آج بیڑ کی تمام سڑکیں جام ہو جائیں گی جلوس کلیکٹر آفس کی طرف کوچ کرے گا تاریخی منظر دیکھنے کو ملے گا۔ - سید فاروق احمد قادری۔


آج بیڑ کی تمام سڑکیں جام ہو جائیں گی جلوس کلیکٹر آفس کی طرف کوچ کرے گا تاریخی منظر دیکھنے کو ملے گا۔ -  
سید فاروق احمد قادری۔

اج جامع مسجد قیلہ کے مقام سے ایک تاریخی جلوس بعد نماز جمعہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے کلیکٹر افس جائے گا جو پرامن اور خاموشی کے ساتھ شہر سے گزرتا ہوا کلیکٹر افس پہنچے گا کیونکہ
مسلمان اپنے جائز حقوق پانچ فیصد—ریزرویشن، تعلیم، اسکالرشپ اور روزگار—کے لیے سڑکوں پر اتریں گے۔ یہ کوئی عام احتجاج نہیں، بلکہ برسوں کی محرومیوں کا جواب ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس احتجاج میں صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ ہندو اور دیگر طبقات کے سیاسی و سماجی رہنما بھی ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ یہ اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لڑائی کسی ایک مذہب کی نہیں، بلکہ انصاف اور برابری کی ہے۔
 قربانیاں ہماری، سوال ہماری شناخت پر
یہ کیسا المیہ ہے کہ جس قوم نے اس ملک کی آزادی کے لیے سب کچھ قربان کیا، آج اسی کی وفاداری پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ آزادی کی تحریک میں مسلمانوں کی جدوجہد ہو یا سرحدوں پر دی گئی قربانیاں—تاریخ اس کی گواہ ہے۔ مگر آج حالات یہ ہیں کہ مسلمان اپنی شناخت کے دفاع میں کھڑا نظر آتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم نے کیا دیا، سوال یہ ہے کہ ہمیں بدلے میں کیا ملا؟
آج کی سیاست نے رخ بدل لیا ہے۔ پہلے اتحاد اور ترقی کی بات ہوتی تھی، آج مذہب کی بنیاد پر صف بندی کی جا رہی ہے۔ ہندو-مسلم کے نام پر فضا کو اس طرح تقسیم کیا جا رہا ہے کہ اصل مسائل—تعلیم، روزگار، غربت—پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے فائدے کے لیے اس تقسیم کو ہوا دے رہی ہیں، اور عام آدمی اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔
مسلمانوں کی موجودہ حالت پر نظر ڈالیں تو تصویر اور بھی تشویشناک ہو جاتی ہے۔ سیاسی نمائندگی کم ہوتی جا رہی ہے، پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں آواز کمزور پڑتی جا رہی ہے، اور ٹکٹ دینے میں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب قیادت ہی نہیں ہوگی، تو مسائل کون اٹھائے گا؟
حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف باہر کی سیاست ہی ذمہ دار نہیں، اندرونی کمزوریاں بھی کم نہیں۔ کہیں قیادت کا فقدان، کہیں ذاتی مفاد—ان سب نے مل کر قوم کی اجتماعی طاقت کو کمزور کیا ہے۔
مگر اب وقت بدلنے کا ہے۔ بیڑ کی سڑکوں پر نکلنے والا یہ ہجوم صرف احتجاج نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے—
کہ اب خاموشی نہیں چلے گی،
اب حق مانگنے کا نہیں، لینے کا وقت آ گیا ہے۔
اگر آج بھی ہم نے اپنی آواز بلند نہیں کی، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
یہ صرف ایک دن کا احتجاج نہیں، بلکہ اپنے وجود، اپنے حق اور اپنی شناخت کی لڑائی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔