جنگ یا امن؟ اسلام آباد کی خالی میز کا مزاکراتی پیغام- (ایران-امریکہ ٹکراؤ: تاریخ کے پرانے زخم اور نئے میدان)۔ ازقلم : اسماء جبین فلک۔


جنگ یا امن؟ اسلام آباد کی خالی میز کا مزاکراتی پیغام- 
(ایران-امریکہ ٹکراؤ: تاریخ کے پرانے زخم اور نئے میدان)
ازقلم : اسماء جبین فلک۔ 

اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہونے والی ایران اور امریکہ کی طویل نشست کو سمجھنے کے لیے تہران کے اس تپتے موسمِ گرما کا ذکر ضروری ہے جو ستر سال پہلے شروع ہوا اور جس کی تپش آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اگست 1953 میں امریکی خفیہ ایجنسی نے پچاس لاکھ ڈالر جھونک کر ایران کے منتخب وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا کیونکہ انہوں نے ملک کی تیل کی صنعت کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرانے کی جسارت کی تھی۔ نیشنل سیکیورٹی آرکائیو کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی نے برسوں بعد اس سازش میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا۔ کونسل آن فارن ریلیشنز نے اس اقدام کو امریکی تاریخ کے بدترین خارجہ پالیسی فیصلوں میں شمار کیا۔ وہ بیج جو اس وقت بویا گیا تھا، وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے جسے ایرانی اجتماعی حافظہ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ جب تہران آج بھی امریکہ پر بے اعتمادی کا اظہار کرتا ہے، تو وہ محض 2026 کے حالات نہیں بلکہ اس تلخ ماضی کی دہائی دے رہا ہوتا ہے۔

پھر 3 جولائی 1988 کی وہ تاریخ آئی جب اسی آبنائے ہرمز میں جو آج بھی تنازع کا مرکز ہے امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس ونسینز نے ایران ایئر کی پرواز 655 کو نشانہ بنا کر فضا سے گرا دیا۔ اس سانحے میں 66 بچوں سمیت 290 بے گناہ مسافر خلیج کی لہروں میں ہمیشہ کے لیے روپوش ہو گئے۔ اس وقت کے امریکی نائب صدر جارج بش سینئر کا یہ بیان کہ میں امریکہ کی طرف سے کبھی معذرت نہیں کروں گا چاہے حقائق کچھ بھی ہوں ایرانیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھا۔ اگرچہ امریکہ نے 1996 میں 61.8 ملین ڈالر کا معاوضہ ادا کیا، لیکن باقاعدہ معافی مانگنے سے ہمیشہ گریز کیا۔ 2021 میں صدر حسن روحانی کا مطالبہ بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوا۔ آج اسی آبنائے کے ساحلوں پر جہاں سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں، امریکہ پھر سے اعتماد اور سمجھوتے کی بات کر رہا تھا۔ تاریخ کے اس گہرے تضاد کو سمجھے بغیر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی حقیقت کو جاننا ناممکن ہے۔

اس تحریر کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ امریکہ نے ایران کو ہمیشہ اس کے تاریخی پس منظر سے الگ کر کے دیکھنے کی کوشش کی اور یہی وہ بنیادی غلطی تھی جس کی وجہ سے 21 گھنٹوں کی طویل اور تھکا دینے والی گفتگو کے بعد بھی اسلام آباد کی وہ میز کسی نتیجے کے بغیر خالی رہ گئی۔

فروری 2026 کے آخری دنوں میں آپریشن ایپک فیوری کا آغاز ہوا۔ سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق پہلے سو گھنٹوں میں 3.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے یعنی ہر دن 891 ملین ڈالر۔ پینٹاگون نے سینیٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے چھ دنوں میں یہ لاگت 11.3 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ پین وارٹن بجٹ ماڈل کے تخمینے کے مطابق اپریل تک مجموعی فوجی اخراجات 47 ارب ڈالر ہو سکتے ہیں یہ ایک معاشی ماڈل کا حساب ہے، کوئی حتمی سرکاری رقم نہیں۔ فورچون کے مطابق اگر توانائی کی منڈیوں میں بگاڑ کو بھی شامل کیا جائے تو مجموعی معاشی اثر 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ اعداد سرد، ٹھنڈے اور بے رحم ہیں۔ مگر یہ صرف ایک فریق کا حساب ہے۔
دوسرے فریق کے اعداد کہیں زیادہ دردناک ہیں۔ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق مارچ تک ایران میں کم از کم 1443 شہری ہلاک ہوئے، جن میں 217 بچے شامل تھے۔ اناطولو ایجنسی نے جنگ کے پہلے ماہ میں یہی تعداد رپورٹ کی۔ ایران انٹرنیشنل کے مطابق اپریل تک مجموعی ہلاکتیں شہری اور عسکری دونوں 3000 سے تجاوز کر گئی تھیں۔ امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق 13 امریکی فوجی ہلاک اور 370 زخمی ہوئے۔ اور پھر ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی وہ تنگ آبی گزرگاہ جس سے دنیا کا 20 فیصد خام تیل گزرتا ہے، جس کی بندش سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ اس لمحے یہ جنگ واشنگٹن کی تزویراتی میزوں سے نکل کر عام امریکی شہریوں کی روزمرہ زندگی میں داخل ہو گئی۔ یہ اب صرف جغرافیائی سیاست نہیں رہی تھی بلکہ یہ پیٹرول اسٹیشن کی قطار بھی بن گئی تھی۔
8 اپریل کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت کی سفارتی کوششوں سے، مصر کی معاونت کے ساتھ، دونوں ملکوں نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اسے صدر ٹرمپ کی قیادت کا ثمر کہا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ مکمل فتح۔ مگر اسی روز بوڈاپسٹ میں جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ٹوٹنے کے قریب ایک عارضی صلح ہے اور اس کا انحصار حسنِ نیت پر مبنی مذاکرات پر ہے۔ فتح اور ٹوٹنے کے قریب صلح یہ دو متضاد بیانیے ایک ہی دن، ایک ہی حکومت کی طرف سے آئے۔ اسلام آباد کی میز اسی تضاد کے سائے میں لگی۔
11 اپریل کو اسلام آباد کا ریڈ زون مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ سیرینا ہوٹل میں، 1979 کے بعد پہلی بار، امریکہ اور ایران کے نمائندے آمنے سامنے بیٹھے۔ یہ اپنی تاریخی نوعیت میں بلاشبہ ایک غیرمعمولی لمحہ تھا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جو مغربی ورجینیا کی کوئلے کی کانوں کے سائے میں پلے بڑھے، ییل لا اسکول سے فارغ التحصیل ہوئے، اور ہل بِلی ایلیجی لکھ کر امریکی سیاسی منظرنامے میں ابھرے اپنی کرسی پر سیدھا بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھ خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور صدارتی مشیر جیرڈ کشنر تھے۔ دوسری طرف ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی تھے جو 1982 میں پیدا ہوئے، یعنی اسلامی انقلاب کے صرف تین سال بعد ان کے لیے امریکہ کوئی دوستانہ ملک کبھی نہیں رہا، بس ایک تاریخی حقیقت رہا ہے۔ ان کے ہمراہ پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف تھے سابق فوجی جنرل، ایران-عراق جنگ کے عینی شاہد، جن کی یادداشت میں تباہ شدہ شہر اور کیمیائی حملوں کی لپٹ آج بھی محفوظ ہے۔ دو وفود، دو الگ تاریخیں اور ایک ہی میز مگر کسی نے ہاتھ نہیں ملایا۔
مجموعی مذاکراتی عمل براہِ راست گفتگو، تکنیکی ٹیموں کی متوازی نشستیں، اور تحریری مسودوں کا تبادلہ اکیس گھنٹے جاری رہا۔ اختلاف کہاں تھا؟ ایران نے ایک مسودہ پیش کیا جس میں تمام معاشی پابندیوں کا خاتمہ، امریکی افواج کا خطے سے انخلا، یورینیم کی افزودگی کا حق، اور اقوامِ متحدہ کے نگرانی کے طریقۂ کار کا خاتمہ شامل تھا۔ الجزیرہ کے مطابق امریکہ کا اپنا پندرہ نکاتی فریم ورک بھی میز پر تھا، اور دونوں فریق ایک دوسرے کے مسودے کی بنیادی تشریح پر بھی متفق نہ تھے۔ ایران نے امریکی فریم ورک کو حد سے بڑھے ہوئے یکطرفہ مطالبات قرار دے کر رد کر دیا۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ریاستی میڈیا نے ناکامی کا سبب امریکہ کا غیرمعقول اور سخت گیر رویہ بتایا۔ اکیس گھنٹوں کے بعد وینس ہوٹل کے باہر آئے، سیدھے کیمروں کی طرف دیکھا اور کہا کہ ایران نے ہماری بہترین اور آخری پیشکش قبول نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ ایرانی نائب صدر نے چند منٹوں بعد جواب دیا کہ بری خبر امریکہ کے لیے ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ درست تھے اور یہی اس صورتِ حال کا المیہ ہے۔
اب ٹرمپ کے موقف کو اس کی پوری فکری قوت کے ساتھ سنیں، کیونکہ اسے یکسر نظرانداز کرنا علمی دیانتداری نہیں۔ ایران کی جوہری صلاحیت ایک حقیقی اور فوری خطرہ تھی یورینیم 60 فیصد خالصیت تک پہنچ چکا تھا، جو ہتھیار کے قابلِ استعمال 90 فیصد سے صرف ایک تکنیکی قدم پیچھے ہے۔ دہائیوں کی سفارتکاری ناکام ہو چکی تھی اور کوئی بھی ذمہ دار حکومت ایٹمی دہلیز پر کھڑے ایران کو نظرانداز نہیں کر سکتی تھی۔ یہ دلیل وزنی ہے اور اس کی سنگینی سے انکار ممکن نہیں۔ مگر پھر شمالی کوریا کا سوال سامنے آتا ہے اور یہ سوال اس پوری دلیل کی بنیاد ہلا دیتا ہے کہ امریکہ نے کبھی شمالی کوریا پر فوجی آپریشن نہیں کیا، نہ بمباری کی، نہ کوئی مسلح مہم چلائی۔ آج شمالی کوریا مکمل ایٹمی طاقت ہے۔ اگر فوجی کارروائی کے بغیر بھی جوہری پھیلاؤ نہیں رکا، تو سوال یہ ہے کہ بمباری کے بعد ایران میں وہ یقین دہانی کیسے حاصل ہوگی جو مذاکرات کی میز پر نہیں ملی؟ اور پھر 2015 کا مشترکہ جامع عملی منصوبہ بھی یاد کرنا ضروری ہے وہ جوہری معاہدہ جو ایران کی سرگرمیوں پر ایک قانونی اور بین الاقوامی رکاوٹ تھا۔ ٹرمپ نے 2018 میں اپنے پہلے دورِ حکومت میں اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر توڑا۔ اس کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی بتدریج بڑھانی شروع کی۔ اب ٹرمپ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں جو انہوں نے خود سفارتکاری چھوڑ کر پیدا کیا تھا اور اب حل کا ذریعہ بمباری ہے، نہ کہ گفتگو۔ تاریخ کی یہ ستم ظریفی کسی طنزیہ ناول سے کم نہیں مگر یہ ناول نہیں، جیتی جاگتی حقیقت ہے۔
ایران کا حساب سادہ نہیں بلکہ پیچیدہ، سرد اور تزویراتی ہے۔ تہران جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے ہاتھ میں ہے اور اسے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ امریکی جمہوری نظام میں کوئی بھی طویل، مہنگی اور انسانی قیمت ادا کرنے والی جنگ عوامی حمایت کے بغیر نہیں چل سکتی اور وہ حمایت بتدریج کم ہو رہی ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ 1953 کی یاد آج بھی زندہ ہے، 1988 کا زخم آج بھی تازہ ہے اور کوئی بھی ایرانی قیادت جو ان تاریخی یادوں کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکی شرائط پر سرتسلیم خم کرے، اپنے عوام کے سامنے اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اسلام آباد میں اکیس گھنٹوں کی تھکاوٹ کے باوجود عراقچی کے چہرے پر جو اطمینان تھا وہ کمزوری نہیں تھا۔ وہ اس شخص کا سکون تھا جسے یقین ہو کہ وقت اس کا ساتھی ہے، اس کا مخالف نہیں۔
جنگ بندی کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ آخری پیشکش مسترد ہو گئی۔ سفارتی زبان میں آخری پیشکش کے بعد صرف دو راستے بچتے ہیں کہ یا تو میز پر واپس آنا اپنی شرائط نرم کر کے یا پھر میدان میں اترنا اپنی تمام تر قیمت کے ساتھ۔ ایران نے پہلا راستہ نہیں چنا۔ ٹرمپ کے لیے دوسرے کا بوجھ کتنا بھاری ہوگا معاشی، سیاسی اور انسانی لحاظ سے یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے۔
شطرنج کی بساط ابھی بچھی ہے۔ مگر جو کھلاڑی اس بساط پر سب سے پہلے بیٹھا، وہ یہ بھول گیا کہ اس کھیل میں وقت بھی ایک مہرہ ہوتا ہے اور وہ مہرہ ابھی ایران کے ہاتھ میں ہے۔ تاریخ نے ہمیشہ وہی جنگیں یاد رکھی ہیں جو میدان میں نہیں، میزوں پر ہاری گئیں۔ اسلام آباد کی وہ میز اب خالی ہے اگلی بار کون پہلے بیٹھے گا، اور اپنی تاریخ ساتھ لے کر آئے گا؟

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ