سفیرِ ملت و علم کا دورۂ کانیالہ دینی و تعلیمی بیداری کا ایک روشن باب - از قلم : خطیب عبدالمجید عارف باقوی عفی عنہ (چاگلمری نائب صدر مینارٹی سیل ریاست آندھرا پردیش قومی کانگریس پارٹی۔)
سفیرِ ملت و علم کا دورۂ کانیالہ دینی و تعلیمی بیداری کا ایک روشن باب
تحریر از قلم : خطیب عبدالمجید عارف باقوی عفی عنہ (چاگلمری نائب صدر مینارٹی سیل ریاست آندھرا پردیش قومی کانگریس پارٹی۔)
علم و عمل کی ترویج اور معاشرے کی نظریاتی سرحدوں کے پاسبان، مجلس العلماء و الائمہ ضلع نندیال اور جمیعت علماء ہند ضلع نندیال کے مایہ ناز صدر، عالی مرتبت حضرت حافظ و قاری قاضی محمد امجد باشاہ صدیقی صاحب (دامت برکاتہم العالیہ) نے گذشتہ روز قصبہ کانیالہ میں واقع خواتین کے معروف دینی تعلیمی ادارے کا ایک یادگار اور ولولہ انگیز دورہ فرمایا۔ آپ کی آمد کا مقصد مدرسہ میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، بالخصوص طالبات کے لیے منعقدہ 'سمر کیمپ' کا بچشمِ خود معائنہ کرنا اور علمی آبیاری کرنا تھا۔
پُروقار تعلیمی مظاہرہ اور بصیرت افروز معائنہ
حضرت قاضی صاحب (مدظلہ العالی) نے اپنی آمد کے فوراً بعد ادارے کے مختلف تعلیمی و تربیتی شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر طالبات نے ایک متاثر کن تعلیمی مظاہرہ پیش کیا، جس میں تجوید و قرأت کی شیرینی، دینی مسائل پر گرفت اور اخلاقی دروس کی عملی پیش کش نے سماں باندھ دیا۔ حضرت ممدوح نے طالبات کے علمی ذوق اور ادارے کے اعلیٰ تعلیمی معیار کو دیکھ کر دلی مسرت اور اطمینان کا اظہار فرمایا۔
اصلاحِ معاشرہ میں خواتین کا کردار: بصیرت افروز خطاب
اس پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حضرت حافظ محمد امجد باشاہ صدیقی صاحب نے فرمایا:
"دورِ حاضر کے فتنوں کے مقابلے کے لیے خواتین کی صحیح اسلامی نہج پر تعلیم و تربیت وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ ایک تعلیم یافتہ خاتون نہ صرف ایک گھر بلکہ پوری نسل کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔"
آپ نے مدرسہ کے ناظم جناب حافظ عبدالرزاق صاحب اور محنتی معلمات کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اخلاص کے ساتھ کی جانے والی یہ کوششیں ان شاء اللہ علاقے میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔
اکرامِ مخدوم اور پُروقار تقریبِ شال پوشی
پروگرام کے اختتام پر ادارے کی جانب سے حضرت ممدوح کی علمی و سماجی خدمات کے اعتراف میں ایک پُروقار تقریبِ اکرام منعقد ہوئی۔ ناظمہ مدرسہ جنابہ شیخ بانو صاحبہ کی زیرِ نگرانی، ناظمِ مدرسہ حافظ عبدالرزاق صاحب نے حضرت قاضی صاحب کی شال پوشی فرمائی۔ معلمات کی جانب سے ہدیہ تشکر پیش کیا گیا اور ادارے کی جانب سے ایک یادگاری نشان (Shield) بطورِ اعزاز پیش کیا گیا، جو آپ کی جلیل القدر شخصیت کے تئیں ادارے کی عقیدت و محبت کا اظہار تھا۔
اختتامی کلمات و دعا
یہ دورہ نہ صرف طالبات اور اساتذہ کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنا، بلکہ قصبہ کانیالہ میں دینی سرگرمیوں کو ایک نئی جلا عطا کر گیا۔ تقریب کا اختتام حضرت موصوف کی رقت آمیز دعا پر ہوا، جس میں آپ نے ادارے کی استقامت، طالبات کے روشن مستقبل اور امتِ مسلمہ کی سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں۔
اس موقع پر مقامی معززین، علمائے کرام اور طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے حضرت کے ارشادات سے علمی و روحانی فیض حاصل کیا۔
Comments
Post a Comment