جنگ نہیں، طاقت کا کھیل -؟ سید فاروق احمد قادری۔
جنگ نہیں، طاقت کا کھیل -؟
سید فاروق احمد قادری۔
ایران امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں 38 دن ہو چکے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں
آج دنیا جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر جنگ نہیں ہو رہی تو پھر مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟ کیوں تیل مہنگا، گیس کم، سونا آسمان پر اور عام آدمی کی زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے یونائٹڈ سٹیٹ ہو ایران یا اسرائیل ہر طرف کشیدگی ہے، اور اس کشیدگی کا بوجھ سیدھا عوام پر آ رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لیڈر ایک طرف کہتے ہیں کہ “ہم نے جنگ شروع نہیں کی”، اور دوسری طرف یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ “ایران کو 48 گھنٹوں میں تباہ کر سکتے ہیں”۔ یہی تضاد دراصل آج کی عالمی سیاست کی پہچان بن چکا ہے — الفاظ میں امن، اور لہجے میں طاقت کی نمائش۔
دوسری جانب ایران اپنی پوزیشن پر ڈٹا ہوا ہے، وہ نہ دباؤ ماننے کو تیار ہے اور نہ پیچھے ہٹنے کو۔ جبکہ اسرائیل اپنی سیکیورٹی کے نام پر مسلسل سخت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس ساری صورتحال میں اصل جنگ بندوق سے زیادہ بیانیے، دباؤ اور طاقت کے اظہار کی بن چکی ہے۔
میڈیا کا کردار بھی کم پیچیدہ نہیں۔ BBC ہو یا دیگر عالمی چینلز، ہر ایک اپنی معلومات اور زاویے کے مطابق خبریں پیش کر رہا ہے۔ کہیں خطرہ زیادہ دکھایا جا رہا ہے، کہیں کم — اور عوام اس تضاد میں الجھ کر مزید پریشان ہو رہی ہے۔
اسی کشیدگی کا نتیجہ ہے کہ سمندری راستے غیر یقینی کا شکار ہیں، تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، اور ایشیا خصوصاً ایران جیسے ممالک پر اس کا براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔ جب سپلائی متاثر ہو، تو مہنگائی کا طوفان آنا لازمی ہو جاتا ہے۔
ادھر ایک اور حقیقت بھی سامنے آ رہی ہے — عوام اب خاموش نہیں۔ امریکہ میں مظاہرے، اسرائیل میں احتجاج، اور دنیا بھر میں بڑھتی بے چینی اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اس “طاقت کے کھیل” سے تنگ آ چکے ہیں۔ جنگ ہو یا نہ ہو، اس کے اثرات لوگوں کی زندگیوں کو ہلا رہے ہیں۔
اب بات ہوتی ہے کہ اس کشیدگی کو کون روک سکتا ہے؟ عالمی سطح پر اکثر نظر روس اور چین کی طرف جاتی ہے — کیونکہ یہی وہ طاقتیں ہیں جو توازن پیدا کر سکتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی امن چاہتے ہیں، یا وہ بھی اسی کھیلے کا حصہ ہیں؟
یہ وقت سچ کو سمجھنے کا ہے، نہ کہ صرف سننے کا۔
جنگ شاید ابھری شروع نہیں ہوئی، مگر اس کا سایہ پوری دنیا پر ہے —
اور اس سایے میں سب سے زیادہ پس رہی ہے عوام۔
Comments
Post a Comment