قلم کے نام خط - از قلم: رہبر تماپوری۔
قلم کے نام خط -
از قلم: رہبر تماپوری۔
میرے خاموش مگر ہمراز قلم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آج میں تم سے مخاطب ہوں، اس امید کے ساتھ کہ تم میری بے زبان کیفیت کو الفاظ کی صورت عطا کرو گے۔ تم وہ ساتھی ہو جو تنہائی میں بھی ساتھ نبھاتا ہے اور ہجوم میں بھی دل کی بات سن لیتا ہے۔ تمہارے وجود میں ایک عجب تاثیر ہے—خاموش رہ کر بھی صدائیں بکھیرنے کی تاثیر۔ تم محض ایک آلہ نہیں، بلکہ فکر و شعور کے امین ہو۔ جب ذہن الجھتا ہے، تم اسے سلجھاتے ہو؛ جب دل بوجھل ہوتا ہے، تم اس کا بوجھ ہلکا کرتے ہو۔ تمہاری نوک سے نکلنے والے الفاظ کبھی چراغ بن کر اندھیروں کو چیر دیتے ہیں، تو کبھی آئینہ بن کر انسان کو اس کا اصل چہرہ دکھاتے ہیں۔
میرے پیارے دوست، میرے قلم!
آج میں تم سے مکاتبت ہوں، اس امید میں کہ میں حقیقت کو حقیقت لکھوں، سچ کو سچ، اور جھوٹ کو جھوٹ۔ میں یہی جستجو لیے علم کے پائبان پر چلتا جا رہا ہوں۔ یہ راہ مجھے اپنی منزل تک تو لے جائے گی، مگر اس کٹھن راستے پر مجھے کئی دشواریاں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شعور کی اس گہری مآئی میں ڈوب کر ایک ایک قطرہ پانی بہ کر نہر میں تبدیل ہوتا ہے، نہر ندیوں میں، اور ندی جا کر سمندر میں مل جاتی ہے۔ سمندر کی وسعت تو ایسی ہے کہ اس میں جو بھی شامل ہو جائے، وہ اسی کے وجود کا حصہ بن جاتا ہے۔ الفاظ کی اس کالی اندھیری رات میں، تم ہی وہ واحد چراغ ہو جو مسافر کو بھٹکنے سے بچاتا ہے۔ تم وہ آئینہ ہو جو معاشرے کے بدنما داغوں کو بے نقاب کرتا ہے اور انسان کو اس کے اصل منصب کی یاد دلاتا ہے۔ تم ہی وہ وسیلہ ہو جس کے ذریعے حقیقت کو گہری سوچ سے پرکھنے اور حق کی ترجمانی کرنے کی فکر بیدار ہوتی ہے۔
اے میرے وفادار دوست!
میں سوچتا تھا کہ ان احساسات سے بڑھ کر بھی کوئی دنیا ہوگی۔ ایسی دنیا جہاں لباس، رنگ، ڈھنگ اور نسل کے امتیازات سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کا وقار مقدم ہو۔ مگر افسوس کہ مصلحتوں کے بازار میں آج زبانیں گنگ ہیں اور ضمیر خوابیدہ۔ ایسے میں میری تمام تر امیدیں تم سے وابستہ ہیں۔ دیکھنا! کبھی حالات کی ستم ظریفی سے گھبرا کر اپنی سیاہی کو مصلحت کی روشنائی میں نہ بدلنا۔ تمہاری جنبش سے ظالم کا ایوان لرزنا چاہیے اور مظلوم کے زخموں کو تم سے مرہم ملنا چاہیے۔ تمہارا ہر لفظ ایک ایسی اکائی ہو جو ٹوٹتے ہوئے معاشرے کو جوڑنے کا ہنر جانتی ہو۔
تم جانتے ہو کہ تاریخ گواہ ہے، فاتحین کی تلواریں زنگ آلود ہو کر مٹ گئیں، تخت و تاج پیوندِ خاک ہو گئے، مگر قلم کی حرمت آج بھی قائم ہے۔ تم نے ہی سقراط کے پیالے کو حیاتِ جاویدانی بخشی اور تم نے ہی اقبال کے خوابوں کو انقلاب کا روپ دیا۔ مجھ پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں تمہیں کسی کی انا کی تسکین کا ذریعہ نہ بننے دوں۔ میں تمہیں وہ طاقت بنانا چاہتا ہوں جو باطل کے سامنے سینہ سپر ہو جائے۔ آؤ عہد کریں کہ ہم مل کر ایک ایسی کائنات تخلیق کریں گے جہاں لفظوں کی تاثیر دلوں کو فتح کر لے۔ جہاں علم کی شمع سے جہالت کے سیاہ بادل چھٹ جائیں۔
میرے رفیقِ دیرینہ!
میں جانتا ہوں کہ حق گوئی کی پاداش میں اکثر انگلیاں فگار ہوتی ہیں اور لہو تھک کر کاغذ پر گرتا ہے، مگر یہی وہ سرخی ہے جو تاریخ کے چہرے کو نکھار بخشتی ہے۔ پسینہ اگر کسی ایک بھٹکے ہوئے انسان کو سیدھی راہ دکھا دے، تو سمجھو ہماری زندگی کی ریاضت ٹھکانے لگی۔ اب میں اپنی بات کو اس دعا پر سمیٹتا ہوں کہ میرا اور تمہارا رشتہ محض کاغذ اور روشنائی کا نہ رہے، بلکہ یہ روح اور شعور کا ایک ایسا ابدی سنگم بن جائے جو رہتی دنیا تک انسانیت کی آبیاری کرتا رہے۔ تم سلامت رہو گے تو میری سوچ زندہ رہے گی، تم بیدار رہو گے تو میرا ضمیر زندہ رہے گا۔
فقط،
تمہارا امانت دار اور رازداں،
رہبر تماپوری.
Comments
Post a Comment