ماں بننا کافی نہیں ماں ہونا ضروری ہے۔۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔


ماں بننا کافی نہیں ماں ہونا ضروری ہے۔۔ 
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed 
8904317986

 اسلام میں ماں بننا صرف ایک فطری عمل نہیں بلکہ ایک عظیم امانت اور ذمہ داری ہے، جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح رہنمائی موجود ہے۔
 ماں بننا: ایک نعمت، ایک ذمہ داری
اللہ تعالیٰ نے اولاد کو نعمت بھی فرمایا اور آزمائش بھی:
“اِنَّمَا اَمۡوَالُكُمۡ وَاَوۡلَادُكُمۡ فِتۡنَةٌ”
(سورۃ التغابن: 15)
ترجمہ: تمہارا مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔
یعنی اولاد کا ہونا صرف خوشی کی بات نہیں، بلکہ یہ دیکھنے کا ذریعہ ہے کہ ماں باپ اپنی ذمہ داری کیسے نبھاتے ہیں۔
 ماں کی اصل ذمہ داری: تربیت
قرآنِ مجید میں حضرت لقمان علیہ السلام کا واقعہ ہمیں بہترین مثال دیتا ہے، جہاں وہ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہیں:
“يَا بُنَيَّ لَا تُشۡرِكۡ بِاللّٰهِ اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ”
(سورۃ لقمان: 13)
ترجمہ: اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اولاد کی صحیح عقیدہ اور کردار پر تربیت کرنا والدین (خاص طور پر ماں) کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
 حدیث کی روشنی میں ماں کی ذمہ داری
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔
یعنی ماں اپنے بچوں کی نگہبان ہے، اور قیامت کے دن اس سے ان کی تربیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
ایک اور حدیث میں فرمایا:
“مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ”
(صحیح بخاری)
ترجمہ: ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ بچے کی شخصیت بنانے میں سب سے بڑا کردار ماں باپ کا ہوتا ہے۔
 آج کا المیہ
آج ہم دیکھتے ہیں کہ:
ماں بننے کی خواہش تو بہت ہے، لیکن تربیت کی ذمہ داری سے غفلت ہے
بچوں کو وقت دینے کے بجائے موبائل اور ٹی وی کے حوالے کر دیا جاتا ہے
دنیاوی تعلیم پر زور ہے، مگر دینی تربیت کمزور ہو گئی ہے
نتیجہ یہ ہے کہ بچے بڑے ہو کر:
نافرمان بن جاتے ہیں
دین سے دور ہو جاتے ہیں
اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں
کامیاب ماں کون؟
اسلام کی نظر میں کامیاب ماں وہ ہے جو:
بچے کو نماز، قرآن اور دین سے جوڑے
اس کے اندر اچھے اخلاق پیدا کرے
اسے حق و باطل کی پہچان سکھائے
اپنی عملی زندگی سے مثال بنے
ماں بننا آسان ہے، لیکن ماں کی ذمہ داری نبھانا اصل امتحان ہے
قرآن و حدیث ہمیں بتاتے ہیں کہ اولاد کی صحیح تربیت ہی ماں کی کامیابی ہے
اگر ہم نے اس ذمہ داری کو نظر انداز کیا تو قیامت کے دن جواب دہی ہوگی
 آخر میں ایک فکر انگیز بات:
“اگر ماں اپنی ذمہ داری پوری کرے تو ایک نسل سنور جاتی ہے،
اور اگر غفلت کرے تو پوری قوم بگڑ جاتی ہے۔”

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ