(طنزومزاح)بطرح”انگُور کھا کے شیخ ہے دُشمن شراب کا"۔ ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( تلنگانہ،انڈیا )


(طنزومزاح)بطرح”انگُور کھا کے شیخ ہے دُشمن شراب کا"
ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( تلنگانہ،انڈیا )


کانٹوں سے بیر رکھتا ہے عاشق گُلاب کا
“انگُور کھا کے شیخ ہے دُشمن شراب کا”

ہم نے مزہ چکھا ہی نہیں ہے شراب کا
واعظ نہ ہم سے ذکر کرو تُم عذاب کا

ستر برس کا ہو کے بھی لگتا ہوں میں جواں
احسان مُجھ پہ کتنا ہے دیکھو خضاب کا

اک عالمی مُشاعرہ آیا ہوں پڑھ کے میں
اب میں بھی مُستحق ہوں میاں اک خطاب کا

بُرقعے میں ہیں وہ پھر بھی نُمایاں ہے تھوبڑا
ائے کاش اُس پہ ہوتا جو ٹُکڑا نقاب کا

چوکھا لگائیں یا کہ رکھیں سر پہ آپ وگ
واپس نہ آئے گا کبھی موسم شباب کا

خود کی غزل میں کہتے ہو ہے اس میں رنگ میرؔ
میری غزل پہ تبصرہ کیا ہے جناب کا

جب سے کتابی چہرے نے اس کو دیا ہے ہاتھ
دُشمن ہی بن گیا ہے وہ اب ہر کتاب کا

مُشکل بہت ہے رات کو لوٹا ہوں گھرسحر
اب سلسلہ چلے گا سوال و جواب کا

 فریدسحر،حیدرآباد دکن ( تلنگانہ،انڈیا )

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ