ڈاکٹر حدیث انصاری کی بھیونڈی آمد پر ادبی نشست کا انعقاد۔
بھیونڈی: (راست) 15 اپریل 2026 کو ممتاز ادیب و نقاد ڈاکٹر حدیث انصاری (سابق صدر شعبہ اردو، موہن لال سکھاڈیا یونیورسٹی، اودے پور، راجستھان) کی بھیونڈی آمد کے موقع پر ان کے اعزاز میں ایک پُروقار ادبی نشست جناب ملک مومن کی رہائش گاہ پر منعقد کی گئی۔
اس ادبی محفل میں معروف شخصیت جناب غلام نبی مومن (سابق اردو افسر، بال بھارتی، پونے) نے خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر حدیث انصاری کا قلم نہایت رواں اور بامقصد ہے، اور وہ اب تک مختلف موضوعات پر آٹھ اہم کتابیں اردو ادب کو دے چکے ہیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں فضا ابنِ فیضی: شخصیت اور فن، یادگارِ عزیز اندوری اور تلاشِ فکر و فن خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
ڈاکٹر حدیث انصاری ایک ممتاز مترجم بھی ہیں۔ انہوں نے ہندی کے معروف افسانہ نگار یوگیندر ناتھ شکلا کے افسانچوں کا اردو ترجمہ کیا، جو بدلتے پیمانے کے عنوان سے 2022 میں شائع ہوا، جبکہ ان کے مزید تراجم بدلتا بھارت کے نام سے 2025 میں منظرِ عام پر آئے۔تقریب کے روحِ رواں جناب بلال مومن (سابق پرنسپل، صمدیہ کالج) نے مہمانِ خصوصی کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے بھیونڈی کی ادبی روایت اور موجودہ سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شہر کے شعرا کی قادرالکلامی کو اشعار کے حوالے سے پیش کیا، جسے سن کر ڈاکٹر حدیث انصاری بے حد متاثر ہوئے۔جناب اقبال مومن نے ڈاکٹر حدیث کی علمی و ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر حدیث انصاری نے بھی اقبال مومن کی کتاب آپ مسافر، آپ ہی منزل کی تعریف کرتے ہوئے ان کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔جناب رفیع انصاری نے بھی ڈاکٹر حدیث انصاری کی تصانیف پر اظہارِ خیال کیا اور ان سے ملاقات کو اپنے لیے باعثِ اعزاز قرار دیا۔تقریب کا ایک یادگار لمحہ وہ تھا جب مہمانِ خصوصی ڈاکٹر حدیث انصاری نے جناب غلام نبی مومن کو اپنی کتابوں کا سیٹ اور تحائف پیش کیے۔نشست کا اختتام جناب ملک مومن کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ انہوں نے مہمانوں کی پرتکلف میزبانی کی، جبکہ ان کے اہلِ خانہ نے بھی بہترین تواضع کا اہتمام کیا۔ مہمانانِ گرامی اس محبت اور خلوص سے بے حد متاثر ہوئے اور اس ادبی نشست کو اپنے سفر کی خوشگوار یاد قرار دیا۔
Comments
Post a Comment