بطورِ والدین (والد یا والدہ) آپ اپنے بچے کی تربیت کس انداز میں کریں گے؟۔ از قلم : رہبر تماپوری۔


 بطورِ والدین (والد یا والدہ) آپ اپنے بچے کی تربیت کس انداز میں کریں گے؟
از قلم : رہبر تماپوری۔ 

بطورِ والدین، میری اولین ذمہ داری یہ ہوگی کہ میں اپنے بچے کی تربیت محض روایتی اصولوں پر نہیں بلکہ جدید شعور، توازن اور بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق کروں۔ میرا یقین ہے کہ تربیت صرف زبانی نصیحتوں سے نہیں بلکہ عملی نمونے سے پروان چڑھتی ہے؛ لہٰذا میں اپنے عمل کو ایک روشن مثال بناؤں گا۔ بچہ سب سے پہلے اپنی ماں کی گود سے اخلاقی بنیاد سیکھتا ہے، جہاں اس کی شخصیت کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ میں اسے اندھی اطاعت کے بجائے سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی آزادی دوں گا تاکہ اس میں تنقیدی شعور بیدار ہو سکے، تاہم اس آزادی کے ساتھ اخلاقی حدود اور ذمہ داری کا احساس بھی ضروری ہوگا۔ آج کے سوشل میڈیا کے پرفتن دور میں ہر لمحہ نگہبانی ناگزیر ہے۔ والدین کو ہر عمر کے بچوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں کیا دیکھ رہے ہیں، کس طرح وقت گزار رہے ہیں، اور ان چیزوں کا ان کے ذہنوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ یہ ذمہ داری چھوٹے بچوں سے لے کر بڑے بچوں تک سب پر لاگو ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ٹیکنالوجی کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کا واضح ادراک دیں تاکہ بچہ خود خیر اور شر میں تمیز کر سکے۔ یہ آج کی سب سے اہم تربیتی ذمہ داری ہے۔ میں اپنے بچے کو صرف مادی کامیابی کے پیچھے نہیں بلکہ اخلاقی اور ذہنی توازن کے ساتھ آگے بڑھاؤں گا۔ کیونکہ حقیقی کامیابی بلند عہدوں یا مال و دولت میں نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت، اچھے اخلاق اور اعلیٰ ظرفی میں مضمرہے.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ