خوش آمدید صحافیو! - (کرناٹک بھر کے صحافیوں کوبیدر کہتاہے ویلکم) - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔
خوش آمدید صحافیو!
(کرناٹک بھر کے صحافیوں کوبیدر کہتاہے ویلکم) -
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔
میر ؔکرناٹکا ہمارا ہے
حق ہمارا ہی اُس نے جانا ہے
کے یوڈبلیو جے کاپسارا ہے
یعنی اپریل گیارہ بارا ہے
آج تگڈور جس کے صدرہیں یار
یونین پر اُنھیں کا سکّہ ہے
میرؔ چالیس واں یہ جلسہ ہے
جس کی مدت فقط دوروزہ ہے
جس کا سی ایم ہی افتتاح کریں
ایساکرناٹکا میں چرچا ہے
کنڑی، اُردو، مراٹھی یاہندی
ہر صحافی کا یاں اِجارہ ہے
شہر ِ بیدر صحافیوں کو سب
آج خوش آمدید کہتا ہے
یار! ہردئے سے اپنے دیکھوتو
وہ سواگت سبھی کا کرتاہے
ہم تو انصاف ہی کی بات کریں
روز اس کے لئے ہی جیناہے
کچھ مراعات ہم کو حاصل ہوں
جینے مرنے میں پھر ذرامزا ہے
ایشور ہوں، رحیم ہوں، ڈی کے
ساتھ لوگوں کے اِن کورہنا ہے
ووٹ جس بھی عوام سے لئے ہیں
دھندا پانی بھی اُن کا چلنا ہے
اس صحافت کا پیڑ بچ جائے
یہی گانا یہی ترانا ہے
آج آنند لیں گے دیوپا
والی، شرنپا کا یہ کہنا ہے
میرؔ گندھرو سینا کا”پبلک“
لوگ پڑھ کر کہیں گے سچا ہے
روز انگلش کاچھپتا ہے”پبلک....“
اس کا عبدالقدیر ”سینا“ ہے
میرؔ ایم اے علی صحافی ہیں
سب نے اُن کو مدیر مانا ہے
ہیں علی بابا سینئر سب کے
سرخ انھوں نے زمیں کوجانا ہے
ہیں سعید الحسن بھی ایڈیٹر
آج تینوں کی ایک دنیا ہے
ہیں حسینی،شجا ع الدیں بھی
منجو والا کی خبریں چھپنا ہے
ہیں مجاہد تو ڈاکٹر لیکن
ان کو خبریں مگر پڑھاناہے
اپا راؤ کہ حاجی اچھے ہیں
ششی شیمبلگی یار اچھا ہے
جلوہ لیکن امین الدیں کا
ہم نے تم نے سبھوں نے دیکھاہے
کیسے تقدیر یہ سیاسی ہو
اُس کو یوسف رحیم جانتا ہے
روز اخبار دیکھیں ”کے بی این..“
جس میں بندہ علیم ملتا ہے
جب تلک جرنلزم زندہ رہا
ہم بھی زندہ ہیں، دیش زندہ ہے
Comments
Post a Comment