اپریل فول اور اسلام کی تعلیم - از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں)
اپریل فول اور اسلام کی تعلیم۔
از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں)
یکم اپریل کو دنیا میں "اپریل فول" کے نام سے ایک ایسا دن منایا جاتا ہے جس میں لوگ جھوٹ بول کر، دھوکہ دے کر اور دوسروں کو تکلیف پہنچا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اسلام ہمیں اس طرح کی کسی بھی حرکت کی اجازت نہیں دیتا۔کیوں کہ اسلام سچائی کا دین ہے۔دین حق ہے۔ جھوٹ اور دھوکہ اس میں سختی سے منع ہے۔
نبی کریم ﷺ نے منافقین کی چار نشانیاں بیان فرمائیں ہے
پہلی
جب بات کرے تو جھوٹ بولے
دوسری
جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے
تیسری
جب امانت دی جائے تو خیانت کرے
چوتھی
جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے
(بخاری و مسلم)
غور کریں! اپریل فول میں سب سے پہلا کام ہی جھوٹ بولنا ہوتا ہے، جو منافق کی نشانی ہے۔
جھوٹ کا انجام:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے"
(مسلم)
ایک اور حدیث میں ہے:
"جھوٹ انسان کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے" مزید نبی ﷺ نے فرمایا:
"جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا"
(ابو داؤد)
اپریل فول نہ صرف جھوٹ پر مبنی ہے بلکہ یہ غیر مسلموں کی رسم بھی ہے، جس میں کسی کو دھوکہ دینا اور تکلیف دینا عام سمجھا جاتا رہا ہے اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسی بیہودہ خیالات اور نظریات سے خود بھی بچے اور معاشرے کو بھی بچائے رکھنے کی کوشش کریں اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے آمین
Comments
Post a Comment