ادھوری محبت کی مکمل کہانی۔۔ از قلم: رہبر تماپوری۔
ادھوری محبت کی مکمل کہانی۔
از قلم: رہبر تماپوری۔
عام طور پر محبت کو دو وجود کے ملاپ کا نام دیا جاتا ہے، لیکن میری نظر میں محبت کا مفہوم اس سے کہیں بلند تر ہے۔ میں اپنی محبت کا ذکر "علم" کے روپ میں کرتا ہوں۔ علم وہ لازوال چراغ ہے جس کی روشنی محبت کے روایتی تصور سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ جہاں دنیاوی محبت صرف اپنی ذات کی چاہت کو پورا کرنے تک محدود رہتی ہے، وہاں علم کی محبت انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوارنے کا ہنر سکھاتی ہے۔
میرا علم ہی میری سب سے بڑی اور سچی محبت ہے، جو مجھے خیر اور شر، اور اچھائی اور برائی کے درمیان تمیز سکھاتی ہے۔ اسی سیکھنے کے عمل سے وہ کہانی مکمل ہوتی ہے جسے دنیا ادھورا سمجھتی ہے۔ انسان ماں کی گود سے علم کا پہلا سبق لیتا ہے، پھر اساتذہ اور مخلص دوست اس سفر میں رہنما بنتے ہیں۔ میرے نزدیک حصولِ علم کا یہ سفر ہی محبت کی معراج اور اس کی اصل تکمیل ہے۔ اسی خیال کو میں نے اپنے اس شعر میں سمویا ہے:
"لوگ پڑھتے تھے زر، زمیں، زیور کے لیے
رہبر تو پڑھتا ہے کچھ سیکھنے کے لیے"
چنانچہ، جب مقصد صرف "سیکھنا" ہو، تو محبت کبھی ادھوری نہیں رہتی، بلکہ علم کی صورت میں ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتی ہے۔
Comments
Post a Comment