حالِ ادب۔ - ازقلم : حضرت عثمان جوہری, جلگاؤں۔
حالِ ادب۔ -
ازقلم : حضرت عثمان جوہری, جلگاؤں۔
ادب کی محفلوں کا چاک دامن
ادب کے بیچ کنجوسی کا آنگن
وہ کیوں حق بات کو لکھتے نہیں ہیں
یہ سرمایہ کریں گے لوگ مدفن
حسد کے درمیاں اردو زباں ہے
فصاحت کا نتیجہ بدگماں ہے
یہاں تہذیب کا عالم تو دیکھو
محبت میں کہاں سود و زیاں ہے
کہیں تنقید بھی ہے اک خسارہ
مفسر کا قلم دیتا اشارہ
کہانی بن گئی ہے لن ترانی
ادب میں ڈھونڈتے ہیں وہ گزارا
کتابوں کا ہے کیا پڑھتے نہیں ہیں
طرف منزل کے کیوں بڑھتے نہیں ہیں
مگر تعلیم تو خوئے انا ہے
نظر میں وہ کبھی چڑھتے نہیں ہیں
نہیں اقبال غائب میر کوئی
رقم قرطاس پر تاثیر کوئی
وراثت میں بھی دیمک لگ گئی ہے
جہالت بن گئی زنجیر کوئی
ادب در حال ہجراں ہے سفینہ
یہی ہے عشق محبوبی کا زینہ
یہی لمس عناصر زندگی کا
رواں ہے زیست مغلوبی قرینہ
یہی اعمال تو لوح و قلم ہیں
مگر عصیان باطن پر ستم ہیں
کہیں اعصاب کی منزل خرد پر
نظر من دست و پا زیرِ کرم ہیں
حریصِ عقل ہونا بھی گنہ ہے
نہ یہ کہنا تفکر کی خطا ہے
سماعت کن بصارت کا نتیجہ
وہ نفس دوز یہ قلبی سزا ہے
کہاں ہے وہ قلم کاروں کی دنیا
نظر آئے وفاداروں کی دنیا
اے عثماں! اب توقف دل سے چھوٹا
ملے ہم کو نگہ داروں کی دنیا
عثمان جوہری
Comments
Post a Comment