اردو صحافت: زوال، سوالات اور میرا ادھورا خواب۔۔ سید فاروق احمد قادری۔


اردو صحافت: زوال، سوالات اور میرا ادھورا خواب۔
 سید فاروق احمد قادری۔

میری کتاب “سلگتے احساس” ہو یا گزشتہ کئی برسوں سے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے میرے مضامین—یہ سب محض الفاظ نہیں بلکہ ایک طویل فکری اور عملی سفر کی کہانی ہیں۔ میں نے صرف 13 برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا تھا، اور آج دہائیوں بعد بھی قلم سے میرا رشتہ قائم ہے۔ کچھ لوگ مجھے نیا لکھاری سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسی میدان کو دیا ہے۔ آج بھی لکھتے وقت وہی سچائی، وہی درد اور وہی احساس میرے الفاظ میں جھلکتا ہے—فرق صرف اتنا ہے کہ اب تجربہ زیادہ گہرا ہو چکا ہے۔
اس وقت میں اپنی خودنوشت پر کام کر رہا ہوں، جس کے کئی ابواب مکمل ہو چکے ہیں اور ان شاء اللہ جلد منظرِ عام پر آئے گی۔ یہ محض ایک کتاب نہیں ہوگی بلکہ ایک دور، ایک سوچ اور ایک جدوجہد کا عکس ہوگی۔
آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اردو صحافت کا اصل کردار کہاں کھو گیا؟
ایک زمانہ تھا جب اردو صحافت صرف خبریں نہیں دیتی تھی بلکہ:
عوام میں شعور بیدار کرتی تھی
سوالات اٹھاتی تھی
حق کا راستہ دکھاتی تھی
اس دور کی صحافت میں جرات بھی تھی اور ذمہ داری بھی۔ لیکن آج حالات بدل چکے ہیں۔ موجودہ صحافت میں سنجیدگی کم اور ظاہرداری زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اصل مسائل سے دوری بڑھتی جا رہی ہے، اور صحافت کا مقصد کہیں نہ کہیں کمزور پڑتا محسوس ہوتا ہے۔
اگر ہم ماضی کو یاد کریں تو اردو صحافت ایوانوں تک اپنی مضبوط آواز پہنچاتی تھی۔ آج سوال یہ ہے کہ:
کیا وہی طاقت آج بھی باقی ہے؟
اگر نہیں، تو کیا ہم اسے دوبارہ پیدا کرنے کے لیے تیار ہیں؟
یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زبان، اپنی صحافت اور اپنی شناخت کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔ صرف پروگراموں اور نعروں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔
پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک قول آج بھی ہمارے ذہنوں میں گونجتا ہے:
"کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس کی مادری زبان کو کمزور کر دو۔"
اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زبان کو مضبوط کرنا ہوگا، کیونکہ زبان ہی ہماری شناخت کی بنیاد ہے۔
آج اردو اسکولوں کی تعداد کم ہو رہی ہے، نئی نسل دوسری زبانوں کی طرف مائل ہو رہی ہے—ایسے میں یہ ہر باشعور فرد، خاص طور پر صحافیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔
میں اپنی اس تحریر کو ایک سوال اور ایک امید کے ساتھ ختم کرتا ہوں:
کیا ہم مل کر اردو صحافت کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے کے لیے تیار ہیں؟
اگر آج ہم نے سوچ لیا اور قدم اٹھا لیا تو کل تاریخ ہمیں یاد رکھے گی—ورنہ آنے والی نسلیں ہم سے یہی سوال کریں گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔