جامعۃ البنات حیدرآباد میں نتائج امتحان سالانہ و تقسیم انعامات مولانا حافظ رفیق احمد نظامی و ڈاکٹر سید معراج الدین کا خطاب۔


جامعۃ البنات حیدرآباد میں نتائج امتحان سالانہ و تقسیم انعامات
 مولانا حافظ رفیق احمد نظامی و ڈاکٹر سید معراج الدین کا خطاب۔

حیدرآباد۔18/اپریل(راست)اصل عملی زندگی ہے، مارکس نہیں۔نمبرات میں کمی زیادتی۔ اعلیٰ ادنیٰ اور کامیابی ناکامی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ لیکن اصل یہ ہے کہ انسان عملی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرے اور اس میں کسی کوتاہی یا کمزوری کا مظاہرہ نہ کرے۔جن طالبات کے نمبرات کم آئے ہیں انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ آج نہیں تو کل محنت کر کے کامیابی مل سکتی ہے۔یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ البتہ اتنا ہے کہ ہمت نہ ہاریں اور مسلسل کوشش کرتے رہیں۔ جو جدوجہد کرتا ہے وہ بالآخر کامیاب ہوتا ہی ہے۔ اسی طرح جو طالبات فارغ ہو رہی ہیں ان سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ دعوتی کام کے سلسلے کو جاری رکھیں۔ہمارا کام ہی ہے سیکھ کر دوسروں کو سکھانا۔ ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی ہدایت دی ہے۔ اس لیے جن سے جس قدر ممکن ہو سکے اپنی خدمات کے سلسلے کو جاری رکھیں۔تعطیلات کا صحیح استعمال کریں۔ جو کتابیں دی جا رہی ہیں اس کا مطالعہ کریں اور اس کے نوٹس تیار کریں۔ ان خیالات کا اظہار محترم جناب سید محمد معرا ج الدین سکریٹری جامعہ نے جامعۃ البنات حیدرآباد میں منعقدہ جلسہ نتائج امتحان سالانہ و تقسیم انعامات میں طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مایوسی کو اپنے دل و دماغ سے نکال دینے کی تلقین کی۔مولانا حافظ رفیق احمد نظامی ناظم جامعہ نے اعلی نمبرات سے کامیاب ہونے والی طالبات کو مبارک بادی پیش کی اور کلیدی خطاب کرتے ہوئے تقریب کی مناسبت سے طالبات کے سامنے تین اہم ہدایتوں کی تلقین کیں۔مولانا نے کہا کہ اپنے اندر تسلیم و رضا کی کیفیت پیدا کریں۔زندگی بھر اللہ سے راضی رہنا سیکھیں بلکہ ہماری صبح کا آغاز ہی تسلیم و رضا سے ہو تسلیم و رضا کا اعلیٰ نمونہ دعاء طائف ہے۔ اس کے پڑھنے کا اہتمام کریں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زخموں سے چور ہیں۔جسم لہولہان ہے۔تکلیف اور پریشانی کے عالم میں ہیں۔ اس کے باوجود زبان پر اللہ تبارک و تعالی کا شکر اس کی حمد و ثنا اور اس کے فیصلے پر رضامندی کے کلمات جاری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ آپ ہی کی حمد و ثنا ہے یہاں تک کہ آپ راضی ہو جائیں۔تسلیم اور رضا کا تعلق ہمارے ایمان سے ہے۔اللہ نے جو دیا ہے اس پر راضی رہیں۔ قناعت پسندی سے کام لیں۔ کتنے ایسے سماج میں ننگے بھوکے پریشان حال لوگ موجود ہیں۔ اللہ نے آپ کو ان سے بہتر بنایا اس لیے ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں۔ قدم قدم پر اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھیں۔ یہ سانس جو اللہ نے ہمیں دی ہے کیا یہ کم بڑی نعمت ہے اس پر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔اسی سے ایمان کی لذت اور حلاوت حاصل ہوتی ہے۔ مولانا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوسری اہم بات جس پر ہمیں توجہ دینی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اچھے خواب دیکھیں۔اونچی تمنائیں رکھیں۔اپنے آپ کو حضرات صحابیاتؓ جیسی بنانے کی کوشش کریں۔ ان کی طرح جرأت و ہمت اور حوصلہ اپنے اندر پیدا کریں۔ اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔کچھ کر دکھانے کی تمنا اپنے اندر پیدا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کرتے تھے کہ اپنی تمنائیں بیان کرو خواب دیکھو۔ تمہاری کیا تمنائیں ہیں بتاؤ؟ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اپنی تمناؤں کا ذکر کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی تمنا ان کے سامنے پیش کر تے۔ اس لیے عزیز طالبات اپنی تمناؤں اور آرزؤں کو بلند رکھو۔صحابیات جیسی زندگی گزارنے کی کوشش کرو۔ زندگی میں اگر اللہ تبارک و تعالی مال و اسباب سے نوازے تو اللہ کے راستے میں صحیح نیت کے ساتھ۔صحیح جذبے کے ساتھ۔اور نہایت اخلاص کے ساتھ خرچ کرنے کا اہتمام کرو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ایک معذور صحابی رضی اللہ عنہ کے چند کھجوروں کو بڑے بڑے صحابہ کے پیش کردہ مال و اسباب پر اوپر سے بکھیر دیا اور اور ان کی کھجوروں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ اور اجر عظیم کا سبب قرار دیا۔مولانا نے خطاب کرتے ہوئے تیسری بات پیش کی کہ سعی و عمل سے اپنی زندگی کو آراستہ کرو۔ خوب کام کرو۔خوب عمل کرو۔ نتیجے کا معاملہ اللہ کے اوپر چھوڑ دو۔ اللہ سے اجر عظیم کی تمنا رکھو لوگوں سے اپنے مراسم بہتر بناؤ۔ان کے حال و احوال پوچھتیرہو۔کچھ کر دکھانے کا عزم کرو۔ الٰہی تعلیمات اور اسوہ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زندگی کے ایک ایک پل کو سجاؤ۔ تبھی جا کر تمہیں رب تعالیٰ شانہ کی طرف سے راضیۃ مرضیۃ کا خطاب ملے گا۔ مولانا نے اس موقع پر طالبات کے درمیان انعامات تقسیم کیے اور انعامات میں دی گئی کتابوں کا خلاصہ لکھنے کی ہدایت دی۔قبل ازیں جامعہ کی معلمات اور کلاس ٹیچرز نے طالبات کے نتائج سنائے اور ان کے انعامات کا اعلان کیا۔ ناظم جامعہ اور سکریٹری جامعہ کے ہاتھوں انعامات تقسیم کیے گئے۔اس موقع پر طالبات نے تعلیمی و تقریری مظاہرہ بھی پیش کیا۔۔جلسے میں محترمہ آنسہ سمیہ صدر معلمہ صاحبہ کے علاوہ تمام معلمات و معلمین اور اولیاء طالبات کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔