مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی، ممبئی کے نونامزد کارگزار صدر سید حسین اختر کا گزشتہ دنوں ناندیڑ کی مختلف ادبی و سماجی تنظیموں کی جانب سے نہایت پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا گیا


ناندیڑ (نمائندہ خصوصی):مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی، ممبئی کے نونامزد کارگزار صدر سید حسین اختر کا گزشتہ دنوں ناندیڑ کی مختلف ادبی و سماجی تنظیموں کی جانب سے نہایت پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر شہر کی علمی و ادبی فضا میں ایک خوشگوار تازگی اور ولولہ محسوس کیا گیا، جہاں اہلِ قلم نے اپنے معزز مہمان کا شایانِ شان خیرمقدم کیا۔
سید حسین اختر نے اپنے دورۂ ناندیڑ کے دوران معروف اخبارات کے دفاتر کا بھی دورہ کیا، جہاں ان کا پُرتکلف استقبال عمل میں آیا۔ روزنامہ ورق تازہ کے دفتر میں مدیراعلیٰ محمد تقی نے اپنی تصنیف ’’مٹی کے چاند ستارے‘‘ پیش کر کے مہمانِ خصوصی کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر شہر کے نامور اور کہنہ مشق شعرا و ادبا، جن میں محمود علی سحر، تمید احمد پرواز، سہیل احمد صدیقی سہیل، جاوید احمد، حبیب مسعود علی اور ورق تازہ ناندیڑ ایڈیشن کے مدیر نقی شامل تھے، نے اپنی موجودگی سے تقریب کو وقار بخشا۔اسی طرح روزنامہ کامل یقین کے دفتر میں بھی ایک باوقار تقریب منعقد ہوئی، جہاں ایڈیٹر ایم ڈی صادق نے شال، گل دستہ اور مومنٹو پیش کر کے سید حسین اختر کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ممبئی اردو نیوز کے رپورٹر ایڈوکیٹ ایم ڈی شاہد، مراٹھی اخبار شرمیک لوک راجیہ کے ایڈیٹر دوئجد طارق حسن، معروف اردو ادیبہ سعدیہ فاطمہ عبد الخالق سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔اپنے خطاب اور غیر رسمی گفتگو کے دوران سید حسین اختر نے اردو زبان و ادب کو درپیش مسائل پر نہایت سنجیدگی اور فہم و بصیرت کے ساتھ اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیحات میں اردو ادب کی ترقی و ترویج کے ساتھ ساتھ ان ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی بھی شامل ہے، جنہوں نے اپنی تخلیقی کاوشوں کے ذریعے اردو کے دامن کو وسعت دی ہے۔انہوں نے اس امر پر خاص زور دیا کہ مراٹھواڑہ کے اہلِ قلم کو ان کا جائز مقام دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ ماضی کی طرح مواقع کی غیر مساوی تقسیم کا تاثر ختم ہو اور ہر خطے کے ادیبوں کو یکساں مواقع میسر آئیں۔ ان کے اس عزم کا حاضرین نے بھرپور خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں اردو ادب کو ایک نئی سمت اور توانائی حاصل ہوگی۔یہ دورہ نہ صرف ایک رسمی ملاقات تھا بلکہ اردو زبان و ادب کے مستقبل کے حوالے سے ایک مثبت اور امید افزا پیش رفت بھی ثابت ہوا، جس نے ناندیڑ کے ادبی حلقوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ