ازل کی پکار: ممتا کا ابدی احساس - از قلم: رہبر تماپوری۔
ازل کی پکار: ممتا کا ابدی احساس -
از قلم: رہبر تماپوری۔
وقت کے بے رحم دھارے میں زندگی کی تلخیاں انسان کو مصروف کر دیتی ہیں کہ وہ اپنی جڑوں کو فراموش کر دیتا ہے، مگر فطرت کا ودیعت کردہ رشتہ کبھی نہیں مرتا۔ برسوں کی ریاضت اور گھریلو بوجھ تلے دبی میری ضعیف ماں، جو ایثار کا پیکر تھیں، آج جب علالت کے بستر پر بیدار ہوئیں تو زبان پر بس ایک صدا تھی: "میری اماں کہاں ہیں؟"
یہ محض سوال نہ تھا، بلکہ شعور کی گہرائی سے ابھرنے والی وہ پکار تھی جو دہائیوں کے فاصلے سمیٹ کر بچپن میں پناہ ڈھونڈ رہی تھی۔ وقت کی گرد جس یاد کو دھندلا نہ سکی، وہ ماں کی اپنی ماں سے وابستگی تھی۔ یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ انسان عمر کے کسی بھی حصے میں ہو، اس کی تڑپ ماں کی طرف ہی رہتی ہے۔ یہ بندھن زمان و مکاں سے آزاد ہے۔ ضعیفی کے اس وقت ماں کا اپنی ماں کو پکارنا ثابت کرتا ہے کہ دنیا کی ہر آسائش ہیچ ہے، سکونِ قلب کا مرکز صرف ماں کی مامتا ہے۔ یہ ابدی سچائی ہے جو ہمیں والدین کی قدر کا احساس دلاتی ہے۔
Comments
Post a Comment