کی محض موجودگی ہی، خواہ اسے استعمال نہ بھی کیا جائے، طالب علم کی توجہ 10 سے 15 منٹ تک منتشر کر دیتی ہے۔ برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں اس پابندی کے بعد امتحانی نتائج میں 6.4 فیصد بہتری دیکھی گئی۔ بھارت جیسے گنجان آباد ملک میں جہاں 25 کروڑ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور 40 فیصد نوجوان فون کی لت کا شکار ہو چکے ہیں، وہاں یہ اقدام کسی تعلیمی معجزے کا باب کھول سکتا ہے۔ روزانہ 4 گھنٹے سے زائد فون کا استعمال ذہنی دباؤ، بے خوابی، اور قوتِ حافظہ کی کمزوری کا بنیادی سبب ہے۔ عبدالرحمٰن اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتا ہے کہ پہلے رات 2 بجے تک ویڈیوز اور صبح بیدار ہوتے ہی مختصر ویڈیوز دیکھنے کا معمول تھا۔ اس کی وجہ سے حفظ کمزور پڑ گیا تھا اور اساتذہ کی نصائح ذہن سے محو ہو جاتی تھیں لیکن پابندی کے محض تیسرے دن ہی حدیث نمبر 43 مکمل طور پر یاد ہو گئی۔ یہ غیر معمولی تبدیلی سائنس کی زبان میں فکری بحالی اور دیوبند کی زبان میں اللہ کی عظیم نعمت ہے۔
اخلاقی نقطہ نظر سے بھی یہ اقدام انتہائی گہرے اثرات کا حامل ہے۔ اسلامی تعلیمات میں حصولِ علم بذاتِ خود ایک عظیم عبادت ہے جہاں ہر لفظ پر تفکر اور دل کی کامل حضوری لازم ملزوم ہیں۔ فون کی لاحاصل مصروفیات اس روحانی طمانیت کو غارت کر دیتی ہیں۔ کتب خانے کے باہر کھڑی زینب بی بی، جن کا لختِ جگر یہاں زیرِ تعلیم ہے، نہایت فخر سے بتاتی ہیں کہ پہلے وہ رات گئے تک بے مقصد ویڈیوز دیکھتا اور صبح غنودگی کے عالم میں رہتا تھا۔ اب وہ پابندی سے تلاوت کرتا ہے اور اس کے چہرے پر نورانیت چھا گئی ہے۔ زینب بی بی کی یہ مسرت دراصل ان تمام والدین کی دلی خوشی ہے جو اپنے بچوں میں کھوئی ہوئی علمی و اخلاقی پاکیزگی دوبارہ لوٹتی ہوئی دیکھ رہے ہیں۔ دیوبند کا دارالاقامہ اب ایک ایسا مقدس قلعہ بن چکا ہے جہاں فون کی آلودہ دنیا سے بالاتر صرف علم کی شفاف روشنی باقی رہ گئی ہے۔
یہ جرات مندانہ اقدام محض دیوبند تک محدود نہیں بلکہ یہ موجودہ عالمی تعلیمی بحران کا ایک بہترین حل ہے۔ فرانس، آسٹریلیا، اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک نے بھی اپنے تعلیمی اداروں میں فون پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مقتدر مدارس نے بھی بعینہٖ یہی دانشمندانہ راستہ اختیار کیا ہے۔ ہر مقام پر اس کا نتیجہ یکساں اور حوصلہ افزا نکلا کہ طلبہ کی توجہ بحال ہو گئی، قوتِ حفظ کو تقویت ملی اور ان کا کردار نکھر گیا۔ بھارت میں سماجی رابطوں کی لت ایک قومی وباء کی شکل اختیار کر چکی ہے اور 40 فیصد نوجوان روزانہ 4 گھنٹے سے زیادہ وقت اس سراب میں ضائع کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں تعلیمی زوال، ذہنی تناؤ، اور اخلاقی گراوٹ جنم لے رہی ہے۔ بلاشبہ دیوبند کا یہ فیصلہ ان تمام اداروں کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ ہے۔
ماضی کے ایک طالب علم محمد فاروق، جو اب دبئی میں برسرِ روزگار ہیں، وہ بھی اس انقلابی اقدام کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دیوبند نے مجھے یکسوئی اور نظم و ضبط کا درس دیا۔ گو کہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد مجھے ای میل اور کمپیوٹر کی مہارتیں سیکھنا پڑیں مگر میرے عالم بننے کی مستحکم بنیاد وہی رہی۔ دنیاوی علوم تو کسی بھی موڑ پر سیکھے جا سکتے ہیں مگر ایک پختہ کردار کیونکر تعمیر ہوگا؟ فاروق کا یہ سوال انتہائی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں طلبہ صرف مساجد کے محرابوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ معاشرے کے معمار، شفیق استاد، اور بہترین رہبر ثابت ہوں گے۔ ان کے لیے اوّلین ترجیح ایک پاکیزہ کردار کی تشکیل ہے جس کے بعد دنیاوی ہنر بآسانی سیکھے جا سکتے ہیں۔ کتب خانے کی بہترین سہولیات، مشترکہ کمپیوٹر کے کمرے، اور والدین کی کڑی نگرانی میں تعلیمی مواد کی فراہمی جیسے اقدامات وہاں پہلے سے ہی رائج ہیں۔
دارالعلوم دیوبند نے نہ صرف اپنی شاندار روایت کو زندہ جاوید رکھا ہے بلکہ اسے اس جدید دور کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ بھی بنا دیا ہے۔ دارالاقامہ کی پرسکون خاموشی، مسجد کی روح پرور تلاوت اور کتب خانے کی علمی رونقیں اس خاموش انقلاب کی برملا گواہی دے رہی ہیں۔ عبدالرحمٰن، عمیر، زینب بی بی اور محمود صاحب کی چشم کشا کہانیاں اس بات کی غماز ہیں کہ اس ڈیجیٹل آلے کی غلامی سے نجات قطعی طور پر ممکن ہے۔ یہ جرات مندانہ فیصلہ تعلیم کی حقیقی روح کو بحال کرنے کی جانب ایک عظیم الشان قدم ہے جس کی پیروی ہر تعلیمی ادارے کو لازماً کرنی چاہیے۔
رات گئے وہی مسجد کا پرنور صحن ہے۔ عبدالرحمٰن بغیر کسی فون کی مداخلت کے پرسکون بیٹھا ہے۔ تلاوت کی آواز نہایت صاف اور شفاف ہے، یکسوئی اپنے کمال پر ہے، اور دل پوری طرح مطمئن ہے۔ دارالاقامہ میں مکمل خاموشی طاری ہے اور کتب خانے تک طلبہ کے بستوں کی ایک طویل قطار نظر آتی ہے۔ دیوبند نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ کتاب کی پائیدار روشنی ہمیشہ فون کی عارضی جھلملاہٹ پر غالب رہتی ہے۔ یہ پروقار خاموشی ہی اس انقلاب کی پہلی اور سب سے دلکش آواز ہے، ایک ایسی مدھر آواز جو صدیوں تک فضاؤں میں گونجتی رہے گی، لاکھوں قلوب کو منور کرے گی، اور تعلیم کو اس کے اصل اور بلند ترین مقام پر دوبارہ بحال کر دے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔