جامعہ پرائمری اردو اسکول اکل کوا کا سالانہ جلسہ و الوداعی تقریب۔
جامعہ پرائمری اردو اسکول اکل کوا کا سالانہ جلسہ و الوداعی تقریب۔
نامہ نگار (فاروقی جاوید اقبال) تعلیم صرف حروف شناسی یا لکھنے پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ تہذیب و تمدن اور اخلاق و ادب کی آبیاری کا عمل ہے۔ وہ پودا جسے بچپن میں ادب اور سچائی کے پانی سے سینچا جائے، آگے چل کر ایک تناور اور سایہ دار درخت بنتا ہے۔ اسی نظریے کو اجاگر کرنے کے لیے جامعہ پرائمری اردو اسکول اکل کوا میں خادمِ خیر والامہ حضرت مولانا حذیفہ وستانوی صاحب کی صدارت میں ایک پروقار "سالانہ جلسہ و الوداعی تقریب" کا انعقاد کیا گیا۔
محفل کا آغاز خالقِ کائنات کے کلامِ مقدس کی تلاوت سے ہوا، جس نے سامعین کے قلوب کو منور کر دیا۔ اس کے بعد بارگاہِ الٰہی میں حمد باری تعالیٰ اور پھر سرورِ کائنات، محسنِ انسانیت ﷺ کی خدمتِ اقدس میں عقیدت کے پھول (نعتِ پاک) نچھاور کیے گئے۔
مہمانانِ خصوصی اور صدرِ محترم کا پُرجوش خیر مقدم کیا گیا۔ جماعت سوم کی ننھی طالبات نے اپنی شیریں آواز میں استقبالیہ گیت پیش کر کے تقریب کی رونق کو دوبالا کر دیا۔
جدائی کے اس موقع پر جہاں آنکھیں نم تھیں، وہیں عزم و حوصلہ بھی جوان تھا۔ جماعت سوم و چہارم کے طلبہ نے اپنے قلبی تاثرات پیش کیے۔ جماعت چہارم کے طلباء نے ایک مزاحیہ ڈرامہ پیش کیا، جس نے ہال میں موجود سامعین کو محظوظ کیا اور خوب داد سمیٹی۔
حضرت مولانا اویس وستانوی صاحب نے بچوں سے نہایت مشفقانہ خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے بچپن کے مشاہدات کی روشنی میں سچائی، امانت داری اور دیانت داری جیسے اوصاف کو زندگی کا لازمی جزو بنانے کی تلقین کی۔ ساتھ ہی ڈاکٹر امجد (پرنسپل جامعہ بی ایڈ کالج) نے بھی اپنے بصیرت افروز خیالات سے نوازا۔
وہ لمحہ آہی گیا جب پرندوں کو اپنے پرانے گھونسلے سے نئے آفاق کی طرف اڑنا تھا۔ جماعت چہارم کی طالبات نے الوداعی گیت پیش کیا تو سماں بوجھل ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الوداع الوداع الوداع ساتھیوں
الوداع الوداع الوداع ساتھیوں
زندگی میں کبھی پھر ملیں گے کہیں
اب مکمل یہ سفر رواں ساتھیوں
تعلیمی و ورزشی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو مہمانوں کے ہاتھوں اسناد اور انعامات سے نوازا گیا۔
حضرت مولانا حذیفہ وستانوی صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں ایک جامع بات کہی: "تعلیم صرف پڑھنے لکھنے کا نام نہیں، بلکہ بچپن سے ادب سکھانے کا عمل ہے۔ جو نقش بچپن میں بیٹھ جاتا ہے، وہ زندگی بھر نہیں مٹتا۔"
آخر میں اسکول کے صدر مدرس فاروقی جاوید اقبال سر نے تمام مہمانوں، اساتذہ اور والدین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کا اختتام اس دعا اور پیغام پر ہوا کہ
چمن سے جا رہے ہیں، پر چمن یاد آئے گا ہم کو
یہاں کا ذرہ ذرہ اے وطن! یاد آئے گا ہم کو
دعا دے کر ہمیں رخصت کرو اے بزم کے ساتھی
خدا حافظ! کہ اب رختِ سفر ہم باندھتے ہیں
Comments
Post a Comment