میرا بچپن اور تھا، تیرا بچپن اور ہے۔


میرا بچپن اور تھا، تیرا بچپن اور ہے۔

بچپن انسانی زندگی کا سب سے خوبصورت، بےفکر اور معصوم دور ہوتا ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جس میں دنیاکی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ہوتا۔ ہر انسان کا بچپن اپنے وقت، ماحول اور حالات کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے انداز، سہولیات اور ترجیحات بدلتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے ہر نسل کا بچپن اپنے سے پہلے والے دور سے مختلف نظر آتا ہے۔ اسی تبدیلی کو بیان کرنے کے لیے میں نے عنوان چنا ہے "میرا بچپن اور تھا، تیرا بچپن اور ہے"۔
ماضی کا بچپن سادگی، فطرت سے قربت اور حقیقی رشتوں کی گرمی سے بھرپور ہوتا تھا۔ بچے گلیوں میں کھیلتے، دوستوں کے ساتھ ہنستے، درختوں پر چڑھتے اور بارش میں بھیگ کر خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان کے کھلونے مٹی کے ہوتے، کھیل سادہ مگر دلکش ہوتے، اور خوشیاں چھوٹی چھوٹی باتوں میں سمٹ جاتی تھیں۔ دادی اماں کی کہانیاں، چاندنی راتیں اور صحن میں کھیل کود وہ ساون میں جھولے۔تتلیوں کو پکڑنے کا حسین مشغلہ۔ بچپن کی یادوں کو مزید حسین بنا دیتے ہیں
اس کے برعکس آج کا بچپن جدید ٹیکنالوجی کے حصار میں گھرا ہوا ہے۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو گیمز اور سوشل میڈیا نے بچوں کی دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب بچے گلیوں کے بجائے اسکرینوں کے سامنے وقت گزارتے ہیں۔ کھیل کے میدانوں کی جگہ گیمز نے لے لی ہے اور دوستوں کی محفلیں آن لائن چیٹ میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ تعلیم کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کا زیادہ وقت ٹیوشن اور آن لائن کلاسز میں گزرنے لگا ہے۔
اگرچہ جدید دور نے بچوں کو علم، معلومات اور سہولیات کی فراوانی دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ فطری خوشیاں، سادگی اور بےفکری کہیں نہ کہیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں کہ آج کا بچپن مکمل طور پر محروم ہے، بلکہ اس کے اپنے رنگ اور اپنی خوبیاں ہیں۔ آج کے بچے زیادہ باخبر، ذہین اور دنیا سے جڑے ہوئے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ صرف انداز بدلتا ہے، احساسات نہیں۔ آج بھی بچے ہنستے ہیں، خواب دیکھتے ہیں اور محبت کے متلاشی ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ خوشیوں کے ذرائع بدل گئے ہیں۔
مختصراً یہ کہ ہر دور کا بچپن اپنی جگہ اہم اور خوبصورت ہوتا ہے۔ ماضی کا بچپن سادگی اور فطرت سے قربت کا آئینہ دار تھا، جبکہ حال کا بچپن ترقی اور جدیدیت کی علامت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نئی نسل کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سادگی، محبت اور حقیقی زندگی کی خوبصورتی سے بھی روشناس کرائیں، تاکہ ان کا بچپن متوازن اور خوشگوار بن سکے۔ یہی توازن دراصل ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے 
 بچوں کو اپنا بچپن جینے دیں اگر یہ دور گیا تو واپس نہیں آئے گا۔بھر پور مزا لینے دیں۔قدرت کے قریب لے آئیں بچوں کے ساتھ کھیلیں انہیں اکیلا محسوس نہ ہونے دیں۔
وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے۔ہم اپنے بہن بھائیوں سہیلیوں سے جڑے رہتے تھے۔مگر اب نہ بھائی کا بھائی ہے نہ بہن کی بہنیں۔بس بھائی بہن دو ہی ہوتے ہیں ان کے کمرے الگ۔پڑھائی الگ ہر چیز اپنے حساب سے ہوتی ہے۔اس دور کی مائیں بھی اپنے بچوں کو وقت نہیں دے پاتیں۔نہ باپ کو روزی کمانے سے فرصت ہے۔اسلئے بچے تنہائی کا شکار ہوتے ہیں موبائل یا ٹی وی کا سہارا لیتے ہیں
بچپن اصل میں بے فکر ہوتا تھا میرے بچپن میں جماعت پنجم میں ایک نظم تھی جس کے کچھ مصرعے یاد ہیں مجھے

  محبوب زمانہ تھامرغوب زمانہ تھا
بچپن کا زمانہ بھی کیا خوب زمانہ تھا
آزاد ہیں فکروں سے غم پاس نہیں آتا
ہے عمر کا یہ حصہ خوشیوں میں گزر جاتا
پڑھنے کو کتابیں ہیں لکھنے کے لئے ساماں
استاد پڑھانے کو ماں باپ کو ہے ارماں

--

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ