انجمن ڈگری کالج میں ادبی و تقریری مقابلوں کا شاندار انعقاد۔
بیجاپور (راست) انجمن ڈگری کالج بیجاپور کی ڈیبیٹنگ یونین کے زیرِ اہتمام تحریری تقریری مقابلہ، بیت بازی، ادبی کوئز اور برجستہ تقریر جیسے متنوع ادبی مقابلوں کا شاندار اور کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس بامقصد پروگرام میں طلبہ و طالبات نے والہانہ جوش و خروش کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے اپنی علمی، ادبی، تخلیقی اور تقریری صلاحیتوں کا متاثر کن مظاہرہ کیا۔ پروگرام علمی و ادبی ذوق کے فروغ اور طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کے انکشاف کے اعتبار سے نہایت کامیاب ثابت ہوا۔
پروگرام کی صدارت پرنسپل انجمن ڈگری کالج ڈاکٹر ایس۔ جے۔ جاگیردار نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں ہوتے بلکہ طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی ان کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے ادبی اور تقریری مقابلے نوجوانوں کے اندر اظہارِ خیال کی قوت، تخلیقی شعور، قائدانہ صلاحیت اور خود اعتمادی کو پروان چڑھاتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان ہی کل کے معمار ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہ کتابی علم کے ساتھ ادبی، سماجی اور فکری سرگرمیوں میں بھی سرگرم حصہ لیں۔ انہوں نے ڈیبیٹنگ یونین کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام طلبہ میں مسابقتی جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ ان کے روشن مستقبل کی راہیں بھی ہموار کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی صدر شعبۂ اردو نے اپنے جامع خطاب میں کہا کہ زبان و ادب کسی بھی معاشرے کی فکری شناخت ہوتے ہیں اور ادبی سرگرمیاں طلبہ کے ذہنوں میں شعور، احساس اور تخلیقی فکر پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریری مقابلے، بیت بازی اور ادبی کوئز جیسی سرگرمیاں نہ صرف طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ ان کے اندر مطالعہ، تحقیق اور مثبت مقابلے کا رجحان بھی پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انجمن ڈگری کالج ہمیشہ سے علمی و ادبی روایتوں کا امین رہا ہے اور ایسے پروگرام اسی روشن روایت کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے طلبہ کی بہترین کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، ضرورت صرف انہیں درست رہنمائی اور اظہار کے مواقع فراہم کرنے کی ہے۔
آئی کیو اے سی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر کے۔ اے۔ نشانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں صرف نصابی کامیابی کافی نہیں بلکہ شخصیت کی تعمیر، ابلاغ کی مہارت اور قیادت کی صلاحیتیں بھی ناگزیر ہو چکی ہیں، اور یہ تمام اوصاف اسی طرح کے ہم نصابی پروگراموں سے پروان چڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادبی و تقریری مقابلے طلبہ کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں اور انہیں زندگی کے بڑے چیلنجز کے لیے تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انجمن ڈگری کالج طلبہ کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے مسلسل کوشاں ہے اور یہ پروگرام اسی وژن کا حصہ ہے۔
مقابلوں کے لیے پروفیسر ایم۔ اے۔ پیراں، پروفیسر اسجد صدیقی، پروفیسر سلیمان ہتھیارکر، ڈاکٹر اشرف خان، پروفیسر سعید نشانی، پروفیسر شامی، ڈاکٹر اروند، پروفیسر ثناء کولار اور ڈاکٹر ازرا انعامدار نے بحیثیت حکم (ججز) فرائض انجام دی
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر رقیہ ہاشمی نے نہایت دلنشیں اور مؤثر انداز میں انجام دی۔
Comments
Post a Comment