بارود کے بادلوں میں امن کی خوشبو یا فریب؟ - سید فاروق احمد قادری۔
بارود کے بادلوں میں امن کی خوشبو یا فریب؟ -
سید فاروق احمد قادری۔
دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں امن کے نعرے صرف الفاظ بن چکے ہیں، جبکہ پسِ پردہ ایک نئی عالمی صف بندی پوری شدت کے ساتھ تشکیل پا رہی ہے۔ 11 تاریخ کو ہونے والی ایران اور امریکہ کی ملاقات بظاہر کشیدگی کم کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک بڑی سیاسی بساط کا حصہ ہے—جہاں ہر طاقت اپنے مفادات کے تحت نئی چال چل رہی ہے۔
اس ملاقات میں امریکہ کی نمائندگی James David Vance کر رہے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے Abbas Araghchi اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہیں۔ یہ محض سفارتی گفتگو نہیں، بلکہ طاقت کے توازن کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے—جہاں لہجہ نرم، مگر عزائم انتہائی سخت ہیں۔
اب معاملہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہا۔ چین اور روس کھل کر میدان میں آ چکے ہیں، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں دنیا واضح طور پر دو بلاکس میں تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف مشرقی اتحاد ابھر رہا ہے—جس میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتیں شامل ہوتی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب مغربی بلاک ہے—جس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے، اور اس کے ساتھ اسرائیل، آسٹریلیا اور دیگر مغربی اتحادی کھڑے ہیں۔
یہ صف بندی صرف سفارتی نہیں، بلکہ ایک ممکنہ عالمی تصادم کی بنیاد رکھ رہی ہے۔
لیکن اس پوری طاقت کی سیاست کے پیچھے سب سے کڑوی حقیقت انسانیت کی قیمت ہے۔ فلسطین میں اسرائیلی کارروائیاں، حماس کو نشانہ بنانے کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع—خصوصاً بچوں کی ہلاکتیں—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ طاقت کے کھیل میں انسان صرف اعداد و شمار بن کر رہ جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں ایران نے ایک غیر روایتی راستہ اختیار کیا ہے۔ اسلام آباد میں ملاقات سے قبل “میناب 168” کے عنوان سے دیا جانے والا پیغام محض سفارتی قدم نہیں، بلکہ ایک علامتی اور جذباتی حکمت عملی بھی ہے۔ معصوم بچیوں کے بستے، جوتے اور تصاویر ساتھ لے جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب سفارتکاری کو احساس اور اثر کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
یہ اقدام ایک طرف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش ہے، تو دوسری طرف مغربی بیانیے کو چیلنج بھی کرتا ہے—کہ جنگ صرف حکمت عملی نہیں، بلکہ ایک گہرا انسانی المیہ ہے۔
اب اصل سوال یہی ہے:
کیا یہ مذاکرات واقعی امن کی راہ ہموار کریں گے؟
یا یہ صرف ایک وقتی وقفہ ہے، جس کے بعد تصادم مزید شدت اختیار کرے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ دنیا ایک نئی سرد جنگ کی دہلیز پر کھڑی ہے، جہاں مشرق اور مغرب کے بلاکس واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں “میناب 168” جیسے اقدامات وقتی طور پر توجہ تو حاصل کر سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ طاقت کی اس بے رحم سیاست کا رخ موڑ سکیں گے؟
آخرکار، فیصلے بند کمروں میں ہی ہوں گے
Comments
Post a Comment