عہدِ حاضر میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کا انحطاط لاک ڈاؤن کے بعد کی فکری بحران کی ایک جھلک - از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو (معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ)
عہدِ حاضر میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کا انحطاط لاک ڈاؤن کے بعد کی فکری بحران کی ایک جھلک
از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو (معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ)
عہدِ حاضر میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں بتدریج زوال پذیر ہوتی جا رہی ہیں۔ اگر ماضی کے طلبہ اور آج کے طالب علم کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ فرق نہایت واضح اور چشم کشا محسوس ہوتا ہے۔ ایک صاحبِ نظر استاد کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر اس فکری و تخلیقی انحطاط کے پسِ پردہ کون سے عوامل کارفرما ہیں؟ کیا لاک ڈاؤن اس کا بنیادی سبب ہے یا یہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور ہمہ جہت ہے؟
کورونا وبا کے دوران نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن نے نظامِ تعلیم کو یکسر آن لائن طرز پر منتقل کر دیا۔ یہ اقدام وقتی ضرورت کے تحت ناگزیر تھا، تاہم اس کے دور رس اثرات نہایت سنگین صورت میں سامنے آئے۔ طلبہ کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی آسان دستیابی نے تعلیمی عمل کو سہل تو بنا دیا، مگر اس کے نتیجے میں طلبہ کی فکری خود مختاری اور تخلیقی استعداد شدید متاثر ہوئی۔طلبہ نے ہر چھوٹے بڑے سوال، اسائنمنٹ اور منصوبہ جاتی کام کے لیے انٹرنیٹ پر انحصار کرنا شروع کر دیا۔ نتیجتاً غور و فکر، تجزیہ اور تخلیق کا وہ عمل، جو کسی بھی طالب علم کی ذہنی تربیت کا بنیادی جزو ہوتا ہے، بتدریج ماند پڑنے لگا۔ ماضی میں طلبہ کسی مضمون کی تیاری کے لیے کتب کا مطالعہ کرتے، اساتذہ سے رہنمائی حاصل کرتے اور اپنی فہم و ادراک کی بنیاد پر مواد ترتیب دیتے تھے، جس سے ان کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں جِلا پاتی تھیں۔ لیکن آج کا طالب علم تیار شدہ معلومات پر انحصار کرتے ہوئے اپنی فکری قوتوں کو بروئے کار لانے سے گریزاں نظر آتا ہے۔ مزید برآں، والدین کا غیر ارادی طرزِ عمل بھی اس رجحان کو تقویت دے رہا ہے۔ بچے جب کسی سوال یا مسئلے کا سامنا کرتے ہیں تو فوراً موبائل یا والدین کی جانب رجوع کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ خود غور و خوض سے کام لیں۔ یہ رویہ ان کی خود اعتمادی، خود انحصاری اور فکری پختگی کو متاثر کر رہا ہے۔
آج صورتِ حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اگر طلبہ کو بغیر انٹرنیٹ کے ایک سادہ مضمون تحریر کرنے یا کسی سبق کو ازخود سمجھنے کے لیے کہا جائے تو وہ تذبذب اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے موبائل اور انٹرنیٹ ناگزیر وسیلہ بن چکے ہیں، جو اس امر کی واضح علامت ہے کہ ان کی تخلیقی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں۔
یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اس صورتِ حال کا سنجیدگی سے ادراک کریں۔ اساتذہ اور والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلبہ کو محض معلومات کے حصول تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان میں غور و فکر، تحقیق اور تخلیق کا ذوق پیدا کریں۔ تعلیمی نظام میں بھی ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے جو طلبہ کی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشیں۔ بصورتِ دیگر، ہم ایک ایسی نسل کو پروان چڑھائیں گے جو معلومات کی حامل تو ہوگی، مگر فکر و تخلیق کی دولت سے محروم رہے گی۔
Comments
Post a Comment