ملک اور سماج کو دانشور مصنف و دانشورشاعر، دانشور ڈاکٹراور دانشور سائنسدان کی ضرورت ہے : محمدیوسف رحیم بیدری۔
بیدر۔ 15/اپریل (پریس ریلیز) ایک پریس نوٹ کے ذریعہ اردو ودکنی کے ممتاز ادیب و شاعر جناب محمدیوسف رحیم (میرؔ) بیدری نے کہاہے کہ یہ مسرت کی بات ہے کہ ہمارے خانگی اسکول اورخانگی کالجس ڈاکٹر س اور انجینئرس بنانے میں پوری طرح ماہر ہوچکے ہیں لیکن ایماندار سیاست دان، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ہمدرد وکیل، سچا مؤرخ، محنتی اور انسانیت نوازسائنسدان (جو ہنگامی حالات میں ملک کو اپنی ایجادات کے ذریعہ بچاسکے) لگتاہے اسکول اورکالجس کی ترجیحات میں بہت پیچھے کامقام رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک عدد عالمی سطح کاصحافی اور 50سے زائد ملک گیر سطح کے صحافی اور 25سے زائد ریاستی سطح کے صحافی بھی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ گذشتہ بیس سال کے دوران بیدر ضلع سطح پر بھی نئے صحافی پید انہیں ہوئے ہیں۔ جناب میرؔبیدری نے آگے کہاکہ لیکن آج میری بات مذکورہ ہستیوں سے ہٹ کر دانشور مصنف، دانشور شاعر،اور دانشور ادیب و دانشورڈاکٹرس اور دانشور سائنسدان بنانے کی ہے۔ دانشور ی کاتعلق گفتگو سے نہیں ہوتابلکہ دانشوری کاحقیقی تعلق لکھنے لکھانے سے ہوتاہے۔ تحقیقی کام بتاتاہے کہ فلاں اور فلاں ہستیوں نے یہ کارنامہ انجام دیاہے۔ تقریرکرنے والوں کو بڑااوران ہی کو رہنما سمجھنے کامرض پھیلتاجارہاہے۔ تقرریں اگر بڑا بناتیں تو مسلمان آج پوری دنیا پر چھائے ہوئے ہوتے۔ جناب محمدیوسف رحیم (میرؔ)بیدری نے بتایاکہ ایک زمانہ تھا،مسلمان پوری دنیا پر اپنی کتابوں اور لائبریریوں کی وجہ سے چھائے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کاریسرچ ورک بغداد کی لائبریریوں میں نظر آتاتھا۔ آج ریسرچ کرنے والے مسلمان ڈاکٹر (ادب، سائنس، کمپیوٹر، ایجوکیشن وغیرہ میں) کٹ اینڈ پیسٹ کے عادی ہوگئے ہیں۔ جس سے اجتناب قطعاًضروری ہے۔ چیٹ جی پی ٹی، گروک اور جیمنائی گوگل وغیرہ کے دورمیں ہمارے بچوں کو ابتداء ہی سے تخلیقی مصنف،تخلیقی شاعر،تخلیقی ادیب،تخلیقی مضمون نگار،اور تخلیقی انشاء پردازبنانے کی ضرورت ہے، نہ کہ کٹ اینڈ پیسٹ والا لہٰذا چھٹیوں کی تعطیلات میں اس طرف فوری توجہ دیں تو ملت اسلامیہ پر احسان ہوگا۔ میری خاص طورپر خانگی اسکولوں سے گزارش ہے کہ براہ کرم مسلمان بچوں کو ڈاکٹر س، انجینئرس، لیکچررس، ٹیچرس کے علاوہ مصنف، شاعر،ادیب، نقاد، خاکہ نگار اور مؤرخ ولکھنے پڑھنے والا وکیل بنانے کی طرف توجہ دیجئے گا۔ جس قوم کے پاس لکھنے والے نہ ہوں گے وہ قوم ذہنی اور فکری طورپر قلاش ہوکر دنیا کے اسکرین سے ہٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پھر سے عروج عطا کرے۔ آنے والی نسلیں اپنے قلم اور اپنی تحقیق سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچائیں۔ آمین
Comments
Post a Comment