چراغِ علم کی خاموشی: پروفیسر سید شاہ حسین نہری کے سانحۂ ارتحال پر چشتیہ کالج خلدآباد کی پُراثر تعزیتی نشست۔


خلد آباد (راست) معروف شاعرو ماہرِ لسانیات مرحوم پروفیسر سیدشاہ حسین نہری کے سانحۂ ارتحال پر ایک پُراثر تعزیتی نشست کا انعقاد 25/ اپریل 2026 بروز سنیچر کو اردو ایجوکیشن سوسائٹی، اورنگ آباد کے صدر جناب شیخ محمد ایوب صاحب اور جنرل سیکریٹری جناب عبد الوحید صاحب کی زیرِ سرپرستی وچشتیہ کالج خلدآباد کے پرنسپل پروفیسر سید آصف ذکریاکی زیر صدارت عمل میں آیا۔
اس موقع پر کالج کے پرنسپل پروفیسر سید آصف ذکریا نے مرحوم کی علمی، ادبی اور تدریسی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شاہ حسین نہری نے اپنی زندگی علم و ادب کی ترویج کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے 1971 میں بل بھیم کالج، بیڑ کے شعبۂ اردو سے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا، جبکہ اس سے قبل وہ معین العلوم اسکول، ریلوے اسٹیشن اورنگ آباد میں بحیثیت معلم خدمات انجام دے رہے تھے۔ تقریباً تیس برس تک بل بھیم کالج میں تدریسی فرائض انجام دینے کے بعد وہ وظیفۂ حسن پر سبکدوش ہوئے۔اس دوران محترمہ ثریا اقبال قریشی صدر شعبۂ اردو کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔
سبکدوشی کے بعد انہوں نے اورنگ آباد میں مستقل سکونت اختیار کی، جہاں ان کی علمی وابستگی برقرار رہی۔ مرحوم کو لسانیات، شاعری، فنِ عروض، بالخصوص مرثیہ اور رباعی جیسے اصناف پر گہری دسترس حاصل تھی۔ ان کی تصانیف میں "شب آہنگ"، "شب تاب"، "سامانِ تسکین"، "گل بدن کی یاد میں"، "شاہ بانی"، "رباعیاتِ شاہ"، "عروض، تقطیع اور بحریں" اور "گلکنج" جیسی اہم کتب شامل ہیں، جو اردو ادب میں ان کے علمی مقام کی آئینہ دار ہیں۔
اس موقع پر پرنسپل پروفیسر سید آصف ذکریا نے مرحوم کی یاد میں اپنا تحریر کردہ ایک پُراثر قطعہ بھی پیش کیا:
"دل میں یادوں کا چراغ اب بھی روشن ہے
چراغِ علم کی محفل مگر ویران سی ہے
بیتے موسموں کا سوگ اب بھی زندہ ہے
شاہ تو چلے گئے، ہر سمت خاموشی ہے"
نشست کے اختتام پر اردو ایجوکیشن سوسائٹی، اورنگ آباد کے ذمہ داران، چشتیہ کالج خلدآباد کے تدریسی و غیر تدریسی عملے اور تمام شرکاء نے مرحوم کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب کرے۔
اس نشست کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر صدیقی افروزہ، شعبۂ اردو و اظہار تشکر ڈاکٹر نازنیں سلطانہ نے انجام دیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سیدہ عرشیہ قادری، ڈاکٹر خان حمیدہ، ڈاکٹر شیخ شاںٔستہ و تمام علم دوست احباب موجود تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ