خودداری یا چاپلوسی؟ — بدلتے معاشرے کا اصل چہرہ۔ - از قلم : ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی۔۔ (اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد)


خودداری یا چاپلوسی؟ — بدلتے معاشرے کا اصل چہرہ۔ -   
از قلم :  ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد) 
رابطہ: 9325217306  

معاشرے کی پہچان صرف اس کی ظاہری ترقی سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے اخلاقی معیار سے ہوتی ہے۔ آج کا دور بظاہر ترقی، سہولت اور کامیابی کا دور ہے، لیکن اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس ترقی کے ساتھ ساتھ ہماری اقدار بھی خاموشی سے زوال کا شکار ہو رہی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد جنم لے چکا ہے۔ ایک طرف کامیابی کے بلند دعوے ہیں، تو دوسری طرف کردار کی کمزوری نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ وہ اصول جن پر کبھی انسان فخر کرتا تھا، آج وہی اصول بوجھ محسوس ہونے لگے ہیں۔
ماضی میں عزت کا معیار علم، دیانت اور کردار ہوا کرتا تھا۔ انسان اپنی خودداری کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھتا تھا۔ لیکن آج حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ چاپلوسی کو “سماجی مہارت” اور اصول پسندی کو “سخت مزاجی” سمجھا جانے لگا ہے۔
یہ تبدیلی محض رویوں کی نہیں بلکہ سوچ کے بدلنے کی علامت ہے۔
علامہ اقبالؒ نے خودی کا جو تصور پیش کیا، وہ آج بھی اتنا ہی بامعنی ہے:

؎ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے  
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے  

یہ اشعار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل طاقت انسان کی خودداری میں ہے، نہ کہ دوسروں کو خوش کرنے میں۔
اگر ہم موجودہ حالات کا گہرائی سے جائزہ لیں تو چند اہم مسائل سامنے آتے ہیں:
شخصیت کا زوال:  
چاپلوسی انسان کی شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ وہ اپنی اصل پہچان کھو دیتا ہے اور دوسروں کی رضا میں اپنی خودی قربان کر دیتا ہے۔
سچائی کا فقدان:  
جہاں خوشامد کو فروغ ملتا ہے وہاں سچ بولنے والے کم ہوتے جاتے ہیں۔ معاشرہ مصنوعی تعریف اور جھوٹی ستائش کا عادی بن جاتا ہے۔
میرٹ کی پامالی:  
جب ترقی کا دار و مدار قابلیت کے بجائے تعلقات اور چاپلوسی پر ہو تو اہل افراد پیچھے رہ جاتے ہیں اور نااہل لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں۔
انصاف کا بحران:  
ایسے ماحول میں فیصلے اصولوں پر نہیں بلکہ ذاتی پسند و ناپسند پر ہونے لگتے ہیں، جس سے معاشرتی توازن متاثر ہوتا ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے:  
“جس نے اپنی قدر پہچان لی، اس نے خود کو ذلت سے بچا لیا۔”

یہی مفہوم ایک شاعر نے یوں بیان کیا:

؎ جھک کے جو ملتے ہیں دنیا میں، وہ اکثر کھو جاتے ہیں  
جو خودی پر قائم رہتے ہیں، وہی سرخرو ہوتے ہیں  

یہ اشعار ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ وقتی فائدہ حاصل کرنا آسان ہے، لیکن مستقل عزت صرف اصولوں پر قائم رہنے سے ملتی ہے۔
اکبر الہ آبادی نے معاشرتی دوہرے معیار پر طنز کرتے ہوئے کہا:

؎ ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام  
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا  

یہ اشعار آج بھی ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں سچ بولنے والا تنقید کا نشانہ بنتا ہے اور خوشامد کرنے والا معتبر سمجھا جاتا ہے۔
آج سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو خودداری، سچائی اور اصول پسندی کا سبق دیں۔ انہیں یہ سمجھایا جائے کہ عزت مانگنے سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے حاصل ہوتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کہاں تک پہنچا، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنی عزت کے ساتھ وہاں تک پہنچا۔

؎ متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے  
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے  

یہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو ہر حال میں باوقار رکھتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ