ڈاکٹر فاضل حسین پرویز کو "نئی دنیا میڈیا فار یونٹی ایوارڈ" - نئی دہلی میں شاندار تقریب۔


کے این واصف : دنیائے صحافت میں ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز ایک معروف نام ہے۔ جنہن اس ہفتہ دہلی میں منعقد ایک شاندار تقریب میں ملک کی کئی نامور شخصیات کے ساتھ “نئی دنیا میڈیا فار یونٹی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ نہ صرف “گواہ ویکلی” کے ایڈیٹر فاضل حسین کے لئے بلکہ شہر حیدرآباد کے لئے بھی ایک اعزاز ہے۔ 
حیدرآباد میں قائم اردو ہفتہ وار گواہ نے صنعت کے چیلنجوں کے باوجود اپنی پرنٹ اور ڈیجیٹل موجودگی کو قائم رکھتے ہوئے 27 سال مکمل کئے ہیں۔ 
 ایک جریدہ شائع کرنا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے، اورچاس سے بھی بڑھ کر ایک اردو ہفتہ وار کو پابندی شائع کرنا، اسے قارئین میں مقبول رکھنا، بڑھتے ہوئے اخراجات اور محدود وسائل کے ساتھ مارکٹ میں قدم جمائے رہنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ کسی زمانے میں، ہندوستان میں ایک پھلتا پھولتا اردو پریس کا ماحول تھا، جس میں ادب، مذہب، سنیما اور حالات حاضرہ کے رسائل تھے پابندی سے شائع ہوتے تھے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ، زیادہ تر جرائد و رسائل غائب ہو گئے بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور قارئین کی بدلتی عادات نے انھین جینے کے قابل نہیں چھوڑا۔ 
 اردو کے گرتے ہوئے گراف، نامساعد حالات درمیان، گواہ، حیدرآباد میں مقیم اردو ہفتہ وار، اپنے وجود کو قائم رکھنے اور بقا کی ایک نادر مثال ہے۔ گواہ اپنے 27 ویں سال میں، اشاعت قومی اور بین الاقوامی مسائل کا تیز تجزیہ پیش کرتاہے اور پرنٹ اور ڈیجیٹل دونوں شکلوں میں مسلسل قارئین تک پہنچتا ہے۔ نیز اس کی بقا ایک ایسے دور میں عزم کا ثبوت ہے جہاں آزاد آوازوں کو برقرار رکھنا مشکل ہورہا ہے۔ 
 اس کاوش کے مرکز اس کے ایڈیٹر سید فضل حسین پرویز جن کا صحافتی سفر چار دہائیوں پر محیط ہے۔ وہ 46 سال سے اردو میڈیا کے لیے پرعزم ہیں انھون نے گواہ کی ایک ایسے پلیٹ فارم میں ماحول میں پرورش کی اس جو اس کو سمجھوتہ اورمسلحت کی صحافت سے دور رکھ کر دیانتدارانہ صحافت کی مثال قائم رکھی۔ 
 ڈاکٹر فاضل کی جستجو اور والہانہ لگن کے اعتراف میں 18 اپریل کو نئی دہلی میں منعقدہ نئی دنیا میڈیا برائے یونٹی ایوارڈز کی شکل میں تسلیم کیا گیا۔ فاضل کو اردو صحافت میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں مولانا عبدالوحید صدیقی کے نام سے منسوب ایک ایوارڈ عطا کیا گیا۔ 
 ایوارڈز کی تقریب کی صدارت سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کی، جس میں سپریم کورٹ کے جسٹس ہرشکیش رائے مہمان خصوصی تھے۔ حاضرین میں ششی تھرور، راجیو شکلا (ایم پیز)، راج دیپ سردیسائی، برکھا دت، نیرجا چودھری (سینئر صحافی)، اور اختر الواسع جیسی دانشور شخصیت شامل تھے، جو تقریب کی قدآوری کی غمّاز تھی۔ 
 اس تقریب میں ضیاء السلام، وویک شکلا، سدھیر مشرا، سوربھ شکلا، پرشوتم اگروال، سندیپ چودھری، اروند گوڑ، منجول، رانی خانم، اور وائل عواد سمیت کئی دوسرے لوگوں کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔
 نئی دنیا فاؤنڈیشن کے چیئرمین شاہد صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کی مضبوطی ایماندار اور آزاد صحافت پر منحصر ہے۔ مقررین نے ذاتی مفادات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ صحافتی کی سالمیت میں کوئی بھی سمجھوتہ جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ