خاموش یلغار، تپتی دھوپ میں حق کی صدا — مسلم ریزرویشن مورچہ۔ - سید فاروق احمد قادری۔


خاموش یلغار، تپتی دھوپ میں حق کی صدا — مسلم ریزرویشن مورچہ۔ -  
 سید فاروق احمد قادری۔

نمازِ جمعہ کے بعد جامع مسجد کے سامنے سے شروع ہونے والا یہ پُرامن اور خاموش یلغار مورچہ دوپہر دو بجے بلبھم چوک، کارنجہ، بشیرگنج اور دیگر اہم راستوں سے گزرتا ہوا کلیکٹر آفس پہنچا۔ اس مورچے کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں کسی قسم کی نعرے بازی نہیں کی گئی، بلکہ مکمل نظم و ضبط کے ساتھ خاموشی میں اپنے حق کی مضبوط آواز بلند کی گئی۔
تقریباً 40 ڈگری کی تپتی دھوپ کے باوجود عوام کا حوصلہ کم نہ ہوا۔ بوڑھے، جوان، بچے اور خواتین بڑی تعداد میں شریک رہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ صرف ایک مطالبہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ جدوجہد ہے۔
اس مورچے میں مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی، جن میں ایم آئی ایم کے صدر ایڈوکیٹ شفیق بھاؤ صدر، نگر ادھیکش پریم لتا، نگرپریشد کا پورا اسٹاف اور دیگر کئی پارٹیوں کے نمائندگان شامل تھے۔
اسی طرح صحافتی میدان سے بھی اہم شخصیات موجود رہیں، جن میں امیر اختر (ملن پیپر)، سٹیزن کے مجیب شیخ، کسان پیپر کے کامران، رپورٹر طیب اور دیگر اخبارات کے نمائندگان بھی شریک رہے، جس سے اس مورچے کی اہمیت اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔
خاص طور پر شیواجی راؤ پنڈت (سابق وزیر) نے اپنی تقریر میں حکومت سے پرجوش اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دیا جائے اور ان کی تعلیمی پسماندگی، روزگار کی کمی اور غربت کے مسائل پر فوری توجہ دی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو طبقہ سطحِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اسے ترجیحی بنیادوں پر سہولتیں فراہم کی جائیں۔
خاص طور پر ایک ننھی بچی کی پیش کی گئی تقریر نے سب کی توجہ حاصل کی۔ اس کے معصوم مگر پراثر الفاظ نے یہ واضح کر دیا کہ یہ لڑائی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے لڑی جا رہی ہے۔
آخرکار یہ یلغار کلیکٹر آفس پہنچی، جہاں پانچ فیصد مسلم ریزرویشن کے مطالبے پر مبنی میمورنڈم حکومت کے نام پیش کیا گیا اور ذمہ داران سے سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی گئی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔